کیا اسٹیبلشمنٹ دوبارہ عمران کو اپنا لاڈلا بنانے کو تیار ہے؟


معروف صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ نے دوبارہ عمران خان کی گالی گلوچ سے بلیک میل ہو کر انہیں گلے سے لگایا تو باقی سیاسی جماعتوں کو بھی یہ پیغام ملے گا کہ فوج کی تابعداری اور دوستی کی بجائے گالم گلوچ اور بلیک میلنگ کا طریقہ زیادہ موثر ہے، چنانچہ وہ بھی پوری قوت کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف میدان میں نکلیں گی اور شدت سے گالی گلوچ کریں گی۔ لیکن اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ دباؤ نہ لے تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عمران کی جھوٹی کہانیوں کے جواب میں سچی کہانیاں بیان ہونا شروع ہو جائیں، چنانچہ اب ہماری اسٹیبلشمنٹ کو بھی اپنی پوزیشن واضح کرنی ہوگی۔ اگر اسٹیبلشمنٹ نے لاڈلے کو دوبارہ سے لاڈلا بنایا تو بھی صورت حال واضح ہوجائے گی اور اگر اس نے ویسے حکومت کا ساتھ دینا شروع کر دیا جیسے عمران کا دیتی رہی تو پھر پی ٹی آئی یقینا بکھر جائے گی، دونوں صورتوں میں ملکی منظر نامہ واضح ہوجائے گا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ سابق صدر آصف علی زرداری  اور مولانا فضل الرحمن مفت میں تیس مار خان بن رہے ہیں کہ عمران خان کی حکومت ہم نے گرا دی، امریکی سازش کا بیانیہ بھی بکواس ہے، سیدھی سی بات یہ ہے کہ عمران خان کو اقتدار میں فوجی اسٹیبلشمنٹ لائی تھی اور اسی نے اسے گھر بھی جانے دیا۔ اپنی ساکھ داو پر لگا کر اسٹیبلشمنٹ نے عمران کی پارٹی بنوائی، ان سے دھرنے کروائے، انہیں عدالتوں، الیکشن کمیشن اور نیب سے بچایا۔ اسکے باوجود عمران مرکز اور پنجاب میں حکومت نہیں بنا سکتے تھے لہٰذا، باپ پارٹی، قاف لیگ اور ایم کیو ایم کے بازو مروڑ کر انکے ساتھ اتحاد بالجبر پر مجبور کرایاگیا۔ اس کے بعد بھی عمران حکومت چل نہیں پارہی تھی، اب تو موصوف نے خود اعتراف کر لیا ہے کہ میں نے پارلیمنٹ سے کوئی بل پاس کروانا ہوتا یا اعتماد کا ووٹ لینا ہوتا تو مجھے ایجنسیوں کی مدد لینا پڑتی تھی۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ ایسے میں تنگ آکر فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عمران حکومت کو فراہم کردہ غیرقانونی اور غیرآئینی سپورٹ سے دست کشی اختیار کرلی۔ چنانچہ عمران حکومت دھڑام سے گر گئی۔ کپتان حکومت گرنے کے بعد اپوزیشن کے پاس دور راستے تھے۔ ایک یہ کہ وہ اسمبلی تحلیل کرکے فوری انتخابات کی طرف آتی اور دوسرا یہ کہ وہ مرکز اور پنجاب میں اپنی حکومت بناتی۔ تب یہ رائے بنی کہ اسے فوری الیکشن میں جانے کے بجائے اپنی اتحادی حکومت بنانی چاہئے۔ آصف علی زرداری نے اس کیلئے مختلف دلائل تراشے لیکن حقیقت یہ ہے کہ فوری انتخابات سے پیپلز پارٹی گھبراتی ہے۔
وہ سوچتی ہے کہ مرکز اور پنجاب تو دور کی بات اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ کے بغیر سندھ بھی انہیں مشکل سے واپس ملے گا۔ اسی طرح انہوں نے پرویز الہٰی کو ساتھ ملاکر پنجاب میں بھی باالواسطہ اپنی حکومت بنانے کا منصوبہ بنایا تھا جو آخری وقت میں خراب ہوا۔ مگر تین بڑی جماعتوں نے ہوس اقتدار میں نہایت غلط فیصلے کئے اور اپنے عمل سے یہ سبق دیا کہ پچھلے پانچ سال کی مار سے انہوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے سلیم صافی کہتے ہیں کہ ان تین بڑی جماعتوں نے آپس میں وزارتوں کی بندر بانٹ شروع کردی۔ تمام اہم مناصب نون لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے لے لئے۔ مولانا پی ڈی ایم کے صدر تھے اور اصولی طور پر ہونا یہ چاہئے تھا کہ وہ پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس بلا کر زرداری کے ساتھ بیٹھ کر حکومت سازی کرتے لیکن جب سے حکومت ملی ہے تب سے مولانا نے پی ڈی ایم کا کوئی اجلاس نہیں بلایا۔ انہوں نے آفتاب شیرپاو کو جائز حصہ دلوایا، نہ محمود خان اچکزئی کو اور نہ ہی اختر مینگل وغیرہ کو۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی نے اپنے لئے تو سب کچھ حاصل کرلیا لیکن اے این پی، جو اس کی خاطر پی ڈی ایم سے نکلی تھی، اسے کوئی اہم وزارت تو کیا، پختونخوا کی گورنرشپ بھی نہ دلواسکے۔ ادھر عمران خان نے امریکی سازش کا ایک بیانیہ گڑھ لیا اور اس ڈھول کو اس قدر پیٹا کہ عام آدمی اس پر یقین کرنے لگا۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ دوسری طرف افسوس کی بات یہ ہے کہ شہباز حکومت کے پاس کوئی بیانیہ نہیں۔ بیانیہ بنانا تو دور کی بات، حکومت ملنے کے بعد سے کبھی یہ لوگ آپس میں بیٹھے ہی نہیں۔ تمام اتحادی جماعتوں کی سرگرمیوں کا مرکز ومحور اپنے لئے زیادہ سے زیادہ مناصب سمیٹنا ہے۔ تین ماہ ہوگئے لیکن خیبت پختونخوا، بلوچستان، سندھ اور گلگت بلتستان کے گورنروں پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ اپنی اپنی مرضی کا چیئرمین نیب لگوانا چاہتی ہیں، دوسری جانب فرح خان، بشریٰ بی بی ، مانیکا خاندان اور کئی وزرا کے خلاف کرپشن فائلوں کے انبار لگے ہیں، توشہ خانہ کیس تیار ہے لیکن نیب کا چیئرمین نہ ہونے کی وجہ سے حکومت آج تک ان کے خلاف کیسز دائر نہ کراسکی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اتحادی حکومت پی ٹی آئی کے خلاف کیسز بنانے سے زیادہ اپنے کیسز ختم کرانا ہے۔عمران خان جھوٹ پر مبنی امریکی سازش کا چورن بیچ گے لیکن حکومت سچ کو بھی کیش نہ کرا سکی۔ عمران خان اپنی سیاست سازشی تھیوری کی بنیاد پر کررہے ہیں اور حکومت ناقص میڈیا اسٹریٹجی کی وجہ سے قوم کو یہ سمجھانے میں بھی ناکام ہے کہ عمران نے معیشت کس حال میں چھوڑی تھی اور اسے آئی ایم ایف کے کہنے پر مشکل فیصلے کیوں کرنے پڑے۔ اسی لیے ضمنی الیکشن میں عمران کی ناقص معاشی پالیسیوں کا ملبہ اس پر آن گرا۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ ویسے بھی اس حکومت میں قوت فیصلہ کے فقدان کا یہ عالم ہے کہ یہ آج تک قومی اسمبلی سے پی ٹی آئی ممبران کے استعفے منظور نہیں کراسکی۔ جہاں تک ضمنی الیکشن میں شکست کا تعلق ہے، تو حقیقت یہ ہے کہ حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ بنانے کے فیصلے کا لوگوں نے برا منایا کیوں کہ باپ پہلے ہی وزیراعظم بن چکا تھا۔لیکن ضمنی انتخابات کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ اتحادی قیادت اور وزیروں کی گردنوں میں جو سریا آ گیا تھا، وہ کسی حد تک نکل گیاہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ اب فوجی اسٹیبلشمنٹ کو بھی کچھ کرنا پڑے گا۔ وہ یا تو عمران خان کو دوبارہ گلے لگا لے گی یا پھر جواب دینے پر آجائے گی۔

Related Articles

Back to top button