پاکستان میں گندم، آٹا اور روٹی مہنگی ہونے کا خطرہ


آنے والے دنوں میں مہنگائی کے بوجھ تلے دبے پاکستانیوں کی مالی مشکلات میں مزید اضافے کا امکان ہے کیونکہ گندم، آٹا اور روٹی تینوں مہنگے ہونے جا رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے گزشتہ برس کی نسبت پاکستان کو رواں برس گندم کی زیادہ قلت کا سامنا ہے۔ ملک میں اس برس مقررہ ھدف سے 74 لاکھ میٹرک ٹن کم گندم حاصل ہوگی جس کے بعد گندم کی درآمد نا گزیر ہوچکی ہے ۔ ڈالر کی قدر میں اضافے اور دنیا میں گندم مہنگی ہونے کی وجہ سے ماہرین نے یقین ظاہر کیا ہے کہ اس سال پاکستانیوں کو گندم پہلے سے بھی زیادہ مہنگی ملے گی۔
پاکستان میں پنجاب اور سندھ گندم پیدا کرنے والے دو بڑے صوبے ہیں اور ملک میں گندم کی ضرورت پورا کرنے کے لیے ان دونوں صوبوں کی پیداوار پر انحصار کیا جاتا ہے۔ یہاں کے کاشتکاروں مطابق اس سال ان کی گندم کی پیداوار تقریباً 25 سے 30 فیصد کم رہی۔ اُنھوں نے بتایا کہ علاقے کے تقریباً ہر زمیندار اور کاشتکار کو اس سال گندم کی پیداوار میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ رواں سال گندم کی مجموعی پیداوار کا ہدف دو کروڑ 29 لاکھ میٹرک ٹن لگایا گیا تھا جبکہ متوقع پیدوار دو کروڑ 26 لاکھ میٹرک ٹن تک ہو گی۔ گندم کی ملکی سطح پر مجموعی کھپت کا تخمینہ تین کروڑ میٹرک ٹن لگایا گیا ہے۔تیل کی قیمتوں میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلی یعنی وقت سے پہلے گرمی کی شدت میں اضافہ بھی گندم کے طے شدہ ہدف کے حصول میں بڑی رکاوٹ رہے۔

زمیندار ملک احمد خان نے بتایا کہ مارچ کے مہینے میں گندم کی فصل کو تقریباً 25 سے 30 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ گندم کے دانے کی نمو بھی ہوتی رہے اور وہ پکتا بھی رہے تاہم اس سال مارچ کے مہینے میں درجہ حرارت میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ 30 سے اوپر جا کر 35 اور 38 سینٹی گریڈ تک چلا گیا۔اس سے گندم کی فصل تو جلدی پک گئی لیکن دانے کی نمو نہیں ہوئی اور وہ چھوٹا رہ گیا جس کی وجہ سے کم پیداوار ہوئی۔

ماہر اجناس شمس الاسلام نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ موسمیاتی حالات کے علاوہ حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت میں تاخیر بھی کم پیداوار کا باعث بنی۔ اُنھوں نے کہا کہ امدادی قیمت کا اعلان فصل کی بوائی سے پہلے کیا جاتا ہے تاکہ کسان کو اس میں فائدہ نظر آئے تو وہ زیادہ رقبے پر اس کی کاشت کرے۔ مقامی ضرورت کے مقابلے میں گندم کی کم پیداوار کی وجہ سے وفاقی کابینہ نے ملک میں 30 لاکھ گندم کی درآمد کی منظوری دی ملک کو گندم کی درآمد ایک ایسے وقت میں کرنی پڑ رہی ہے جب دنیا میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کی وجہ سے گندم کی عالمی قیمتیں اپنی بلند ترین سطح پر موجود ہیں کیونکہ دنیا میں گندم سپلائی کرنے والے دونوں بڑے ملک یوکرین اور روس ہی ہیں۔

پاکستان کو درآمدی گندم اس لیے بھی مہنگی پڑ سکتی ہے کہ ایک طرف ملک میں زرِمبادلہ کے ذخائر نیچے کی طرف گامزن ہیں تو دوسری جانب پاکستانی روپے کی ڈالر کے مقابلے میں گرتی ہوئی قیمت درآمدی گندم کو پاکستانیوں کے لیے مزید مہنگا کر دے گی۔ پاکستان کو اس سال ایک ایسے وقت میں گندم درآمد کرنا پڑے گی جب دنیا میں گندم کی قیمتیں بلند ترین سطح پر موجود ہیں۔ اس وقت ایک ٹن گندم کی قیمت عالمی منڈی میں 425 ڈالر کی سطح پر موجود ہیں اور اس میں ترسیل کے اخراجات شامل کرنے سے اس کی پاکستان میں درآمدی قیمت 450 ڈالر فی ٹن تک پڑے گی۔ پاکستان میں اس وقت روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ایک ڈالر کی قیمت 190 روپے کی حد بھی عبور کر چکی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے پاس اس وقت ڈالرز کی شدید کمی ہے جو کہ درآمدات اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے درکار غیر ملکی کرنسی ہے۔

موجودہ سال کے شروع میں عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمت مستقبل کے سودوں میں 365 ڈالر فی ٹن کے حساب سے دستیاب تھی جو اب 425 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ملک میں اس وقت عام بازاروں میں آٹے کی قیمت 70 روپے فی کلو، فائن آٹا 75 سے 80 روپے فی کلو اور چھوٹی چکیوں پر بکنے والا آٹا 80 روپے فی کلو میں دستیاب ہے،شمس الاسلام نے بتایا کہ اس وقت 52 سے 53 روپے فی کلو کے حساب سے گندم فلور ملز کو دی جا رہی ہے۔

فلور ملز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین عبد الرؤف مختار نے بتایا کہ اس وقت مقامی گندم 2300 سے 2350 روپے فی من کے حساب سے دستیاب ہے۔اُنھوں نے کہا کہ اس سیزن میں بھی گندم مہنگی ہوئی ہے جس کا اثر آٹے کی قیمت پر پڑ رہا ہے۔ جب درآمدی گندم زیادہ مہنگے دام ملک میں پہنچے گی تو اس پر حکومت سبسڈی تو دے گی تاہم پھر بھی قیمت بڑھنے کا امکان ہے۔ زرعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے پاکستان کے عوام اس سال مزید مہنگی روٹی ، نان اور ڈبل روٹی کھانے کے لئے تیار رہیں کیونکہ موسمی تبدیلیوں اور ڈالر کی اونچی پرواز کی وجہ سے ایسا ہونا ناگزیر ہے.

Related Articles

Back to top button