کیا شہباز شریف بطور وزیر اعظم بھی خود کو منوا پائیں گے؟

ایک ہائیپر ایکٹو اور سخت جان ایڈمنسٹریٹر کی شہرت رکھنے والے شہباز شریف 13 سال تک بطور وزیر اعلیٰ پنجاب کام کرنے کے بعد اونچی اڑان بھرتے ہوئے اب وزارت عظمیٰ تک پہنچ گئے ہیں، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جن حالات میں انہیں یہ منصب ملا ہے وہ انکے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس سے نبرد آزما ہونا آسان نہیں ہو گا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ ایک بار پھر بدل چکی ہے، عمران خان اب سابق وزیر اعظم ہو چکے ہیں، نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف کو قریب سے جاننے والے سرکاری افسران اور صحافی سمجھتے ہیں کہ بطور وزیر اعلیٰ وہ ایک زبردست منتظم تھے جو اپنے لیے اہداف مقرر کرنے کے بعد انھیں پورا کر لینے تک چین سے نہیں بیٹھے تھے اور یہی ان کی کامیابی کا راز بھی ہے۔ لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب جو ساکھ بنائی تھی اسے بطور وزیر اعظم بھی برقرار رکھ پائیں گے کیونکہ وہ ایک اتحادی حکومت کی سربراہی کر رہے ہیں جو ماضی کی حکومت سے علیحدہ ہو کر انکے ساتھ آئے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں اپنے جوہر دکھانے کے لئے پانچ سال نہیں بلکہ مشکل سے ایک ہی سال ملا ہے لہٰذا اس ایک برس میں وہ جو کارکردگی دکھائیں گے، اگلے الیکشن میں ان کی قابلیت کا فیصلہ اسی کی بنیاد پر ہوگا۔
شہباز شریف کے کیریئر پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے انہوں نے تعلیم حاصل کرنے کے بعد شریف خاندان کا مشترکہ کاروبار اپنے والد میاں محمد شریف کی زیر نگرانی سنبھالا جنہوں نے ان کی ٹریننگ کی، 1985 میں شہباز شریف لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر بنے، پہلی بار شہباز 1988 میں پنجاب اسمبلی کے رُکن بنے، 1990 میں قومی اسمبلی اور 1993 میں دوبارہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، اسی سال وہ صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی بنے۔
1997 کے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے کامیابی سمیٹی تو شہباز شریف پہلی مرتبہ پنجاب کے وزیرِاعلیٰ منتخب ہوئے، شہباز بنیادی طور پر محاذ آرائی کی سیاست کے قائل نہیں، ان کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ سمیت سب کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے۔
وہ ماضی قریب میں نواز شریف کے مزاحمتی بیانیے کے برعکس مفاہمتی بیانیہ لے کر چلتے رہے ہیں۔ کچھ ایسی ہی پالیسی ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے بھی اپنائی۔
1999 میں مشرف کی فوجی بغاوت کے بعد شہباز اور نواز دونوں کو جیل میں ڈال دیا تھا، تاہم شہباز اپنے مفاہمتی بیانیے کی وجہ سے جلد باہر آ گئے جبکہ نواز شریف کو سزا سنا دی گئی۔ سال 2000 میں شریف خاندان پرویز مشرف کے ساتھ ایک مبینہ ڈیل کے بعد جلا وطن ہو کر سعودی عرب چلے گیا، پھر سات سال بعد شریف خاندان 2007 میں پاکستان واپس آیا تو 2008 کے عام انتخابات کے نتیجے میں پیپلزپارٹی نے مرکز میں حکومت بنا لی، لیکن شہباز شریف ان الیکشن میں حصہ نہ لے سکے۔
2013 کے الیکشن میں کامیابی کے بعد شہباز مسلسل دوسری بار اور مجموعی طور پر تیسری بار پنجاب کے وزیرِاعلیٰ منتخب ہوگئے، ان 10 برسوں کے دوران ان کے بارے میں ’ایک سخت لیکن کامیاب ایدمنسٹریٹر‘ ہونے کا تاثر سامنے آیا، بطور وزیر اعلیٰ ’شہباز شریف کی روٹین یہ ہوتی تھی کہ وہ صبح چھ بجے بیدار ہوتے اور کام شروع کر دیتے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ شہباز شریف ہی کی محنت تھی جس کی وجہ سے ملک بجلی کے بحران سے باہر آیا اور 2013 کے الیکشن میں نواز شریف اور انکی جماعت کی جیت میں اس کا بہت بڑا کردار تھا، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چینی حکام شہباز شریف کے کام کی رفتار سے بہت متاثر تھے، اسی وجہ سے ان کو شہباز سپیڈ کا ٹائٹل بھی دیا گیا۔
شہباز شریف نے ’تمام تر تنقید اور مخالفت کے باوجود لاہور میں میٹرو بس کا منصوبہ مکمل کیا جو کامیاب رہا، اس کے بعد یہی منصوبہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے علاوہ ملتان میں بھی شروع کیا گیا، خود خیبرپختونخوامیں عمران خان کی حکمران جماعت نے بھی شہباز کی کاپی کی اور ایسا ہی پراجیکٹ پشاور میں شروع کیا گیا۔ لاہور میں اورنج لائن ٹرین چلانے کے منصوبے پر بھی شہباز شریف کو حزبِ اختلاف کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس بارے اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ یہ پراجیکٹ اتنا مہنگا تھا کہ حکومت کے لیے اس کو سبسڈی پر چلانا مشکل تھا تاہم بعد میں یہ پراجیکٹ تحریکِ انصاف کی حکومت میں چلنا شروع ہوا اور ابھی تک چل رہا ہے۔ تاہم 2017 میں حالات تب بدلے جب نواز شریف کو سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں تاحیات نااہل قرار دے دیا، پارٹی کی صدارت تو شہباز شریف کے پاس آ گئی لیکن وزارت عظمیٰ شاہد خاقان عباسی کے حصے میں گئی۔
2018 کے انتخابات میں شہباز شریف نے پنجاب چھوڑ کر مرکز میں آنے کا فیصلہ کیا، وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور دوسری بڑی جماعت کے لیڈر ہونے کی وجہ سے قائدِ حزبِ اختلاف بھی منتخب ہو گئے۔ان کے خلاف بھی مبینہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مقدمات قائم ہوئے تاہم تاحال انھیں کسی مقدمے میں سزا نہیں ہوئی ۔ حال ہی میں شہباز شریف نے آصف زرداری کی زیر قیادت حزبِ اختلاف کی باقی جماعتوں کے ساتھ مل کر عمران خان کے خلاف تحریک چلائی جوکہ کامیاب رہی، اس طرح وہ وزیراعلیٰ سے وزرات عظمیٰ کے عہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس مختصر دورانیے کی حکومت کے دوران بطور وزیر اعظم بھی وہ دھاک بٹھا سکیں گے جو انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ بٹھائی تھی؟

Related Articles

Back to top button