پوسٹ مارٹم کے بغیر تدفین: عامر لیاقت کی موت اب راز رہے گی


ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی پراسرار موت کی وجہ معلوم کرنے کیلئیے انکے خاندان نے ان کا پوسٹ مارٹم کرنے کی اجازت نہیں دی جسکے بعد انہیں کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں دفن کر دیا گیا ہے۔ یوں اب عامر لیاقت کی موت کی وجہ کبھی سامنے نہیں آ پائے گی۔

اس سے پہلے عامر لیاقت کی میت کے پوسٹ مارٹم کے حوالے سے تنازع پیدا ہو گیا تھا اور کراچی کی مقامی عدالت نے پولیس سرجن کو میت کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔ اس سے قبل پولیس حکام نے فلاحی تنظیم چھیپا ویلفیئر کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ عامر لیاقت کی میت بریگیڈ تھانے کے عملے کے سوا کسی کے حوالے نہ کی جائے کیونکہ ان کی موت کی وجہ جاننے کے لئے پوسٹ مارٹم کروانا ضروری ہے۔ اس پر عامر لیاقت کے اہلخانہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت سے رجوع کیا تھا جہاں مختصر سماعت کے بعد عدالت نے پولیس سرجن کو حکم دیا کہ وہ میت کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کریں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ پولیس سرجن کی رپورٹ کی روشنی میں پوسٹ مارٹم سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ عدالتی احکامات کے بعد عامر لیاقت کے اہلخانہ اور پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ چھیپا سرد خانہ پہنچے اور پولیس سرجن نے میت کا معائنہ کیا جس کے بعد میت تدفین کے لیے ورثا کے حوالے کر دی گئی۔

51 سالہ عامر لیاقت حسین 9 جون کو کراچی میں اچانک وفات پا گئے تھے۔ ان کی نمازِ جنازہ کلفٹن میں واقع جامع مسجد عبداللہ شاہ غازی میں جمعے کی دوپہر ادا کی گئی ہے اور انہیں انکی وصیت کے مطابق مزار کے احاطے میں ہی دفن کر دیا گیا۔ عامر لیاقت کی موت کی وجہ تاحال سامنے نہیں آ سکی ہے اور نہ ہی اب اس کا کوئی امکان باقی بچا ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے سے عامر لیاقت اپنی تیسری شادی کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعے کی زد میں تھے، جس کے بعد سل برداشتہ ہو کر انھوں نے ملک چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اس سے پہلے ہی انہیں انہیں فرشتہ اجل نے اچک لیا۔
پولیس حکام کے مطابق عامر کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے جناح ہسپتال کراچی میں ان کا پوسٹ مارٹم کروایا جانا تھا مگر خاندان کے افراد پوسٹ مارٹم کروائے بغیر ان کی میت وہاں سے لے گئے۔ اس کے بعد عامر لیاقت کی سابقہ اہلیہ سیدہ بشریٰ اقبال نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’مرحوم کے دونوں وارثین احمد عامر اور دعائے عامر نے انکا پوسٹ مارٹم کروانے سے منع کر دیا ہے اور ان کی خواہش کے مطابق مرحوم کو عزت و احترام کے ساتھ ان کی آخری آرام گاہ تک لے جایا جائے گا۔‘

تاہم پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عامر لیاقت کی میت بریگیڈ تھانے کا عملہ وصول کرے گا اور اگر لاش کسی اور کے حوالے کی گی تو چھیپا سرد خانے کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ عامر لیاقت کا خاندان پوسٹ مارٹم کے بغیر تدفین چاہتا تھا چنانچہ ان کی بیٹی اور سابقہ اہلیہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ عامر کے بڑے بھائی عمران حسین مرحوم کے بھتیجے حامد حسین کے مطابق ان کا خاندان لاش کی بحرمتی نہیں چاہتا تھا اس لیے پوسٹ مارٹم نہیں کروایا گیا۔

جمعرات کو آغا خان ہسپتال سے چھیپا فاؤنڈیشن کے سربراہ رمضان چھیپا نے ڈاکٹر عامر لیاقت کی لاش وصول کی جس کے بعد میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر موجود ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رمضان چھیپا کی قیادت میں ان لے رضاکار لاش اٹھا کر لے جا رہے ہیں، چھیپا ترجمان نے واضح کیا کہ لاش چھینی نہیں گئی بلکہ فیملی نے جب پوسٹ مارٹم نہیں کروایا تو واپس لے لی گئی۔ اس سے پہلے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے عامر لیاقت کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے والے چھیپا کے ایک اہلکار نے کہا بتایا کہ جس وقت میں اندر پہنچا تو عامر لیاقت صوفے پر تھے اور ان کی حالت ناساز تھی لیکن اُن کی سانسیں چل رہی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’تقریباً ایک بجے کا وقت تھا، انھیں جناح ہسپتال لے جایا جا رہا تھا جس کے بعد راستے میں ہی کال آئی کہ انھیں آغا خان ہسپتال لے جایا جائے۔ پولیس حکام کا اصرار تھا کہ عامر کی موت پرسرار حالات میں ہوئی ہے اس لیے یہ جاننا ضروری تھا کہ انھیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا، انہوں نے خود کشی کی یا اور کوئی وجہ تھی۔

عامر لیاقت اپنی زندگی میں بھی سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈز کا حصہ بنے رہے اور وفات پر بھی ان کا نام پاکستان کے ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہے۔ مجموعی طور پر سوشل میڈیا صارفین ان کی وفات پر غمزدہ دکھائی دیے اور اکثریت کا کہنا تھا کہ ان کی زندگی کے تنازعات اور مسائل اُن کے ساتھ چلے گئے ہیں اور اس لیے اب ان کے بارے میں رائے زنی کرنا مناسب نہیں ہے۔ صحافی اور اینکر پرسن نسم زہرہ نے بھی عامر لیاقت کی وفات پر ٹویٹ کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا اور کہا ’اب عامر لیاقت کو مالک حقیقی نے طلب کیا ہے، ہم سب کو ان کے لیے بس فاتحہ پڑھنا چاہیے اور باقی معاملات کو اللہ پر چھوڑ دیں۔ جو چلا گیا اس کا حساب کتاب۔۔۔ یہاں علاوہ دعائے خیر کے سب ختم!‘

ایک اور سوشل میڈیا صارف انیس ادریس کا کہنا تھا ’زندگی بہت غیر متوقع ہے، ایک وقت تھا کہ وہ پاکستان ٹیلی وژن کے حاکم تھے اور ملک میں ایک بڑا نام تھے اور ہمارے بچپن کا ایک بڑا حصہ تھے۔ خدا ان کا آگے کا سفر آسان کرے۔‘ اسامہ سلیم نامی صارف کا کہنا تھا ’تنازعات کا ایک طرف رکھیں تو عامر لیاقت پاکستان کی ٹیلی وژن تاریخ کا ایک بڑا نام تھے، ایک عظیم انٹرٹینر تھے۔‘ انھوں نے عامر لیاقت کی گذشتہ ہفتے کی ایک پوسٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ’یہ ہم سب کے لیے یہ سمجھنے کا لمحہ ہے کہ سوشل میڈیا کتنا مہلک اور خطرناک ہو سکتا ہے۔‘

شہزاد علی رانجھا نے لکھا کہ ’اس نے مجھے بُری طرح رلا دیا ہے، میں اُن تمام میمز کے لیے معذرت چاہتا ہوں جو میں نے عامر لیاقت کے بارے میں شیئر کیں۔ عامر بھائی جلدی چلے گئے۔‘ علی سلمان علوی نامی صارف نے لکھا ’عامر لیاقت اپنی زندگی کے بحران سے گزر رہے تھے۔ میں نے ان کے کیریئر کا عروج دیکھا ہے، ان کے سیاسی اور پیشہ وارانہ کریئر کو گرتے بھی دیکھا۔ آپ بحران کے وقت اپنے خاندان میں پناہ ڈھونڈتے ہیں لیکن بدقسمتی سے جب انھیں سب سے زیادہ ضروت تھی ان کے پاس ایک خاندان نہیں تھا۔‘ شیراز نامی صارف نے کچھ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے عامر لیاقت کی وفات پر غیر حساس تبصروں پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا ’ڈپریشن مذاق نہیں ہے۔ اگر آپ کے پاس کچھ اچھا کہنے کو نہیں ہے تو کچھ نہ کہیں۔ لوگوں کو اپنے جیسے انسان کے مرنے پر سوگ منانے دیں۔ یہ ماضی کی غلطیوں پر بحث کا وقت نہیں ہے۔ کچھ دیر کے لیے انسان بن جائیں۔‘

عامر لیاقت حسین پاکستان کے تقریباً ہر بڑے نیوز چینل سے وابستہ رہے۔ انکے پروگرام زیادہ تر تنازعات سے بھرپور رہے ہیں جس کے اثرات ان کے سیاسی کیریئر پر بھی پڑے۔ تاہم زندگی کے آخری دنوں میں دانیہ شاہ نامی خاتون کے ساتھ اپنی تیسری شادی اور خلع کے دعوی کے بعد وہ شدید پریشانی کا شکار تھے۔

Related Articles

Back to top button