پاکستان کو تباہ کرنے والا عمران اب کس منہ سے اقتدار چاہتا ہے؟


معروف لکھاری اور تجزیہ کار خالد جاوید جان نے کہا ہے کہ پاکستان کو تاریخی معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچانے والے عمران خان اور اسکے سرپرست ہیں، جو ملک کو اپنی مچائی ہوئی تباہی سے نکالنے میں مددگار بننے کی بجائے موجودہ سنگین صورتِ حال کو مزید تباہ کن بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اپنی حکومت کے پونے چار سال میں نا اہلی اور ناکامی کے نئے ریکارڈ بنانے کے باوجود خان صاحب نجانے کس منہ سے دوبارہ اقتدار میں آنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

اپنی معروف انقلابی نظم ‘میں باغی ہوں’ سے شہرت حاصل کرنے والے خالد جاوید جان تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ 25 مئی کو اسلام آباد میں عمران نیازی کے فاشزم کی یلغار المعروف حقیقی آزادی مارچ کے دوران جو خوفناک مناظر دیکھنے میں آئے وہ اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھے گئے۔ لاقانونیت، گھیرائو جلائو اور توڑ پھوڑ کے ایسے دلخراش واقعات کے بعد ہر پاکستانی اس تشویش میں مبتلا ہے کہ ہم کدھر جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو معاشی تباہی سے دوچار کرنے کے بعد اب عمران احتجاج اور دھرنوں کے ذریعے رہی سہی کسر بھی پوری کرنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ حکومتوں نے 71 برسوں میں تقریباً 25 ہزار ارب روپیہ قرضہ لیا جبکہ عمران نے صرف پونے چار سال میں اس قرضے میں 20 ہزار ارب کا اضافہ کیا۔ سابقہ حکومتوں نے اس قرضے سے ایٹمی پروگرام، میزائل پروگرام، موٹروے اور بجلی کے کارخانے لگائے لیکن تاریخ میں سب سے زیادہ قرضہ لینے والے کے کریڈٹ پر کوئی ایک بھی قابلِ ذکر منصوبہ نہیں ہے حالانکہ موصوف نے ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ بیرونِ ملک سے لوگ نوکریاں لینے پاکستان آیا کریں گے۔ لوگوں کو نوکریاں اور گھر دینے کا وعدہ کرنے والے عمران نے اقتدار میں آ کر نہ صرف لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کیا بلکہ جن کے پاس سر چھپانے کے لیے کرائے کی چھتیں تھیں، انہیں ان سے بھی محروم کردیا۔ موصوف نے بیرونِ ملک سے شہزاد اکبر، شہباز گِل، زلفی بخاری اور ان جیسے کئی ’’امپورٹڈ‘‘ چمچوں کو اس قوم کے خزانے پر مسلط کر دیا۔

بقول خالد جاوید جان، خان صاحب نے کرپشن ختم کرنے کے نعرے کو اس طرح عملی جامہ پہنایا کہ انٹر نیشنل ٹرانسپیرنسی کے مطابق پاکستان میں 23 درجے کرپشن میں اضافہ ہو گیا اور اس کا انڈکس 117 سے بڑھ کر 140 ہو گیا۔ عمران نے پنجاب میں ایک نا اہل اور گمنام شخص عثمان بزدار کو اپنے سر پرستوں اور بہی خواہوں کے مشوروں کے بر خلاف صرف اس لیے وزیرِ اعلیٰ بنا دیا کہ اپنی اہلیہ کی قریبی دوست فرح گوگی کو پنجاب کے سیاہ و سفید کا مالک بنایا جا سکے جس نے بزدار کے ساتھ ملکر ملکی خزانے کو بے دریغ لوٹا۔

انتظامی امور میں تباہی کا یہ عالم تھا کہ سرکاری ملازمین سے پیسے لے کر ہزاروں کی تعداد میں تبادلے کیے گئے۔ جس سے ملک کا انتظامی ڈھانچہ تباہ ہو کر رہ گیا۔گندم، چینی، گیس، ادویات، فارن فنڈنگ، بلین ٹری، مالم جبہ اور پشاور میٹرو جیسے منصوبوں کی خوفناک کرپشن کو دبا کر نہ صرف قومی خزانے کو لوٹا بلکہ اپنے سیاسی مخالفین کو جھوٹے مقدمات میں موت کی چکیوں میں قیدرکھا۔ عمران کی جاہلانہ پالیسیوں نے پاکستان کے خارجہ تعلقات کو تباہ و برباد کردیا۔ انہوں نے سعودی عرب اور چین سے تعلقات خراب کیے، اور سی پیک منصوبے کو تقریباًروک دیا۔ ملک میں جابرانہ قوانین کے تحت پریس اور میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کردیں اور تمام قابلِ ذکر صحافیوں کو روزگار سے محروم کردیا۔ انکا کہنا ہے کہ عمران کی ذاتی ایمانداری جس کا بہت زیادہ پرچار کیا گیا تھا، یوں سامنے آئی کہ توشہ خانہ سے معمولی قیمت پر چیزیں خرید کر انہیں بازار میں مہنگے داموں فروخت کردیا اور پوچھنے پر شرمندہ ہونے کی بجائے یہ کہہ دیا کہ ’’میرے تحفے میری مرضی‘‘۔

خالد جاوید جان کہتے ہیں کہ سونے پر سہاگا یہ کہ جب عمران کو ایک آئینی طریقے سے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے معزول کیا گیا تو پارلیمنٹ کا فیصلہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے انہوں نے مرکز اور پنجاب میں ایسی ننگی آئین شکنی کی جسکی مثال نہیں ملتی۔
لیون ٹراٹسکی اپنی کتاب ’’ فاشزم کیا ہے اور اس سے کیسے لڑا جائے‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’ فاشسٹ کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ انتہائی جھوٹا ہوتا ہے اور اپنی مرضی کے علاوہ کسی قانون کو نہیں مانتا اور اقتدار کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار رہتا ہے‘‘۔ بالکل اسی طرح عمران خان نے اچانک امریکی سازش اور مدینے کی ریاست کا ذکر کرنا شروع کردیا۔ اب وہ چاہتا ہے کہ آئین، انتظامیہ، فوج، الیکشن کمیشن غرض ہر ادارہ اسکے تابع ہو اور انتخابات اس کی مرضی کے مطابق ہوں۔ اسکی تقریر کے دوران اسکا آئین شکن ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کہتا ہے ’’خان صاحب مذہبی ٹچ بھی دیں‘‘ یعنی موصوف مذہب کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی مکروہ کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن خالد جاوید جان شکر ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عوام نے عمران کے فاشزم کو حکومت اور اپوزیشن دونوں حیثیتوں میں دیکھ لیا ہے اور اس کے لانگ مارچ کو ناکام کرکے ثابت کر دیا ہے کہ خان کے فاشزم کی اس یلغار کے سامنے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔

Related Articles

Back to top button