پی ٹی آئی نے KP میں دہشت گردی کا مدعا فوج پر ڈال دیا

خیبر پختونخوا میں پچھلی ایک دہائی سے برسراقتدار تحریک انصاف کی قیادت نے صوبے میں پاکستانی طالبان کی واپسی اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی کاروائیوں کی ذمہ داری اب براہ راست سکیورٹی فورسز پر ڈال دی ہے۔ 13 ستمبر کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک ہی دن دہشت گردی کے تین واقعات رونما ہوئے جس میں 10 افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن اور مسلم لیگ ن کے رہنما سردار خان کو بھتے کی کال اور دھمکی موصول ہوئی جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے ایم پی اے نثار مہمند نے بھی بھتے کی دھمکیوں سے پریشان ہو کر اسمبلی میں صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ محمود خان کی ناکامی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
سوات کے مقامی صحافی انور انجم نے بتایا کہ اس وقت سوات میں خوف کی فضا ہے، کچھ دن قبل وزیراعلیٰ کے آبائی حلقے سے ایک شہری کو ایک کروڑ روپے تاوان کے لیے اغوا کیا گیا تھا، حالات ایک دم تبدیل ہو رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے واضح موقف بھی سامنے نہیں آ رہا، اب تک کن افراد کے خلاف کارروائی ہوئی ہے یا کررہے ہیں یہ رپورٹ سامنے آنی چاہئے۔
ادھر سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے سوات میں امن وامان کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے سکیورٹی فورسز کی ناکامی سے تعبیر کیا ہے۔ مراد سعید نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ سوات میں لوگوں کو بھتے کے لیے فون کالز آ رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر یہ مذاکرات کون کررہا ہے تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات عمران کے دور حکومت میں فوجی حکام نے شروع کیے تھے اور پاکستانی وفد کی قیادت فیض حمید نے پہلے بطور آئی ایس آئی چیف اور پھر بطور کور کمانڈر پشاور کی، آج کل یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں جس کی بنیادی وجہ فیض حمید کا تبادلہ اور تحریک طالبان کے ایک مرکزی کمانڈر عمر خالد خراسانی کی افغانستان میں ایک دھماکے میں ہلاکت ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے عمران خان بھی اشاروں کنایوں میں خیبرپختونخوا میں امن وامان کی خراب ہوتی صورت حال کی ذمہ داری سکیورٹی اداروں پر عائد کر چکے ہیں۔ مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ تحریک طالبان کے جنگجووں کی واپسی کے بعد ہوا ہے۔ واپس آنے والے طالبان کا موقف ہے کہ وہ فوجی حکام کے ساتھ افغانستان میں ہونے والے مذاکرات کے دوران اجازت ملنے کے بعد اپنے علاقوں میں واپس لوٹے ہیں۔ دوسری جانب خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ مراد سعید نے ہمارے سکیورٹی اداروں کی ناکامی کے حوالے سے جو بات کی ہے۔
اس بارے میں انہی سے سوال پوچھیں۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کرنا صوبائی حکومت کا کام نہیں۔ ریاست پاکستان کی جانب افغانستان میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔ آئین اور قانون کی رو سے انکا صوبائی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ میں ریاست پاکستان کے نمائندے کی حیثیت سے مذاکرات کا حصہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات افسوس ناک ہیں۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں سے حساس اداروں کی رپورٹ ملتی ہے وہاں ٹارگٹڈ آپریشن ہورہا ہے۔ بیرسٹر سیف نے بتایا کہ ’ایم پی اے ملک لیاقت پر حملے کے بعد کئی لوگ گرفتار کیے گئے جن سے تفتیش جاری ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ بھتے کے لیے کال کرنا بھی دہشت گردی ہے۔ ایسے عناصر کے خلاف سی ٹی ڈی اور دیگر حساس ادارے کام کررہے ہیں۔ بہت جلد ان کا نیٹ ورک بے نقاب ہوجائے گا۔

Related Articles

Back to top button