پنجاب کو وفاق کے تسلط سے آزاد کرنے کا بل تیار کر لیا گیا

پنجاب حکومت نے اپنی آئینی حدود کو عبور کرتے ہوئے ایک ایسے بل کا مسودہ تیار کیا ہے جس کے تحت وفاق کو صوبہ پنجاب میں گریڈ 1 سے 22 تک تمام عہدوں پر تقرریوں سے روک دیا جائے گا اور ان کی جگہ پنجاب سروس کیڈر کے افسروں کو تعینات کیا جائے گا، وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہی کے اس فیصلے کا مقصد وفاق کا دائرہ اختیار ختم کر کے پنجاب کو ازاد اور خود مختار بنانا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت جلد ہی یہ بل پنجاب اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش کر دے گی۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز الہی نے یہ فیصلہ سابق وزیراعظم عمران خان کی خواہش پر کیا ہے۔ اس حکومتی فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی شکیل انجم کا کہنا ہے کہ اقتدار کی ہوس میں مبتلا جو حکمران مرکز کو توڑنے کے لئے اس حد تک جا سکتے ہیں وہ ایک اور بل کے ذریعے پنجاب کی خود مختاری کا اعلان بھی کرسکتے ہیں، اسی نوعیت کی باغیانہ سوچ خیبر پختون خواہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی محسوس کی جا سکتی ہے جہاں عمران خان کی تحریک انصاف حکمران ہے۔ شکیل انجم کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے ’’خود مختاری‘‘ کا اشارہ اسی وقت مل گیا تھا جب سندھ ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب کی لپیٹ میں تھا اور وہاں بھوک کا راج تھا۔
دنیا کے مختلف ممالک سندھ اور بلوچستان کے علاوہ پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں کے لئے امداد بھجوا رہے تھے جب اچانک یہ خبر شائع ہوئی کہ حکومت سندھ کی جانب سے پنجاب سے قانونی طور خریدی جانے والی گندم یا آٹا حکومت پنجاب نے سندھ جانے سے روک دیا ہے۔ اس کے بعد جذبۂ خود غرضی سے مغلوب تحریک انصاف کی صوبائی حکومتوں کی جانب سے ملک کو دیوالیہ کرانے کی مجرمانہ سازش کی گئی جب پنجاب اور خیبر پختونخوا نے عین اس دن IMF کو قرضہ کی ادائیگی روکنے کے لئے خفیہ طور پر خط لکھا جب پاکستان کو قرض دینے یا نہ دینے کے حوالے سے ان کا اجلاس جاری تھا۔ مقصد یہ تھا کہ ملک رہے نہ رہے لیکن انہیں اقتدار مل جائے۔
شکیل انجم کہتے ہیں کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقتدار حاصل کرنے کے لئے وہ کچھ کیا جا رہا ہے جو بھارت اور اسرائیل جیسے پاکستان کے بدترین دشمنوں کی خواہش تو ہو سکتی لیکن کسی محب وطن پاکستان کے لئے یہ سوچنا بھی نا ممکن ہے کہ وہ اپنے ہی ملک کو دیوالیہ کر کے تباہ کرنے کی سازش میں حصہ ڈالے گا۔ انکا کہنا ہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) اور خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی حکومت ریاست پاکستان کی اکائیوں میں نفرت اور انتشار پیدا کرنے کی کوششوں میں یہ بھول گئے ہیں کہ ملک ہو گا تو ان کے لئے اقتدار بھی ہو گا لیکن یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ اس سازش پر عمل درآمد کی صورت میں ریاست کی ساکھ اور سلامتی کو ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ قوم بار بار ایسے صدمے برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی جو 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں کر چکی ہے۔
شکیل انجم کہتے ہیں کہ عمران کی غیر سنجیدہ اور حصول اقتدار کی سیاست اور انکے غلط بیانیے کی اندھی تقلید کرنے والے شائد کبھی نہ کبھی یہ تسلیم کریں گے کہ انہوں نے عمران کی پیروی کر کے گمراہی کا راستہ اپنایا ہے۔ وہ لوگ خود سے سوال کریں کہ اپنے دور حکومت میں جب وہ سیاہ و سفید کے مالک و مختار تھے، ملک و قوم کے لئے کیا کیا؟
شعبہ صحافت سے وابستہ لوگوں کی اکثریت اس حقیقت سے آگاہ ہے عمران خان کی سیاست نفرتوں کا پھیلاؤ ہے اور اس کی بنیاد جھوٹ اور عدم پرداشت پر قائم ہے کیونکہ تحریک انصاف کا یہ عقیدہ ہے عمران خان ایسی برگزیدہ ہستی ہے جس کی ذات اور کسی بات پر تنقید قابل تعزیر جرم ہے اور اس جرم کی سزا تحریک انصاف کا افیشل سوشل میڈیا پروپیگنڈا سیکشن کے اوفشل ٹیوٹر ہینڈلرز کرتے ہیں۔ اسی نوعیت کا زہریلا پروپیگنڈا سینئیر صحافی انصار عباسی کے خلاف اس لئے شروع کر دیا گیا ہے کہ انہوں نے عمران خان کے دور حکومت کے دوران ان کی کارکردگی پر سوال اٹھایا۔
2014 میں ریاست پاکستان کے خلاف 126 روزہ سول نافرمانی کی تحریک کے دوران نوجوان نسل کو بغاوت، ریاستی اداروں پر قبضوں، عدلیہ کی تضحیک، مقننہ کی توہین، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ان کی کمانڈ کو دھمکیوں کے ذریعے انہیں ریاستی ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکنے کی جو تخریبی سوچ دی وہ نظریہ کی صورت اختیار کر گئی جس کے بعد عمران ملک میں اتشار پھیلانے، خانہ جنگی کرانے اور آئینی اورسیاسی بحران پیدا کرنے کا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ کر کے اپنا وہ مقصد پورا کر سکتے ہیں جس کی تکمیل کے لئے وہ سیاست میں آئے اور اب دائمی اقتدار جاہتے ہیں جس کے لئے “حقیقی آزادی” کے استعارے کے ذریعے اپنا مخصوص ایجنڈا پورا کرنے کے اہل ہو گئے ہیں۔
ناقدین کا مؤقف ہے کہ ریاستی اداروں نے قانونی بالادستی اور ریاست کی رٹ قائم کرنے کی بجائے عمران کو فائدہ پہنچانے کے لئے قانون کا صریحأ غلط استعمال کیا جس سے یہ تاثر قائم ہوا کہ عسکری قیادت سمیت تمام ریاستی ادارے عمران خان کے لئے یا تو نرم گوشہ رکھتے ہیں، یا ان کی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں یا یہ رویہ کسی حکمت عملی کے تحت اختیار کیا گیا ہے۔۔یہاں تک کہ عدلیہ نے بھی عمران خان کو رعائتیں دینے کے حوالے سے اس قدر فراخ دلی کا مظاہرہ کیا کہ تنقید کی زد میں آگئی۔ فوجی جوانوں کو اپنی قیادت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے الزام میں غداری کیس کا سامنا کرنے والے شہباز گل کی بغیر شامل تفتیش ہوئے ہی اسلام آباد کورٹ کی جانب سے ضمانت پر رہائی کو یہ معنی پہنائے جا رہے ہیں کہ اس ملک میں قانون اور انصاف سب کے لئے برابر نہیں بلکہ انصاف طبقات میں تقسیم ہے۔ اسکے علاوہ ایک خاتون جج کو دھمکیاں دینے کے الزام میں عمران خان کے خلاف درج ایف۔آئی۔آر سے دہشت گردی کی دفعہ حذف کرنے سے بھی ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ عمران خان کی تقلید کرنے والے اپنے راہنما کا یہ دعوی تسلیم کرتے ہیں کہ ادارے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور یہی مؤقف اداروں نے من و عن ثابت کیا کہ عدلیہ نے رعائتیں دے کر احسان نہیں کیا بلکہ یہ ان کی مجبوری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہباز گل نے رہائی پاتے ہی دوبارہ وہی رویہ اختیار کر لیا ہے جس کی بنیاد پر ان کے خلاف فوج کو تقسیم کرنے کے الزام میں کیس درج ہوا تھا۔

Related Articles

Back to top button