پرویز الٰہی کا سیاسی جوا، جو ان کے کیریئر کو لے ڈوبا


عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے والی حزب اختلاف سے ہاتھ ملا کر وزارت اعلیٰ کی یقین دہانی حاصل کرنے والے چوہدری پرویز الٰہی نے اپنے سیاسی کیریئر کی سب سے بڑی غلطی تب کی جب انہوں نے آخری وقت پر مونس الٰہی کے ایما پر اپوزیشن کو دھوکا دے کر عمران سے وزارت اعلیٰ لینے کا فیصلہ کیا۔ تاہم ان کا یہ سیاسی جوا بری طرح ناکام ہوا اور اب وہ وزارت اعلی ٰتو دور کی بات، پنجاب کی سپیکر شپ سے بھی ہاتھ دھو چکے ہیں۔ پرویز الٰہی کے اس سیاسی بلڈر کے اثرات چوہدری خاندان پر بھی مرتب ہوئے ہیں اور اب شجاعت حسین اور پرویز الٰہی ایک سیاسی کشتی کے سوار نہیں رہے۔ مونس الٰہی اب بھی عمران کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ چودہری شجاعت حسین کے بیٹے سالک حسین حکومتی اتحاد کا حصہ بن چکے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود حمزہ شہباز کے ہاتھوں وزارت اعلیٰ کے الیکشن میں شکست کھا کر میدان سے باہر ہو جانے والے 75 سالہ پرویز الہٰی نے اپنے کیریئر کے آخری حصے میں ایسی فاش غلطی کی ہے کہ اب ان کی سیاست بھی ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ بظاہر پرویز الٰہی نے تمام سیاسی جماعتوں کو نظر انداز کر کے اپنا پورا سیاسی وزن تحریک انصاف کے پلڑے میں ڈال دیا مگر پھر بھی تحریک انصاف کی حکومت کو 2018 کے برعکس یہاں چوہدری پرویز الٰہی کی اس حمایت کے کوئی خاطر خواہ نتائج نہیں ملے۔
جنرل ضیاالحق اور پرویز مشرف کے فوجی دور سمیت مختلف حکومتوں کا حصہ رہنے والے پرویز الٰہی نے وزیراعلیٰ کے الیکشن کے روز عمران خان کی طرح شکست سے بچنے کے لیے جو اوچھے ہتھکنڈے اپنائے ان سے موصوف کی سیاسی ساکھ بھی بری طرح مجروح ہوئی ہے۔ جو مناظر 16 اپریل کو پنجاب اسمبلی میں نئے وزیرِ اعلیٰ کے الیکشن کے لیے بلائے گئے اجلاس کے دوران دیکھنے کو ملے وہ گجرات کے چوہدری کی رواداری، سیاسی روایات اور سماجی اقدار سمیت ان کے مستقبل کے سیاسی منظر نامے سے متعلق بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چوہدری پرویز الٰہی کے اس ’ایڈونچر‘ نے چوہدریوں کی سیاست کو نیا رخ دیا ہے یا پھر بند گلی کی طرف دھکیل دیا ہے۔
پرویز الہٰی اور ق لیگ کے سیاسی مستقبل پر بحث سے قبل ان کی حالیہ سیاسی بحران پر اہمیت اور کردار پر نظر دوڑانا بھی ضروری ہے کہ کیسے انھوں نے اتار چڑھاؤ اور بھاؤ تاؤ کے بعد بظاہر قدرے مشکل سیاسی سفر کا انتخاب کیا ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق جب اپوزیشن جماعتیں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے کر آئیں تو انھوں نے سب سے پہلے حکومتی اتحادیوں میں سے گجرات کے چوہدریوں کے پاس جانا مناسب سمجھا، جس کے بعد ملاقاتوں کا ایک دور شروع ہو گیا۔ آئے روز میڈیا میں یہ خبریں گردش کرتی رہیں کہ اپنے مستقبل کے سیاسی فیصلے سے متعلق ق لیگ یعنی چوہدری برادران نے مشاورت شروع کر دی ہے۔ مشاورت کا یہ عمل طویل تر ہوتا ہو گیا۔ اس دوران پرویز الہٰی نے عمران خان کی طرز سیاست پر ایک ٹی وی انٹرویو میں متعدد سوالات بھی اٹھائے اور انھیں حاصل اسٹیبلشمنٹ کی مدد پر خوب جملے کسے۔ اس انٹرویو کے بعد چوہدری پرویز الٰہی اچانک اسلام آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہو گئے مگر ان کا یہ بیان بھی میڈیا کی زینت بنا کہ ابھی انھوں نے حکومتی اتحاد کو چھوڑا ہے اور نہ وہ اپوزیشن کا حصہ بنے ہیں۔
اس بیان سے عمران خان کی حکومت میں اہم اتحادی جماعت سے متعلق جو شکوک و شبہات اور بے چینی پائی جاتی تھی وہ وقتی طور پر تھم گئی۔ ملک میں جاری اس سیاسی جوڑ توڑ کے دوران آصف زرداری کی حکمت عملی نے کام کیا اور شہباز شریف نے 35 برس کے بعد چوہدریوں کے گھر جا کر پرویز الٰہی کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی پیشکش کر دی۔
میڈیا پر اس ملاقات کے چرچے ہوئے اور شرکا کے ردعمل سے ہر کسی نے یہ اندازہ لگایا کہ بات بن گئی ہے، معاملات طے پا گئے ہیں اور اب چوہدری پرویز الٰہی نئے وزیراعلیٰ پنجاب ہوں گے۔
اس تاثر کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ن لیگ کے وفد سے ملاقات کے بعد پرویز الٰہی ایک وفد کی صورت میں رات گئے آصف علی زرداری کے گھر تشریف لے گئے۔ تاہم اگلی صبح پرویز الٰہی بنی گالہ پہنچ گئے اور یوں ان کی اس وقت کی متحدہ اپوزیشن سے دوری پیدا ہو گئی۔ پرویز الٰہی نے عمران خان کی طرف سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی آفر قبول کر لی۔ بنی گالا میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ق لیگ کے سینئر رہنما کے حق میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔
ق لیگ یا چوہدری پرویز الٰہی نے اس بارے میں میڈیا پر آ کر کوئی بات نہ کی مگر سابق صدر آصف زرداری نے سب سے پہلے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پرویز الٰہی کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ آفر کی گئی تھی مگر انھوں نے بنی گالہ کو اپنی نئی سیاسی منزل بنا لیا۔
جیو ٹی وی کو ایک حالیہ انٹرویو میں آصف زرداری نے کہا کہ رات کو پرویز الٰہی انھیں مٹھائی پیش کر کے گئے کہ ن لیگ سے وزارت اعلیٰ سے متعلق معاملات طے پا گئے ہیں مگر صبح پھر وہ بنی گالہ پہنچ گئے۔ اس کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’پرویز بھائی ان سے سینئر ہیں، ان کا اپنا یہ سیاسی فیصلہ تھا، شاید جب اولاد بڑی ہو جاتی ہے تو مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔‘ زرداری کا اشارہ مونس الٰہی کی طرف تھا کہ انھوں نے پرویز الٰہی کو یہ فیصلہ بدلنے پر مجبور کیا۔ مونس الٰہی نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
خیال رہے کہ زرداری نے ق لیگ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ حکومتی اتحاد چھوڑنے کی صورت میں وہ ن لیگ کو پرویز الٰہی کی وزارت اعلیٰ پر آمادہ کریں گے، جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی اپنے منصب کا حلف اٹھانے کے بعد سینئر صحافیوں سے ملاقات میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پرویز الٰہی کو ان کی جماعت نے وزارت اعلیٰ کی پیشکش کی تھی جو انھوں نے تسلیم کر لی تھی مگر پھر پتا نہیں ایسا کیا ہوا کہ وہ دوسرے رستے پر چل پڑے۔بظاہر یہ دوسرا رستہ پرویز الٰہی کے لیے زیادہ سیاسی تباہی کا راستہ ثابت ہوا ہے۔
چوہدری پرویز الٰہی بطور سپیکر پنجاب اسمبلی اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے دو ہفتوں سے وزیراعلیٰ کا الیکشن لٹکتے چلے آرہے تھے لیکن پھر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد 16 اپریل کو یہ الیکشن منعقد ہوگیا۔ اپنی یقینی شکست کو بھانپتے ہوئے پرویز الٰہی نے تمام تر اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ اسمبلی اجلاس کے دوران ڈپٹی سپیکر پر حملہ کیا گیا، لوٹے پھینکے گئے اور ان پر تشدد بھی کیا گیا۔ بالآخر وہ خود بھی مبینہ طور پر تشدد کا شکار بنے۔
ان کی ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں، جس میں انھوں نے اپنے ایک بازو پر پلستر کروا رکھا ہے اور کہہ رہے ہیں کہ وہ شدید تشدد کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں۔ لیکن مسلم لیگ کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے اس بارے میں ٹوئٹر پر لکھا کہ انھوں نے پرویز الٰہی کو گھر جا کر پنجاب کی وزارت اعلیٰ آفر کی جسے انھوں نے نہ صرف تسلیم کیا بلکہ دعائے خیر بھی ہوئی۔ مگر پھر اگلے ہی دن وہ عمران کے پاس چلے گئے۔ ہم نے پرویز الٰہی کو گھر جا کر پنجاب کی وزارت اعلیٰ آفر کی جو مانی گئی دعا خیر بھی ہوئی۔ لیکن اگلے روز وہ عمران خان کی چوکھٹ پہ سجدہ ریز ہو گئے اور اب کھجل ہورہے ہیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ جوا کھیل کر پرویز الٰہی نے اپنے گھرانے اور بزرگوں کی عزت کو بھی پامال کیا ہے۔
لیکن سیاسی مبصرین کے خیال میں پرویز الٰہی کو شاید یہ امید تھی کہ ان کے ماضی کے اتحادی عبدالعلیم خان اور جہانگیر ترین ان کی حمایت کریں گے، جس کے بعد وہ وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز ہو جائیں گے۔ مبصرین کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی کو یہ بھی اعتماد تھا کہ وہ جوڑ توڑ کر کے اپنے نمبرز پورے کر لیں گے اور جہاں تک بات ہے ناراض اراکین کی تو انھیں یا تو وہ منا لیں گے یا سپیکر کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کی پاداش میں انھیں ووٹ کے حق سے ہی محروم کر دیں گے۔ مگر پرویز الٰہی یہ سب حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور بظاہر سیاسی کریئر کی آخری اننگز میں ایک فاش غلطی کر بیٹھے جس کے بعد ان کا سیاسی مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔

Related Articles

Back to top button