پاکستان کی معاشی ناکامی عمران کی سیاسی زندگی کیوں ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ پونے چار سال تک پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کرنے والے عمران خان کو حکومت سے نکال کر اور بھی بڑا لیڈر بنا دیا گیا ہے لیکن انکی جگہ اقتدار حاصل کرنے والی پی ڈی ایم حکومت عمران دور میں مچائی جانے والی تباہی کی وجہ سے مہنگائی کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، دوسری جانب عمران خان تباہ حال پاکستانی معیشت کو اور بھی برباد ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی سیاست کیلئے شہباز حکومت کا معاشی طور پر ناکام ہونا سوٹ کرتا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں انصار عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ابتر معاشی حالات کو سیلاب کی تباہ کاریوں نے بدتر کر دیا ہے۔ اقتصادی میدان میں پاکستان کو قومی یکجہتی اپنانے کی ضرورت ہے جس کے بغیر ہم اس مشکل سے نہیں نکل سکتے۔ لیکن افسوس کہ سیاستدانوں کیلئے اُن کے اپنے اپنے سیاسی مفادات سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں اور اسی طرز عمل اور طرز سیاست کا مظاہرہ ہم مسلسل دیکھ رہے ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ پاکستان کی معیشت کو تباہ حالی کا سامنا ہے، یہ بھی سب جانتے ہیں کہ معیشت کی تباہی کا مطلب ہے پاکستان کیلئے بیرونی خطرات اور اندرونی انتشار جبکہ عوام کو بھی ناقابلِ بیان مشکلات کاسامنا ہوگا۔
مگر سیاست دانوں کی حالت دیکھیں کہ اُنہیں صرف اپنے اقتدار سے دلچسپی ہے اور اسی کے گرد اُن کی ساری سیاست گھومتی ہے۔ ن لیگ کا وہ دھڑا جو حکومت میں ہے اور جسے وزیر اعظم شہباز شریف لیڈ کر رہے ہیں اُس کی معیشت کے بارے میں بات سنیں تو وہ کچھ اور کہتا ہے جبکہ اسی جماعت کا ناراض دھڑا جس کی نمائندگی نواز شریف اور مریم نواز کر رہے ہیں، وہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کی کھلے عام مخالفت کرتا نظر آتا ہے۔ جس ن لیگ کا معیشت کے بارے میں اپنے اندر اتفاق نہیں اور جس کے حکومت سے باہر بڑے بڑے رہنما معیشت پر اپنی ہی حکومت سے سیاست کر رہے ہیں، وہ جب میثاق معیشت کی ضرورت پر زور دے اور رکاوٹ کا الزام اپنے سیاسی مخالفین پر عائد کرے تو اُس پر کوئی کیسے اعتبار کرے۔؟
انصار عباسی کہتے ہیں کہ کوئی اگر یہ کہے کہ نواز شریف اور مریم کو یہ اندازہ نہیں کہ پاکستانی معیشت کو سیاسی نعروں اور مصلحتوں کی بجائے ٹھوس اور مشکل اقدامات سے ہی بچایا جا سکتا ہے تو ایسا ممکن نہیں۔ اُنہیں معلوم ہے کہ معیشت کی بنیادیں ٹھیک کئے بغیر اقتصادی صورتحال بہتر کرنا ممکن نہیں اور اس کیلئے مشکل فیصلوں کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں، لیکن ایسا کرنا چونکہ اُنکی سیاست کو سوٹ نہیں کرتا، اور اُنہیں عوامی طور پر غیر مقبول کرتے ہوئے اُن کیلئے آئندہ الیکشن میں مشکلات کا سبب بن سکتا ہے اس لئے وہ اپنی سیاست کو بچانے کیلئے معیشت پر ویسی ہی سیاست کر رہے ہیں جس کا الزام وہ عمران خان پر لگاتے ہیں۔
جب سب کو معلوم تھا کہ عمران خان حکومت کو نکالا تو معاشی مشکلات کا ایسا سامنا ہوگا جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی تو کیا تب اقتدار کی ہوس نے ن لیگ سمیت اس کے اتحادیوں کی عقل پر پردہ ڈال دیا تھا۔ اب رونے دھونے کا کیا فائدہ؟ انصار عباسی کہتے ہیں کہ دراصل چار سال تک پاکستان کی معاشی تباہی کرنے والے عمران خان کو حکومت سے نکال کر بڑا لیڈر بنا دیا گیا ہے۔ اگر پی ڈی ایم والوں نے عمران خان کو نکالنا ہی تھا تو اقتدار کی ہوس پر تھوڑا قابو پاتے اور فورا نئے الیکشن کروا دیتے لیکن فیصلہ یہ کیا گیا کہ ہم حکومت میں رہیں گے اور سب کچھ ٹھیک کر دیں گے۔ لیکن کچھ بھی تو ٹھیک ہو نہیں رہا اور یہ پھر بھی اقتدار سے چپکے بیٹھے ہیں۔
بقول انصار عباسی یہ بھی درست ہے کہ پاکستان کی معاشی تباہ حالی کی بنیاد عمران خان نے اپنی حکومت میں رکھی اور آج سارا ملبہ اپنے مخالفوں پر ڈال کر ایک ہی رٹ لگا رکھی ہے کہ نئے الیکشن کراو۔ انکے بقول اپنے دور حکومت میں سیاسی عدم استحکام کا سب سے بڑا ذریعہ عمران خود بنے رہے، وہ پونے چار برس تک اپنے مخالفیں سے لڑتے اور انہیں چور ڈاکو قرار دیتے رہے، اتنا زور وہ پاکستانی معیشت بہتر کرنے پر لگاتے تو آج صورت حال مختلف ہوتی۔ اب موصوف کہتے ہیں کہ معاشی استحکام لانے کیلئے سیاسی استحکام ضروری ہے اور اُس کا فوری اور واحد حل الیکشن ہی ہیں۔ عمران خان معیشت پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ کہتے ہیں پہلے الیکشن کا اعلان کرو پھر کوئی دوسری بات کرو۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ ملک میں نئے الیکشن کروانے کا مطلب کم از کم تین چار مہینے ہے، وہ بھی اگر آج نئے انتخابات کا اعلان کر دیا جائے۔ اگر عمران خان نئے انتخابات سے پہلے انتخابی اصلاحات اور نئے الیکشن کمیشن کا اپنا مطالبہ منوانا چاہتے ہیں تو پھراس کا مطلب یہ ہوا کہ جلد از جلد انتخابات کو بھی پانچ چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔سرِ دست ملک کی جو معاشی حالت ہے اُسے فوری علاج کی ضرورت ہے اور چند مہینوں کے انتظار کا مطلب مکمل تباہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کو اپنی سیاست کیلئے موجودہ حکومت کا معاشی طور پر ناکام ہونا سوٹ کرتا ہے ۔ موجودہ حکومت کی معاشی ناکامی اور آسمان کو چھوتی مہنگائی، عمران کو الیکشن تو جتوا دے گی لیکن اگر ملکی معیشت کو درست کرنے کیلئے فوری اقدامات نہ کئے گئے اور معیشت کو سیاست سے بالاتر رکھ کر کوئی متفقہ لائحہ عمل وضع نہ کیا گیا تو عمران کو الیکشن جیتنے پر جو معیشت ملے گی وہ اُنہیں بھی حکمرانی کے قابل نہیں چھوڑے گی۔ اس لئے اب بھی وقت ہے ،حکمران ہوں، ن لیگ کا ناراض دھڑا، عمران یا دوسرے سیاست دان، سب مل کر ملک کا سوچیں، عوام کا خیال کریں اور معیشت پر سیاست بند کریں۔

Related Articles

Back to top button