کیا عمران دوبارہ فوج کی مدد سے اقتدار لے سکتے ہیں؟


بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور غیر یقینی کی فضا میں اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا شہباز شریف حکومت کا جانا ٹھہر چکا ہے اور عمران خان جلد نئے الیکشن کے نتیجے میں دوبارہ برسر اقتدار آ سکتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن ہے بشرطیکہ وہ دوبارہ سے طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ جب اپریل میں عمران خان کو بہت بے آبرو کر کے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے نکالا گیا تھا تو زیارہ تر تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ وہ اب دوبارہ کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکیں گے۔ لیکن انہوں نے حکومت سے فارغ ہونے کے بعد جس شاطرانہ طریقے سے غیر ملکی سازش کا ڈھنڈورا پیٹا، اس نے ان کی چار سالہ حکومتی ناکامیوں پر پردہ ڈال دیا۔ اسکے بعد عمران نے اپنے دور میں آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کے باعث ہونے والی ہوشربا مہنگائی کا مدعا بھی شہباز حکومت پر ڈال دیا اور عوامی ہمدردیاں سمیٹنا شروع کر دیں۔ عمران نے فوجی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ پر کھل کر حملے کیے اور ہر طرح کے الزامات لگائے تاکہ وہ دباؤ میں آ جائیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ عمران کی گالی گلوچ اور دھمکی کی حکمت عملی تھی جس نے فوج کو پیچھے ہٹنے اور عدلیہ کو ان کا ساتھ دینے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ اب ایک ایسا ماحول بن چکا ہے جس میں اسی سال نئے الیکشن ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

موجودہ سیاسی صورتحال میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان ناصرف جلد نئے الیکشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں بلکہ وہ انہیں جیتنے کا بھی سوچ سکتے ہیں جیسا کہ 2018 میں ہوا تھا۔ اس تاثر کی بنیادی وجہ وہ افواہیں بن رہی ہیں جنکے مطابق فوجی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ میں موجود طاقتور دھڑے عمران خان کو دوبارہ اقتدار میں لانا چاہتے ہیں۔ لیکن حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسے زور زبردستی سے فوری الیکشن پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اور اگر عمران خان نے فوج اور عدلیہ کے ساتھ مل کر زیادہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تو ان اداروں کو سخت عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم نیا دور میڈیا کے چیف ایڈیٹر رضا رومی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی اقتدار میں واپسی کو بعید از قیاس قرار نہیں دیا جا سکتا۔ وہ اس وقت اسٹیبلشمنت مخالف سیاست کی لہر پر سوار ہیں اور ان کے سیاسی حریف بمشکل اپنا دفاع کر رہے ہیں، دوسری جانب شہباز حکومت کو قومی اسمبلی میں ایک نحیف سی اکثریت حاصل ہے اور اگر کوئی اتحادی جماعت الگ ہو جائے تو حکومت گر جائے گی، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ فوج ایک مرتبہ پھر عمران خان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لے۔

رضا رومی کے بقول فوجی اسٹیبلشمنٹ ایک بڑی مشکل میں پھنس چکی ہے۔ “اگر یہ فوری الیکشن کی طرف نہیں جاتی تو عمران خان مزید سیاسی عدم استحکام پیدا کرے گا اور اگر فوج الیکشن کی طرف بڑھتی ہے تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا معاشی بحران پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا”۔ دوسری جانب پاکستان کی موجودہ معاشی بدحالی کے ذمہ دار عمران خان نے یہ شاطرانہ موقف اپنا لیا ہے کہ معیشت کی بربادی کی ذمہ دار شہباز شریف کی حکومت ہے اور ملک کو دیوالیہ پن سے بچانے کے لیے ان کا اقتدار میں آنا ضروری ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ عمران خان اقتدار میں واپس کیسے آ سکتے ہیں؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی اقتدار میں واپسی کے لئے انہیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایک مرتبہ پھر ادارے کی مکمل حمایت PTI کو دینے کے لئے قائل کرنا ہوگا۔ یاد رہے کہ فوج نے پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں آ دھا عرصہ براہِ راست حکومت کی ہے اور 2008 میں جمہوریت کی بحالی کے باوجود اقتدار کی اصل لگامیں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ الیکشن 2018 میں جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض ہی بھر پور سیاسی انجینئرنگ اور مداخلت کے ذریعے عمران کو اقتدار میں لائے تھے۔ لیکن عمران اور باجوہ کے اختلافات تب شروع ہوئے جب PTI ملک چلانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آئی، جس سے فوج کو عوامی غیض و غضب کا نشانہ بننا پڑ رہا تھا۔

تاہم فوجی اسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں لانے کے لیے عمران خان نے اس کی غیر جانبداری کو ایک طعنہ بنا دیا۔ پنجاب کے حالیہ ضمنی انتخابات کے دوران عمران کہ جماعت کی سوشل میڈیا ٹیم نے جنرل باجوہ اور ISI سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کے خلاف ایسی بھرپور مہم چلائی جس کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اب جبکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ عمران خان کی گالیوں کے زیر اثر پیچھے ہٹتی دکھائی دیتی ہے اور جلد نئے الیکشن کی باتیں شروع ہوچکی ہیں تو عمران اور انکے ساتھی دوبارہ سے جرنیلوں کو مکھن لگا کر اپنا ساتھ دینے کے لئے مائل کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔

اپنے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے سے یوٹرن لیتے ہوئے عمران نے ایک حالیہ تقریر میں کہا کہ”کمزور فوج کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہوتی: ہماری فوج ہمارا بڑا اثاثہ ہے اور لیڈروں اور جرنیلوں کے لئے یو ٹرن لینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ غلطیاں سب سے ہو جاتی ہیں، لیکن پھر انہیں ٹھیک کرنا چاہیے”۔

سینئر صحافی سہیل وڑائچ کے مطابق عمران خان نے فوجی اسٹیبشلمنٹ کے دونوں ستونوں یعنی فوج اور عدلیہ کو شدید دباؤ میں رکھنے کی ضرورت کو سمجھا اور پھر اس پر عمل کیا ہے۔عمران کی جذباتی تقاریر اور پی ٹی آئی کی ضمنی الیکشن میں واپسی کے باوجود تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فیصلے جنرل باجوہ کو ہی کرنے ہیں اور انہیں ساتھ ملائے بغیر عمران خان اپنا سیاسی ایجنڈا مکمل نہیں کر پائیں گے۔

امریکہ میں بطور سفیر خدمات سرانجام دینے والے حسین حقانی کا کہنا ہے کہ “جنرل باجوہ جب تک آرمی چیف ہیں، ان کے پاس مکمل اختیارات ہیں۔ سیاسی شور و غل سے ان کے بارے میں تاثر خراب ہو سکتا ہے لیکن ان کے اختیار یا طاقت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی”۔ اس لیے عمران خان موجودہ فوجی قیادت کے بارے میں یہ بیانیہ بنا سکتے ہیں کہ انہوں نے “امریکہ اور بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی خاطر مجھے نکال دیا”۔ لیکن آگے چل کر فوج محض وہی کرے گی جو یہ اپنے ادارہ جاتی مفادات اور ملکی مفاد میں بہتر سمجھے گی”۔

ان کا کہنا ہے کہ عمران کی عوامی تقاریر ان کی مقبولیت میں اضافہ کر سکتی ہیں اور “انہیں دوبارہ وزیر اعظم بنا سکتی ہیں لیکن وہ پاکستان کو مشکلات سے نکالنے والے مسیحا نہیں ہو سکتے۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ عمران عوامی امیدیں آسمان پر لے جا کر انہیں پورا کرنے میں ناکام ہو کر پاکستان کو مزید معاشی تباہی اور انارکی کے گڑھے میں دھکیل دیں۔

Related Articles

Back to top button