کیا شہباز حکومت عمران کی گرفتاری کا رسک لینے والی ہے؟


پشاور میں دو ہفتے قیام کے بعد ضمانت لے کر بنی گالہ واپس پہنچنے والے عمران خان کی گرفتاری کے حوالے سے ابھی تک صورتحال واضح نہیں ہو پائی. ایک جانب تحریک انصاف کی قیادت کا کہنا ہے کہ حکومت نے عمران خان کو گرفتار کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے اور اسی لئے انہوں نے پشاور ہائی کورٹ سے راہداری ضمانت حاصل کی ہے۔ دوسری جانب وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ خان کا کہنا ہے کہ 25 جون کو جیسے ہی عمران خان کی راہداری ضمانت ختم ہوگی ان کی سکیورٹی پر تعینات عملہ ہیں انہیں گرفتار کر لے گا۔ تاہم اتحادی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک عمران کی گرفتاری کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا جس کی وجہ سے اس معاملے پر متضاد آرا کا پایا جانا ہے۔ حکومت ابھی تک یہ فیصلہ بھی نہیں کر پائیں کے آیا عمران خان کے خلاف فوج اور ریاست مخالف بیانات کی وجہ سے غداری کا مقدمہ درج کیا جائے یا ان کے کرپشن کیسز کے حوالے سے کارروائی کی جائے۔ حکومتی حلقوں میں غالب رائے یہی ہے کہ اگر عمران کو گرفتار کیا گیا تو انہیں اس کا سیاسی طور پر فائدہ ہو جائے گا اور یوں ان کی ناکام ہوتی حکومت مخالف تحریک دوبارہ سے ٹیمپو پکڑ لے گی۔

دوسری جانب پشاور میں دو ہفتے کے قیام کے بعد بنی گالہ واپسی کے بعد عمران کے حامی ان کی گرفتاری کی ممکنہ حکومتی کوشش ناکام بنانے کے لیے انکی رہائش گاہ کے باہر حفاظتی حصار بنائے ہوئے ہیں۔ اس دوران پی ٹی آئی رہنما اور حکومتی وزرا ایک دوسرے پر اشتعال انگیزی کے الزامات لگا رہی ہیں جس سے سیاسی درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے عمران کو گرفتار کرنے کی کوشش ایک سنگین غلطی ہوگی کیونکہ اس سے سیاسی درجہ حرارت میں شدت آ جائے گی۔ سابق وزیر اطلاعات اور عمران خان کے قریبی ساتھی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر عمران کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو حکومت کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے بتایا کہناس وقت بنی گالہ میں ایسے کارکن بیٹھے ہوئے ہیں، جن کو نہ تو اپنی جان کی پرواہ ہے نہ کسی اور بات کی پرواہ ہے۔ وہ اہنے کپتان کی خاطر لڑنے مرنے کے لئے تیار ہیں اور ہر حالت میں عمران کی حفاظت کریں گے کیونکہ وہ 22 کروڑ عوام کا نجات دہندہ ہے جو کرپٹ مافیا کے خلاف اکیلا جنگ لڑ رہا ہے۔ فواد چودھری نے عمران اور ان کی اہلیہ پر لگنے والے کرپشن کے الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب ایک سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد عمران کی سیاسی ساکھ خراب کرنا ہے۔

سابق وزیر اعظم کے ایک اور قریبی ساتھی بابر اعوان کا کہنا ہے کہ عمران نے ضمانت قبل از گرفتاری لے رکھی ہے لیکن یہ کرپٹ حکومت انتقام کی آگ میں اندھی ہو چکی ہے اور ہر طور پر عمران کو گرفتار کرنا چاہتی ہے۔ انکے مطابق ہمیں خدشہ ہے کہ یہ حکومت عمران کےخلاف جعلی مقدمات درج کرائے گے اور پھر ان کا بہانہ بنا کر انہیں گرفتار کرنے کی کوشش ہو گی، جو عوام کسی صورت بھی برداشت نہیں کرے گے اور ہم اسکی سخت مزاحمت کریں گے۔‘

دوسری جانب حکومت کا الزام ہے کہ عمران خان کی کرپشن کھل کر سامنے آ چکی ہے اور اب ان کے پاس بچنے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا لہٰذا وہ توشہ خانہ کی گھڑی سے لے کر ہیرے کی انگوٹھی تک تمام معاملات کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اپنے خلاف کرپشن الزامات پر گرفتاری سے بچنے کے لئے عمران نے اپنی توپوں کا رخ حکومت کے ساتھ ریاستی اداروں اور فوج کی طرف بھی کردیا ہے اور وہ اپنی حمایت میں ریٹائرڈ فوجیوں کی تنظیموں کو بھی سامنے لے آئے ہیں تاکہ اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف اور آصف زرداری کرپشن الزامات پر نیب کے ہاتھوں گرفتار ہو سکتے ہیں اور جیل میں قید کیے جا سکتے ہیں تو عمران کوئی آسمان سے تو نہیں اتتے کہ انکے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔

تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے عمران خان کی گرفتاری کی باتیں دراصل انہیں ڈرانے کے لیے ہیں تاکہ وہ دوبارہ سے لانگ مارچ شروع کرتے ہوئے سڑکوں پر آنے سے گریز کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے عمران خان کو گرفتار کیا تو اس سے ان کے اس بیانیے کو تقویت پہنچے گی، جس میں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے ساتھ ظلم ہوا ہے اور انہیں سازش کے تحت اقتدار سے باہر کیا گیا ہے۔ انکے مطابق عمران کی طرف سے سازش کے بیانیے کو پہلے ہی عوام میں مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ بہت سے لوگ ان کی اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت کو سازش کے ذریعے باہر نکالا گیا ہے۔ اگر عمران خان کو گرفتار کیا گیا تو ان کے مظلومیت کے بیانیے کو مزید تقویت ملے گی جس سے حکومت کو سیاسی طور پر بہت نقصان اور پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر فائدہ ہوگا۔

Related Articles

Back to top button