پرویز الٰہی کی وزارت اعلیٰ چار دن کی چاندنی کیوں ہے


معروف لکھاری اور تجزیہ کار وجاہت مسعود نے کہا ہے کہ سابق ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو وردی میں دس مرتبہ صدر منتخب کروانے کا نعرہ لگانے والے چوہدری پرویز الٰہی کی وزارت اعلیٰ چار دن کی چاندنی ہے کیونکہ پنجاب کی سیاست نے ابھی ایک بڑی کروٹ لینی ہے۔ وجاہت کہتے ہیں کہ پرویز الٰہی کا خانوادہ 1958 کی ایوب آمریت کے دوران سیاست میں نمودار ہوا اور پھر ضیاء اور مشرف کے ادوار میں پروان چڑھا۔ پرویز الٰہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دینے والے عمران خان نے قاف لیگ کے دس ووٹوں کی مجبوری کی وجہ سے چار سال تک پرویز کو سپیکر بنا کر رکھا۔ پھر وہ وقت بھی آ گیا جب خان کو بزدار کی قربانی دے کر پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنوانا پڑا۔ تاہم قرائن بتاتے ہیں کہ گجرات کے چھوٹے چودھری کی وزارت اعلیٰ چار دن کی چاندنی ہے جسکی بنیادی وجہ الیکشن کمیشن کی تلوار اور دس متنازع ووٹوں کا طوق ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ پچھلی صدی کی تیسری اور چوتھی دہائی میں پنجاب نے تین سیاسی دماغ پیدا کئے۔ ایک تو 1924 سے 1928 تک پنجاب کے گورنر میلکم ہیلی تھے جن کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا ’تابندہ رہے یا رب ہیلی کا ستارہ/ پنجاب کی کشتی کو دیا جس نے سہارا‘۔ اس کار خیر میں لارڈ ہیلی کے دائیں بائیں دو مقامی رہنما بھی شریک تھے۔ ایک تو روہتک سے آنے والے سر چھوٹو رام تھے جو جاٹ برادری کے سرخیل تھے۔ دوسرے جالندھر سے تعلق رکھنے والے سر فضل حسین جو راجپوت شناخت رکھتے تھے۔ ہر دو حضرات خوبیوں سے خالی نہیں تھے۔ چھوٹو رام نے زرعی اصلاحات میں قابل قدر کوششیں کیں جبکہ فضل حسین نے پنجاب میں تعلیم نیز مسلمانوں کے لئے سرکاری ملازمتوں کا حصہ مختص کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔

وجاہت مسعود کے بقول، گزشتہ ایک صدی میں پنجاب کی سیاست جاٹوں اور راجپوتوں کے دو سیاسی دھاروں کے مدوجزر کی کہانی ہے۔ اللہ کے فضل سے یہ روایت اب رانا ثنااللہ اور چوہدری پرویز الٰہی تک آ پہنچی ہے۔ رانا ثنااللہ کے فضائل بیان کرنے کا موقع بھی آئے گا۔ لیکن آج چوہدری پرویز الٰہی کے اس ارشاد پر تبصرہ کیا جائے گا کہ ’ووٹ کو عزت دو کا کھوکھلا بیانیہ اپنی موت آپ مر چکا‘۔ اگر پرویز الٰہی کا بیان درست ہے تو واقعی یہ جھکولے کھاتے تانگے میں بیٹھ کر سڑکوں پر ڈھول اور شادیانے بجاتے ہوئے نکلنے کی گھڑی ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی نے 1983 کے بلدیاتی انتخابات سے انتخابی سیاست کا آغاز کیا تھا۔ 1985، 88، 90 کے انتخابات جیت کر آٹھ برس تک پنجاب کے وزیر بلدیات رہے۔1993 سے 96 تک پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف رہے۔ 1997 میں پنجاب اسمبلی کے سپیکر بنے۔ اکتوبر 99 میں نیب کی نظر کرم ان پر پڑی لیکن چوہدری صاحب فوجی آمر جنرل مشرف سے ہاتھ ملا کر مسلم لیگ ق کی پتلی گلی سے نکل گئے۔

وجاہت مسعود یاد دلاتے ہیں کہ پرویز الٰہی 2002 کے انتخابات میں چھٹی مسلسل انتخابی کامیابی کے بعد پنجاب کے وزیراعلیٰ بن گئے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر بقول ان کے ووٹ کی عزت کا بیانیہ کھوکھلا ہے تو 1985 سے 2018 تک پرویز الٰہی عوام سے ووٹ کے نام پر کیا مانگتے رہے؟ 2007 میں پرویز الٰہی اپنے لئے وزارت عظمیٰ اور صاحبزادے مونس الٰہی کے لئے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے خواہش مند تھے۔ موصوف نے قلم کو ازار بند سمجھ کر استعمال کرنے والے قلم کاروں سے اپنے حق میں کالم بھی لکھوائے۔ اس دوران جنرل مشرف اکتوبر 2007 کا صدارتی انتخاب وردی میں لڑنا چاہتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ان کا انتخابی نشان،اثاثہ اور زرضمانت یہ وردی ہی تو ہے۔ اسی تدبر کی روشنی میں پرویز الٰہی نے یہ فخریہ بیان داغا کہ ہم پرویز مشرف کو ایک بار نہیں، بلکہ دس بار وردی میں ملک کا صدر منتخب کرائیں گے۔ لیکن پرویز الٰہی نے اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگایا۔ 29 نومبر 2007 کو پرویز مشرف للو پتو کر کے وردی سے تو نکل آئے مگر حقیقت یہ تھی کہ بکری مر چکی تھی اور اس کی آنکھیں کھلی تھیں۔ بقول وجاہت مسعود، پرویز الٰہی کا یہی المیہ ہے۔ موصوف آخری لمحے میں ایسا کرتب دکھاتے ہیں کہ ’چھلکا سڑک پر تھا، میری ٹانگیں ہوا میں تھیں‘ کا سین پارٹ کر دیتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button