کیا جنرل باجوہ تین سال کی توسیع لینے پرشرمندہ ہیں؟


آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سال 2019 میں وزیراعظم عمران خان سے اپنے عہدے میں تین برس کی توسیع لینے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ انکشاف سینئر صحافی عمر چیمہ نے آرمی چیف کے ایک ملاقاتی کے دعوے کی بنیاد پر کیا ہے جو شاید وہ خود ہیں کیونکہ ان کی بھی کچھ عرصہ پہلے جنرل باجوہ سے ملاقات ہوئی تھی۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ حکومتی ذرائع کے مطابق جنرل قمر باجوہ پچھلے ہفتے تک اپنے عہدے میں ایک اور توسیع کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے۔

سینئر صحافی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران جنرل باجوہ نے کہا تھا کہ وہ طے شدہ تاریخ 29؍ نومبر کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ ان کے ایک ملاقاتی کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ نے عہدے میں پچھلی توسیع قبول کرنے پر افسوس کا اظہار کیا جو کہ عمران خان نے انہیں 2019ء میں دی تھی۔ لیکن اس کے بعد عمران خان نے رواں سال فروری میں اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آنے کے بعد جنرل قمر باجوہ کو ایک اور توسیع دینے کی آفر کی تھی۔ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم نے ایک پریس کانفرنس میں یہ انکشاف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ جنرل باجوہ نے یہ پیشکش مسترد کردی تھی۔ اس دعوے کی تصدیق عمران خان بھی کر چکے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ میں نے جنرل باجوہ کو عہدے میں توسیع کی کاؤنٹر پیشکش کی تھی کیونکہ مجھے یہ اطلاع ملی تھی کہ وہ شاید اسلئے میری حکومت بچانے کی کوشش نہیں کر رہے کہ اپوزیشن نے ان سے عہدے میں توسیع کا وعدہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ جنرل باجوہ اپنی توسیعی مدت کے اختتام پر 29 نومبر 2022 کو ریٹائر ہو رہے ہیں، انہوں نے کئی ماہ قبل عندیہ دیا تھا کہ وہ اب ریٹائر ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم اس دوران ایسی اطلاعات بھی آتی رہیں کہ باجوہ صاحب پس پردہ اپنے عہدے میں توسیع کے لیے کوشاں ہیں اور ‘پراجیکٹ عمران خان’ کو بھی اسی لیے پوری طرح لپیٹنے کی اجازت نہیں دے رہے تا کہ حکومت مسلسل دباؤ میں رہے اور ان کی توسیع کا چانس بن جائے۔ کچھ سیاسی تجزیہ کار تو یہ بھی سمجھتے ہیں کہ عمران خان اور جنرل باجوہ مل کر کھیل رہے تھے اور شاید اسی لیے کپتان سے 6 مہینے گالیاں کھانے کے باوجود جنرل باجوہ نے ان سے پچھلے ماہ ایوان صدر میں ایک خفیہ ملاقات کی۔ اس ملاقات کے فوری بعد عمران خان نے باجوہ کو اگلے انتخابات کے نتیجے میں نئی حکومت کے قیام تک عہدے پر برقرار رکھنے کی تجویز دی تھی جسے کہ اتحادی حکومت نے مسترد کر دیا اور یوں جنرل باجوہ کو اپنی ریٹائرمنٹ کا خود ہی اعلان کرنا پڑ گیا۔ اب جنرل باجوہ نے آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ کے دورے کے ساتھ فارمیشنز کے اپنے الوداعی دوروں کا آغاز کر دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ کی جانب سے الوداعی ملاقاتوں کے آغاز کے بعد سیاسی غیر یقینی میں کمی آئے گی۔ اس سے پہلے یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ آرمی چیف چاہتے تھے کہ انکو عہدے میں توسیع دے دی جائے لیکن اس تجویز کو اتحادی حکومت خصوصاً نواز شریف اور آصف زرداری کی جانب سے پذیرائی نہیں ملی۔ بتایا جاتا ہے کہ اپنے عہدے میں ایک اور توسیع کے لیے حکومت پر نہ صرف جنرل باجوہ کی جانب سے دباؤ تھا بلکہ پاکستان کے کچھ دوست ممالک بشمول سعودی عرب، نے بھی ایسا کرنے کی تجویز دی تھی۔ لیکن ایسا کیا جاتا تو فوج میں بڑے پیمانے پر اضطراب پھیلنے کا خدشہ تھا لہذا اس تجویز سے صرف نظر برتنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ نیا آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے مشورے سے لگایا جاتا ہے یا حکومت اپنی مرضی کرتی ہے۔ یاد رہے کہ 20؍ نومبر 2016ء کو وزیراعظم نواز شریف نے جنرل باجوہ کو نیا آرمی چیف لگایا تھا حالانکہ تب وہ سنیارٹی میں پانچویں نمبر پر تھے۔ پھر وہی ہوا جو نواز شریف کے ساتھ ہمیشہ ہوتا ہے اور یوں ایک برس بعد ہی 2017 میں سپریم کورٹ نے انہیں نا اہل کردیا۔ جنرل باجوہ نے نواز شریف کی جگہ اپنے فیورٹ کرکٹر کو 2018 میں دھاندلی زدہ الیکشن کے ذریعے وزیراعظم بنوا دیا۔ پھر 2019 میں عمران خان نے اپنے محسن جنرل باجوہ کو تین برس کی توسیع دے دی۔ اب جنرل باجوہ کا 6 سالہ دور 29 نومبر کو ختم ہونے جا رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button