پاکستان نے جہادی کو بچانے کے لئے چین سے مدد کیوں مانگی؟


اقوام متحدہ میں ایک بار پھر جہادی تنظیم لشکر طیبہ سے منسلک پاکستانی شہری ساجد میر کو بلیک لسٹ کرنے کی امریکی اور بھارتی کوشش چین نے ناکام بنا دی ہے حالانکہ پاکستان کافی عرصہ پہلے لشکر طیبہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے اور اس کے بانی حافظ سعید بھی سات سال قید کی سزا پانے کے بعد زیر حراست ہیں۔ ایسے میں سفارتی حلقوں میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ چین نے پاکستانی شہری کو بچانے کے لئے ایک بار پھر اپنا اثر رسوخ کیوں استعمال کیا۔ سفارتی حلقوں کے لیے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی پابندیوں کی گرے لسٹ سے نکلنے کی کوششوں میں مصروف پاکستان ایک مبینہ دہشتگرد کو بچانے کے لیے چین کی مدد لے گا اور اپنا کیس خراب کرے گا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں چین پاکستان کے ایما پر ہی مولانا مسعود اظہر اور حافظ سعید کو اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دینے کی کوششوں کو ویٹو کرتا رہا ہے۔

جہاں تک ساجد میر کا تعلق ہے تو موصوف 2008 کے خوفناک ممبئی حملے کے مرکزی ملزمان میں سے ایک ہیں۔ اس حملے میں کئی امریکی شہری بھی مارے گئے تھے۔ چنانچہ ساجد میر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دینے کے لیے امریکہ اقوام متحدہ میں تجویز لایا تھا اور انڈیا نے اس کی حمایت کی تھی۔ لیکن چین نے ’ویٹو‘ کی طاقت استعمال کرتے ہوئے اس تجویز کو رد کر دیا ہے۔چین نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ‘1267 کمیٹی’ کے قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی میں ایک ذمہ دار رکن کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔قرارداد کے تحت ساجد میر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 کمیٹی کے تحت ’بین الاقوامی دہشت گرد‘ قرار دیا جانا تھا۔

انڈیا اور امریکہ کی جانب سے ساجد میر کے عالمی سفر پر پابندی لگانے اور ان کے اثاثے منجمد کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن ایسا کرنے کے لیے سلامتی کونسل کی پابندیوں کی کمیٹی کے تمام 15 ارکان کا متفق ہونا لازمی ہے۔ گذشتہ چار ماہ میں یہ چوتھا موقع ہے کہ چین نے ایسا قدم اٹھایا ہے۔ گذشتہ ماہ امریکہ اور انڈیا کی جانب سے پاکستان کے متنازع مذہبی رہنما مولانا مسعود اظہر کے بھائی ابوالرؤف اصغر عرف عبدالرؤف اظہر کو اقوام متحدہ کی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز سامنے آئی تھی جس کی چین نے مخالفت کی تھی۔ ساجد میر انڈیا کی ‘انتہائی مطلوب افراد’ کی فہرست میں شامل ہیں اور امریکہ نے ان کے سر پر 50 لاکھ ڈالر کا اعلان کیا ہوا ہے۔ بیجنگ میں چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے معمول کی پریس بریفنگ میں ایک انڈین صحافی کے سوال کے جواب میں کہا کہ ‘کمیٹی کے پاس دہشت گرد تنظیموں اور افراد کی نامزدگی اور متعلقہ طریقہ کار کے حوالے سے واضح رہنما اصول ہیں۔
چین ہمیشہ قوانین اور طریقہ کار کے مطابق تعمیری اور ذمہ دارانہ انداز میں کمیٹی کے کام میں حصہ لیتا ہے۔رواں سال جون میں پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ساجد میر کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمے میں 15 سال قید کی سزا سنائی تھی اور وہ اس وقت جیل میں بند ہیں۔ساجد میر کے بارے میں پاکستان کے رویے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ پاکستان نے اچانک 21 اپریل 2022 کو ساجد میر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا اور 16 مئی 2022 کو انھیں سزا سنائی گئی اور لاہور کی کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا گیا۔ ساجد میر امریکہ اور انڈیا کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان پر 2008 کے ممبئی حملوں کا مرکزی سازشی ہونے کا الزام ہے اور امریکہ نے ان کے سر کی 50 لاکھ ڈالر قیمت رکھی ہوئی ہے۔

انڈیا کی وزارت خارجہ نے اس پر براہ راست کوئی ردعمل نہیں دیا لیکن ساجد میر کی سزا کے وقت کے بارے میں سوالات اٹھائے۔ انڈیا نے سرکاری طور پر کہا تھا کہ پاکستان کی یہ کارروائی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے معاملے میں مغربی ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی نیت سے کی گئی ہے۔ پاکستان پیرس میں قائم ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر آنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایف اے ٹی ایف دنیا بھر میں منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے اہم پالیسی ساز ادارہ ہے۔

گذشتہ سال جون میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد رواں سال جون میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگرچہ پاکستان نے اپنے تمام اہداف مکمل کر لیے ہیں لیکن فیٹف کی ٹیم پاکستان کا دورہ کر کے اس بات کا تعین کرے گی کہ اس نے سفارشات پر عمل کیا ہے یا نہیں۔ ایف اے ٹی ایف کی ایک ٹیم پچھلے ماہ پاکستان کا دورہ کر کے واپس جا چکی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اب پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال کر وائٹ لسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔ تاہم ساجد میر جیسے دہشت گردوں کی حمایت پاکستان کا کیس خراب کر سکتی ہے۔

Related Articles

Back to top button