کیا شہباز حکومت جبری گمشدگیاں روک پائے گی؟


نئے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے لاپتہ اور گمشدہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کے دعوے کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا وہ واقعی ایسا کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے چونکہ پچھلے وزیراعظم عمران خان نے بھی اقتدار میں آتے ہی یہ دعوی ٰکیا تھا لیکن انکے دور میں یہ سلسلہ عروج پر پہنچ گیا۔ یاد رہے کہ وزیراعظم کے حالیہ دورہ کوئٹہ کے دوران بلوچستان کی سیاسی قیادت نے شہباز شریف سے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد انہوں نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ متعلقہ اداروں سے بات چیت کر کے اس مسئلے کا حل نکالنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
دوسری جانب خفیہ اداروں کے ہاتھوں ہونے والی جبری گمشدگیاں اب ہمارے معاشرے کا ناسور بن چکی ہیں، ارباب اختیار کے دعوئوں کے باوجود یہ مسئلہ جوں کا توں اپنی جگہ موجود ہے، سب سے زیادہ لاپتہ افراد کا تعلق بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے علاقوں سے ہے جن کے بارے میں عمومی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایجنسیوں کے عقوبت خانوں میں قید ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن کے پاس اب بھی دو ہزار سے زائد غیر حل شدہ مقدمات موجود ہیں۔ 2009 کے وسط سے لاپتہ ڈاکٹر دین محمد کی بیٹی سَمی دین بلوچ وزیراعظم شہباز شریف کی حالیہ یقین دہانی سے زیادہ پُراُمید نہیں اور ان کے خیال میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرح نئے وزیراعظم شہباز شریف بھی یہ مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے سمی دین بلوچ نے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔
سمی کے والد ڈاکٹر دین محمد 28 جون 2009 کو ضلع خضدار کے علاقے اورناچ سے تب لاپتہ ہو گئے تھے جب وہ ایک ہسپتال میں رات کی ڈیوٹی پر تھے، لیکن 13 برس گزر جانے کے باوجود ابھی تک ان کا کوئی پتہ نہیں لگ پایا۔
یاد رہے کہ دہشت گردوں اور باغیوں سے جنگ کے نام پر بلوچستان اور سابق فاٹا میں ایک دہائی قبل شروع ہونے والی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ گزشتہ برسوں میں اسلام آباد، خیبر پختونخوا اور سندھ سمیت بڑے شہری مراکز تک پھیل گیا ہے۔ لاپتا افراد کے لواحقین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی مسلسل مہم کے بعد مارچ 2011 میں جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن قائم کیا گیا تھا، لیکن وہ بھی صرف چند لاپتا افراد کو تلاش کرنے میں کامیاب رہا۔ بنیادی طور پر اس کمیشن کی سربراہی ایک ایسا شخص جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کر رہا ہے جو نیب کا چیئرمین بھی ہے اور اس کے پاس اس کام کے لیے وقت ہی نہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کمیشن کے پاس اب بھی 2 ہزار سے زیادہ غیر حل شدہ مقدمات موجود ہیں، لیکن لاپتہ کمیشن کے چیئرمین سال میں ایک آدھ مرتبہ ہی گونگلوں سے مٹی جھاڑنے کے لیے کمیشن کا اجلاس بلاتے ہیں۔ زیادہ تر کیسز میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے سکیورٹی ایجنسیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ لوگوں کو عسکریت پسند سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شبے میں اُٹھا کر لے جاتی ہیں، اس الزام کی حکام نے کئی بار تردید کی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو لاپتہ لوگ اب تک واپس آئے ہیں انھوں نے یہی بتایا ہے کہ وہ ایجنسیوں کی تحویل میں تھے۔
سمی دین بلوچ کاکہنا ہے کہ انکے والد کی گمشدگی نے انہیں انکے بچپن سے محروم کر دیا، وہ 13 سال سے لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھاتے ہوئے بڑی ہوئی ہیں، 2008 میں پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے تمام وزرائے اعظم نے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کی بات کی ہے، ان سب نے اس مسئلے کو حل کرنے کا عزم کیا لیکن آج تک عملی طور پر اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو پائی۔
سمی دین نے بتایا کہ شہباز شریف کی طرح عمران خان سمیت دیگر وزرائے اعظم نے ہمیں یقین دلایا کہ بلوچ لاپتا افراد کا مسئلہ ان کی اولین ترجیح ہے، لیکن ان دعوئوں کو حقیقت بنتے دیکھنا ابھی باقی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ سویلین قیادت بدل جاتی ہے لیکن لاپتہ افراد بازیاب نہیں ہوتے بلکہ ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، سمی کہتی ہیں کہ جب سیاستدان حکومت میں نہیں ہوتے تو وہ اس مسئلے پر آواز اٹھاتے ہیں اور اسے حل کرنے کا عہد کرتے ہیں، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد وہ یا تو اسے بھول جاتے ہیں یا سمجھ جاتے ہیں کہ یہ مسئلہ حل کرنے کی طاقت اور اختیار ان کے پاس نہیں۔
سمی دین نے مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عمران دور حکومت میں انہوں نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ ان کی حکومت لاپتا افراد کا مسئلہ حل کرے گی، اب ان کی حکومت بن چکی ہے، لہٰذا انہیں لاپتا افراد کو رہا کرانے میں بھرپور کردا رادا کرنا چاہئے۔ لاپتہ افراد کی تحقیقات کیلئے قائم کمیشن کے مطابق 10 سالوں میں 228 لاپتہ افراد کی لاشیں ملیں جن میں 67 کا تعلق پنجاب سے، 59 افراد کا سندھ سے، 61 افراد کا خیبر پختونخوا سے، 31 افراد کا تعلق بلوچستان سے، 8 کا تعلق اسلام آباد سے جبکہ دو افراد کا تعلق آزاد جموں کشمیر سے تھا، کمیشن کے مطابق عمران خان کے دور حکومت میں سال 2021 میں لاپتہ افراد کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔

Related Articles

Back to top button