پی ایم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا 39 ارب روپے کا سکینڈل


سابق وزیراعظم عمران خان اپنے پونے چار سالہ دور میں وزیراعظم ہاؤس کو اپنے وعدے کے مطابق یونیورسٹی اس لیے نہ بنا پائے کہ وہ ایسا کرنا ہی نہیں چاہتے تھے، اس لئے انہوں نے وزیراعظم ہاؤس سے ملحقہ زمین خرید کر اس پر یونیورسٹی بنانے کا حکم دیا۔ تاہم اگلی واردات یہ ہوئی کہ یونیورسٹی بنانے کے لیے فزیبلٹی میں مختص اربوں کی رقم زمین خریدنے پر لگا دی گئی جو کہ ایک غیر قانونی عمل تھا کیونکہ یہ رقم صرف تعمیراتی کام پر خرچ ہوسکتی ہے۔ چنانچہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اس خرید پر اعتراض لگا دیا اور یونیورسٹی کا منصوبہ ادھورا رہ گیا۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کے نامکمل عمل میں شدید مالی و آئینی باضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کو دی گئی بریفنگ میں ابتدائی طور پر وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے لیے 55 ارب روپے کی فزی بیلیٹی رپورٹ پیش کی گئی تھی جس پر سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے اعتراضات عائد کیے اور کٹوتی کی سفارش کرتے ہوۓ پی سی ون کو 35 ارب تک محدود کر دیا تھا۔ بعد ازاں اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے مزید کٹوتی کر کے یہ رقم 25 ارب کر دی۔ لیکن ڈاکٹر عطاء الرحمان نے یونیورسٹی کے منصوبے کے لیے جو حتمی فزی بیلیٹی بلٹی منظور کروائی اس میں 39 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔
حکومتی ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی خواہش پر پرائم منسٹر ہاؤس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے بجائے علیحدہ زمین خریدنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ فزی بیلیٹی میں مختص رقم سے پی ایم ہاؤس کے قریب موجود خالی زمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے غیر قانونی طور پر خریدی گئی جسے قانونی بنانے کیلئے پی سی ٹو تیار کرنے کی کوشش ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ناکام بنادی۔ یوں یہ منصوبہ چار سال گزرنے کے باوجود فزی بیلیٹی رپورٹ سے آگے نہیں بڑھ سکا۔
یاد رہے کہ عمران خان نے اپنے انتخابی نعرہ کے دوران وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے، ملک بھر کے گورنر ہاؤسز کو کھیلوں کے میدان اور تعلیمی ادارے بنانے جبکہ ایوان صدر کو عام لوگوں کے کھولنے کا اعلان کیا تھا، اس حوالے سے پرائم منسٹرز ٹاسک فورس کے سابق چیئرمین ڈاکٹر عطا الرحمان سے مشاورت کی گئی جنہوں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کا تیار کردہ پی سی ون اپنے نام سے ردو بدل کر کے فزی بیلیٹی کی رقم بڑھا کر وزیر اعظم کو پیش کیا۔ ذرائع نے بتایا کے اس پی سی ون میں مانگی گئی رقم بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے بھی جامعہ بنانے کا منصوبہ تعطل کا شکار ہوا۔ تاہم وزیراعظم عمران خان کی منظوری سے 39 ارب روپے کی حتمی فزی بیلیٹی رپورٹ تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ رقم پی ایم ہاؤس کو یونیورسٹی میں بدلنے کی بجاۓ خالی پڑی ہوئی سی ڈی اے کی زمین خریدنے پر لگا دی گئی، حالانکہ قانون کے مطابق فزی بیلیٹی کی رقم سے کسی بھی منصوبے کے لیے زمین نہیں خریدی جا سکتی۔ جب اس غیر قانونی عمل کی نشاندہی ہوئی تو فزی بیلیٹی کی رقم سے خریدی گئی زمین کو قانونی شکل دینے کے لیے وزیر اعظم کو مشورہ دیا گیا کہ یونیورسٹی کے پراجیکٹ کا پی سی ٹو تیار کر کے زمین کی خریداری اس میں شامل کر لی جائے، لیکن ہائر ایجوکیشن کمیشن کے حکام نے عمران خان اور ڈاکٹر عطاء الرحمن کی یہ غیر قانونی کوشش ناکام بنا دی۔

Related Articles

Back to top button