کس سیاسی جماعت نے کتنے آرمی چیف تعینات کیے ہیں؟

پاکستانی سیاست میں اس وقت سب سے اہم سوال نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا ہے جسکا ذمہ دار وزیراعظم ہوتا ہے۔ آرمی چیف کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن وزیر اعظم کی ’ایڈوائس‘ پر صدر پاکستان جاری کرتے ہیں۔ دیکھنے میں تو یہ معمول کی تعیناتی ہے مگر اس کے پاکستانی دفاعی و خارجہ امور اور سیاست پر دور رس نتائج ہوتے ہیں اسی لیے اگر اسے پاکستان کی سب سے اہم تعیناتی کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ آئین کے مطابق نئے آرمی چیف کی تقرری وزیراعظم کی صوابدیدی اختیار ہے اور اس عہدے کی سیاسی اہمیت کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتیں اس تعیناتی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ موجودہ تین بڑی سیاسی جماعتوں میں سے کس جماعت کو کتنی بار یہ موقع ملا اور کس جماعت نے کتنی بار یہ تعیناتی کی۔ انڈپینڈنٹ اردو کے لیے ایک تفصیلی رپورٹ میں سینئر صحافی مونا خان نے بتایا ہے کہ سب سے زیادہ آرمی چیف مسلم لیگ ن نے تعینات کیے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے اب تک پانچ آرمی چیف تعینات کیے ہیں، پیپلز پارٹی نے چار جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے نیا آرمی چیف تعینات کرنے کے بجائے جنرل قمر باجوہ کو مدت ملازمت میں توسیع دینے کا فیصلہ کیا۔

سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پیپلز پارٹی کے حصے میں چار ادوار آئے جس میں آرمی چیف تعینات کرنے کے مواقع تین بار آئے۔ پہلا موقع تھا آیا جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوجی سربراہ جنرل گل حسن سے استعفی لیکر ان کی جگہ جنرل ٹکا خان کو نیا آرمی چیف تعینات کر دیا۔ ٹکا خان نے 3 مارچ 1972ء سے 29 فروری 1976ء تک مسلح افواج کی قیادت کی۔ 1976 وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ضیا الحق کو آرمی چیف تعینات کر دیا لیکن اس دیوس نے اگلے ہی برس جولائی 1977 میں نہ صرف منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ دیا بلکہ مارشل لگا کر بھٹو کو پھانسی دے دی اور پھر دس سال اقتدار پر قابض رہا۔ اگست 1988 میں ایک طیارہ حادثے میں ضیا کے جہنم رسید ہو جانے کے بعد وائس چیف آف آرمی سٹاف جنرل مرزا اسلم بیگ نئے فوجی سربراہ بنے۔ لیکن انہیں صدر غلام اسحاق نے تعینات کیا تھا کیونکہ وزیراعظم محمد خان جونیجو کو ضیا مرنے سے پہلے برطرف کر چکے تھے۔ اسکے بعد 1988 میں عام انتخابات ہوئے تو بینظیر بھٹو وزیراعظم بنیں۔ انکی پہلی حکومت 20 مہینے کے بعد تحریک عدم اعتماد کے وجہ سے ختم ہو گئی اور انہیں آرمی چیف تعینات کرنے کا موقع نہ مل سکا۔

اکتوبر 1993 سے نومبر 1996 تک دوسری بار اقتدار ملنے پر بے نظیر بھٹو نے جنوری 1996 میں جنرل جہانگیر کرامت کو آرمی چیف تعینات کیا گیا۔ بے نظیر بھٹو نے جہانگیر کرامت کو ریٹائرمنٹ سے دو ماہ پہلے ہی بطور جرنیل ترقی دے کر آرمی چیف بننے کا اہل بنا دیا تھا۔ پیپلز پارٹی کا چوتھا دور حکومت 2008 سے 2013 تک تھا جس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جنرل مشرف کے وائس چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو جولائی 2010 میں نیا آرمی چیف تعینات کر دیا۔ جب اشفاق پرویز کیانی اپنی مدت کے تین سال پورے کر رہے تھے تو پیپلز پارٹی حکومت میمو گیٹ سکینڈل میں پھنسائی جا چکی تھی لہٰذا صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم گیلانی نے نیا چیف تعینات کرنے کے بجائے کیانی کو انکی خواہش کے مطابق توسیع دینے کا فیصلہ کیا۔

اب ہم جانتے ہیں کہ مسلم لیگ نون نے کون کون سے آرمی چیف تعینات کیے۔ نواز شریف بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت گرنے کے بعد 1990 سے 1993 تک وزیراعظم رہے۔اس دوران انہوں نے جنرل اسلم بیگ کی ریٹائرمنٹ کے بعد 1991 میں جنرل آصف نواز کو آرمی چیف تعینات کیا۔ 1993 میں آصف نواز کی اچانک ہارٹ اٹیک سے موت کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے جنرل وحید کاکڑ کو آرمی چیف تعینات کیا۔1997 میں دوسری بار وزیر اعظم بننے کے بعد نواز شریف نے 1998 میں جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف تعینات کیا۔ تاہم اکتوبر 1999 میں نواز شریف نے جنرل مشرف کو عہدے سے ہٹا کر جنرل ضیا الدین بٹ کو آرمی چیف تعینات کر دیا۔ لیکن مشرف نے جوابی بغاوت کرتے ہوئے ان کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل نافذ کر دیا اور نواز شریف اور جنرل ضیاء الدین کو گرفتار کر لیا گیا۔

2013 میں تیسری بار وزیراعظم بننے کے بعد نواز شریف کو پھر آرمی چیف تعینات کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف تعینات کیا۔ اسی پانچ سالہ دور حکومت میں 2016 میں جنرل راحیل شریف کے تین سال بطور آرمی چیف مدت پوری ہونے پر نواز شریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف تعینات کیا۔

2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف حکومت میں آئی تو نومبر 2019 میں وزیر اعظم عمران خان کو نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا موقع ملا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت 29 نومبر 2019 کو مکمل ہو رہی تھی۔ تب سنیارٹی لسٹ میں لیفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار، لیفٹینیٹ جنرل ندیم رضا، لیفٹینیٹ جنرل ہمایوں عزیز، لیفٹینیٹ جنرل نعیم اشرف اور لیفٹینیٹ جنرل شیر افگن بطور پانچ سینئیر ترین جرنیل موجود تھے۔ لیکن وزیراعظم عمران خان نے نیا آرمی چیف منتخب کرنے کے بجائے جنرل قمر جاوید باجوہ کو تین سال کی توسیع دے دی۔ لسٹ میں دوسرے نمبر کے جرنیل ندیم رضا کو جنرل زبیر حیات کی ریٹائرمنٹ کے بعد 27 نومبر 2019 کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف تعینات کر دیا گیا۔ لیکن اب یہ دونوں جرنیل ریٹائر ہونے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ نیا آرمی چیف اور نیا چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف لگایا جائے گا۔

ماضی میں زیادہ تر ہمیشہ جونیئر جرنیلوں کو ہی ترقی دے کر آرمی چیف بنایا گیا ہے لیکن اس مرتبہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے حکومت سینئر ترین جرنیل کو نیا ارمی چیف بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جن کا نام لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ہے۔ پاکستانی تاریخ میں 14 میں سے صرف 4 آرمی چیف سینیئر ترین جنرلز تھے جن میں جنرل ٹکا خان، جنرل اسلم بیگ، جنرل جہانگیر کرامت اور جنرل اشفاق پرویز کیانی سنیارٹی میں پہلے نمبر پر تھے۔ ان میں جنرل اسلم بیگ اور جنرل اشفاق کیانی کیونکہ پہلے ہی وائس چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیے جا چکے تھے اسلیے انکو آرمی چیف بنانا ایک رسمی کارروائی تھی۔ یاد رہے کہ وائس چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ جنرل ضیاء اور جنرل مشرف دور میں تخلیق کیا گیا کیونکہ فوجی حکمران صدر بھی ہوتا تھا۔

اب 2022 میں اتحادی حکومت میں وزارت عظمیٰ پاکستان مسلم لیگ ن کے پاس ہونے کی وجہ سے ایک بار پھر آرمی چیف تعینات کرنے کا چھٹا موقع مسلم لیگ ن کے پاس ہے لیکن وزیراعظم اب شہباز شریف ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شہباز یہ تعیناتی اپنے بڑے بھائی نواز شریف اور اپنی اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے ساتھ کریں گے۔تاہم منتخب حکومتوں میں سب سے زیادہ آرمی چیف اب تک نواز شریف نے تعینات کیے ہیں۔ مسلم لیگ والے عموما توسیع نہیں دیتے بلکہ ہر بار نیا چیف ہی مقرر کرتے ہیں۔ نواز شریف نے پانچ بار آرمی چیف تعینات کیے، لیکن انہوں نے ہمیشہ سنیارٹی اصول کو نظرانداز کیا ہے۔

Related Articles

Back to top button