پرویز الٰہی کب تک فوج مخالف عمران کیساتھ چل پائیں گے؟


ویسے تو عمران خان اور پرویز الٰہی دونوں نے ساری زندگی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست کی ہے اور اسی کے طفیل حکومتی عہدے بھی حاصل کیے ہیں لیکن اب وہ سٹیج آ گئی ہے جہاں ان دونوں کے مفادات کا ٹکراؤ ہونے جارہا ہے اور اس کی وجہ بھی اسٹیبلشمنٹ ہی ہے۔ اسلام آباد میں باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ چکوال میں عمران خان کی جانب سے جلسے میں فوجی اسٹیبلشمنٹ پر کھلے حملے اور دھمکیوں کے بعد پرویزالٰہی سخت مشکل میں آ چکے ہیں اور ان کا عمران کے ساتھ مزید چلنا ممکن نظر نہیں آتا۔ پرویز الٰہی کے قریبی حلقوں کے مطابق وہ عمران کو جتنا سمجھا سکتے تھے سمجھا چکے لیکن ان کے فوج مخالف بیانیے میں نرمی کی بجائے سختی آتی چلی جارہی ہے جس سے معاملات خرابی کی جانب بڑھ رہے ہیں اور غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔

یاد رہے چوہدری پرویز الٰہی کی حکومت تحریک انصاف کے ووٹوں کی مرہون منت ہے اس لئے وہ کھل کر عمران کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے سے اختلاف بھی نہیں کر سکتے اور اس کی حمایت بھی نہیں کر پا رہے۔ اگر وہ عمران سے اختلاف کرتے ہیں تو موصوف ناراض ہو جائیں گے اور اگر وہ ان سے اتفاق کرتے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ نالاں ہو جائے گی۔ عمران خان نے اگلے روز تحریک انصاف پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں واضح الفاظ میں چودھری پرویزالٰہی کے حوالے سے اظہار مایوسی کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مجبوری میں وزارت اعلیٰ قاف لیگ کو دی ہے چونکہ ووٹ پورے نہیں تھے۔ عمران کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ پرویز الٰہی کو ناراض کرتے ہیں تو پنجاب حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا لہذا پچھلے چار برس تک بلیک میل ہو کر پرویز الٰہی کو سپیکر بنائے رکھنے والے عمران نے اب انہیں وزیر اعلیٰ بنا دیا ہے حالانکہ دونوں ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔ عمران اور پرویز کے ماضی کے تعلقات کا احاطہ کیا جائے تو خان صاحب اپنے موجودہ وزیر اعلیٰ کو صوبے کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دیتے رہے ہیں۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پنجاب کا اقتدار دس ووٹوں والے پرویز الٰہی کے پاس ہے جبکہ پونے دو سو سے زائد ووٹ رکھنے والی تحریک انصاف کے اراکین ناراض اور غیر مطمئن ہیں۔ منتخب ایم پی ایز نے پچھلے دنوں اسلام آباد میں ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اپنے چیئرمین عمران خان کے سامنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا اور بتایا کہ ان کا کوئی کام نہیں کیا جا رہا۔ یہ پارلیمانی میٹنگ اس لحاظ سے بھی اہم تھی کی اس میں 175 کی بجائے صرف 150 اراکین پنجاب اسمبلی نے شرکت کی۔ تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع تو یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ 25 اراکین کو عمران کے ایماء پر اجلاس میں شرکت سے روکا گیا تا کہ پرویز الٰہی کو ڈرایا جا سکے۔

تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی میٹنگ کا احوال بیان کرتے ہوئے ایک ایم پی اے نے بتایا کہ اکثریتی ایم پی ایز نے کھل کر پرویز الٰہی کی حکومت پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے لگ رہا ہے تحریک انصاف کی پنجاب میں حکومت ہے ہی نہیں کیونکہ سب کچھ چوہدری پرویز الٰہی اپنی مرضی سے کر رہے ہیں۔ ایک اور ایم پی اے نے میٹنگ میں تحفظات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زیادہ تر لوگوں کا یہ موقف تھا کہ پرویز الٰہی وزارت اعلیٰ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اگلے الیکشن کی تیاری میں مصروف ہیں اور اپنی ذاتی اور پارٹی پوزیشن مضبوط کر رہے ہیں۔ ایک پی ٹی آئی رکن اسمبلی نے عمران کو بتایا کہ پرویز الٰہی نے گجرات کو ڈویژن کا درجہ دے کر تمام فنڈز کا رُخ ادھر موڑ دیا ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ پرویز نے حال میں گجرات کے لیے 37 ارب روپے کی ترقیاتی گرانٹ منظور کی ہے جس کے مقابلے میں تحریک انصاف کے ایم پی ایز کو انکے علاقوں کے لیے اونٹ کے منہ میں زیرے جتنی چند کروڑ روپوں کی گرانٹ دی جا رہی ہے۔ ایک اور ایم پی اے نے بتایا کہ خان صاحب نے انکی شکایات کو تحمل سے سنا اور اپنے اراکین سے کہا کہ یہ درست ہے کہ پنجاب میں ہماری حکومت براہ راست نہیں ہے لیکن اس مسئلے کا حل بھی ضروری ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے تسلیم کیا کہ پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنانا مجبوری کا سودا ہے۔ انہوں نے سینئر وزیر میاں اسلم اقبال اور میاں محمود الرشید کی ڈیوٹی لگائی کہ کوئی بھی ایم پی اے براہ راست پرویز الٰہی کو کام نہیں کہے گا بلکہ ان دو وزرا سے رابطہ کرے گا تاکہ وزیراعلیٰ کی جانب سے بہانہ بازی نہ ہو سکے۔ خان صاحب نے کہا کہ اب پنجاب سے انکے کسی ایم پی اے کو کام نہ ہونے کی شکایت نہیں آئے گی۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کی شکایات کا ازالہ ہو پاتا ہے یا نہیں کیوں کہ اگر ایسا نہ ہو پایا تو عمران خان اور پرویز الٰہی کا اکٹھے چلنا بھی مشکل ہو جائے گا۔

Related Articles

Back to top button