ڈالر ملکی تاریخ میں‌ پہلی مرتبہ 240 روپے تک پہنچ گیا

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈالر 240 روپے کی نفسیاتی حد عبور کر گیا ہے، اتحادی حکومت کے دور میں روپے کی قدر میں اب تک 58 روپے کی کمی ہوئی ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ درآمدی بل میں اضافے اور ڈالر کی سمگلنگ کی وجہ سے روپے پر شدید دباؤ ہے۔

فاریکس ڈیلرز کے مطابق بدھ کو کاروبار کے آغاز پر انٹربینک میں ایک ڈالر کی قیمت ایک روپے اضافے کے بعد 240 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔کاروبار کے ابتدائی اوقات میں روپے کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ دیکھا گیا جو تاحال جاری ہے۔ جنرل سیکرٹری ایکسچینچ کمپینیز آف پاکستان ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں گراوٹ کی اہم وجہ ڈالر کی سمگلنگ اور امپورٹ بل میں اضافہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کے روپے میں بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔ موجودہ صورت حال میں اگر ڈالر کو ملک سے باہر جانے سے نہیں روکا گیا تو آنے والے دن مزید مشکل ہوسکتے ہیں۔معاشی ماہر سمیع اللہ طارق کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں بہتری کے لیے ضروری ہے کہ ایکسپورٹ میں اضافہ کیا جائے اور اخراجات میں کمی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس وقت درآمدی بل زیادہ ہے جس کی وجہ سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہو رہی ہے اور روپے پر دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔حکومت کو روپے کی قدر میں بہتری کے لیے مثبت اور دیرپا اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

Related Articles

Back to top button