چوہدری شجاعت سپریم کورٹ میں کیا دھماکہ کرنے والے ہیں؟


چوہدری شجاعت حسین کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے لیے قاف لیگ کے 10 منحرف ووٹوں کو شمار کرنا اس لیے ناممکن ہو چکا ہے کہ پارٹی کے آئین کے مطابق چوہدری شجاعت حسین اپنی جماعت کے تاحیات صدر ہیں اور پارلیمانی پارٹی کا سربراہ مقرر کرنا بھی ان کا اختیار ہے۔ چوہدری شجاعت حسین یہی حقیقت سپریم کورٹ کے علم میں لانے کے لیے اسلام آباد پہنچے ہیں اور حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کے کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کر دی ہے۔ چودھری شجاعت کا موقف ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کے الیکشن سے ایک روز پہلے چوہدری پرویز الہی نے پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا سربراہ تبدیل کر دیا اور اس چیز کو جماعت کے مرکزی صدر سے بھی خفیہ رکھا گیا لہذا یہ سارا کام غیر قانونی طریقے سے کیا گیا۔ قاف کے مرکزی صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے چوہدری پرویز الہی کو پنجاب میں قاف لیگ کا صدر مقرر کیا تھا لیکن انہیں صوبائی پارلیمانی پارٹی کا سربراہ اس لیے نہیں بنایا گیا تھا کہ وہ اسپیکر پنجاب اسمبلی تھے۔ ایسے میں پنجاب اسمبلی میں کوئی بھی شخص قاف لیگ کا پارلیمانی سربراہ نہیں تھا۔ لیکن پرویز الہی نے 21 جولائی کو خفیہ طور پر بغیر کوئی کارروائی کیے ساجد احمد بھٹی نامی ایک ایم پی اے کو پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا سربراہ مقرر کردیا جسکا ان کے پاس کوئی آئینی اور قانونی اختیار نہیں تھا اور نہ ہی قاف لیگ کا آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے۔ اسکے علاوہ اس فیصلے کو بھی پبلک نہیں کیا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ساجد احمد خان بھٹی نامی ایم پی اے چوہدری پرویزالٰہی کے کار خاص سمجھے جانے والے سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کا بھتیجا ہے۔ ساجد احمد خان بھٹی نامی ایم پی نے ہی وہ خط جاری کیا جس میں پنجاب اسمبلی میں قاف لیگ کے تمام اراکین کو وزارت اعلیٰ کے الیکشن میں پرویز الہی کو ووٹ ڈالنے کا کہا گیا تھا۔ لیکن چودھری شجاعت کا یہ موقف ہے کہ اگر وزیر اعلی کے الیکشن میں ووٹ دینے کا فیصلہ پارلیمانی سربراہ نے بھی کرنا یے تو ساجد بھٹی نامی رکن پنجاب اسمبلی کو انہوں نے کبھی قاف لیگ کا پارلیمانی سربراہ مقرر نہیں کیا تھا، لہذا یہ تقرری غیر قانونی ہے اور ساجد بھٹی کی جانب سے لکھے گئے خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ اس صورتحال میں آئینی اور قانونی ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے لیے قاف لیگ کے دس منحرف اراکین کے ووٹوں کو چوہدری پرویز الہی کے حق میں شمار کرنے کا فیصلہ دینا ناممکن ہے۔

یاد رہے کہ 22 جولائی کو ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے ایک خط اور سپریم کورٹ کے 17 مئی 2022 کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے اُنکی جماعت کے تمام اراکین صوبائی اسمبلی کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ڈالے گئے ووٹوں کو مسترد قرار دیا تھا اور یہ رولنگ دی تھی کہ پارٹی سربراہ کی منشا کے خلاف ووٹ نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ چوہدری شجاعت نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ قاف لیگ کے تمام اراکین پنجاب اسمبلی کو وزارت اعلیٰ کے الیکشن میں حمزہ شہباز کو ووٹ ڈالنے کا کہا گیا تھا۔ ڈپٹی سپیکر نے اس خط کا حوالہ دیتے ہوئے، سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا تذکرہ کیا جو آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا اور جس میں قرار دیا گیا تھا کہ منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہو گا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی اسی فیصلے کی بنیاد پر تحریک انصاف کے 25 اراکین صوبائی اسمبلی ڈی سیٹ ہوئے اور خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف کامیاب جماعت بن پر اُبھری تھی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی اس رولنگ کے بعد یہ بحث دوبارہ زور پکڑ چکی ہے کہ کیا کسی پارٹی کا سربراہ اس نوعیت کا فیصلہ کرنے کا مجاز ہے یا یہ اختیار پارلیمانی پارٹی کو حاصل ہے۔ لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ اگر ووٹ دینے کا فیصلہ پارلیمانی پارٹی کے سربراہ نے بھی کرنا ہے تو چوہدری شجاعت نے بطور صدر ساجد بھٹی نامی شخص کو پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی سربراہ مقرر نہیں کیا تھا لہٰذا اس کی ہدایت پر پرویز الہی کو ڈالے گئے ووٹ بھی شمار نہیں ہو سکتے۔

یاد رہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کے مطابق اگر چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے ریفرنس کے حق میں فیصلہ آ جاتا ہے تو منحرف رکن ‘ایوان کا حصہ نہیں رہے گا اور اس کی نشست خالی ہو جائے گی۔’ رواں برس مئی میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ نے تین دو کے اکثریتی فیصلے میں کہا تھا کہ منحرف اراکین کا ووٹ شمار نہیں ہو گا اور پارلیمان ان کی نااہلی کی مدت کے لیے قانون سازی کر سکتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے منحرف اراکین سے متعلق اس ریفرنس کی سماعت سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی تھی جس میں چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے۔ بینچ کے ارکان جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے بنچ کے تین ارکان سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے اقلیتی فیصلے میں لکھا کہ آئین کا آرٹیکل 63 اے اپنے آپ میں ایک مکمل کوڈ ہے جو پارلیمان کے کسی رکن کی ‘ڈیفیکشن’ یعنی انحراف اور اس کے بعد کے اقدام کے بارے میں جامع طریقہ کار بیان کرتا ہے۔ بینچ کے ان ارکان نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ان کی رائے میں ’آئین کی شق 63 اے کی مزید تشریح آئین کو نئے سرے سے لکھنے یا اس میں وہ کچھ پڑھنے کی کوشش ہو گی اور اس سے آئین کی دیگر شقیں بھی متاثر ہوں گی، جو صدر نے اس ریفرنس کے ذریعے پوچھا تک نہیں ہے۔ اس لیے ایسا کرنا ہمارا مینڈیٹ نہیں۔‘

Related Articles

Back to top button