کیا عمران کا اسٹیبلشمنٹ سے دوبارہ مک مکا ہونے والا ہے؟

سابق وزیراعظم عمران خان اس وقت اپنی سیاسی زندگی کے سب سے مشکل دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مکا کر کے اپنا سیاسی کیریئر بچانا ہے یا اسٹیبلشمنٹ سے کھلی جنگ کا آغاز کر کے نا اہلی کی صورت میں سیاسی میدان سے باہر ہونا ہے۔ کپتان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت شدید مخمصے کا شکار ہیں اور فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ انہیں حتمی طور پر اینٹی اسٹیبلشمنٹ پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے لانگ مارچ کا آغاز کرنا ہے یا پھر پرو اسٹیبلشمنٹ بیانیہ آگے بڑھاتے ہوئے پیچھے ہٹنا ہے۔ اسی لیے ایک جانب تو وہ اپنے اینٹی باجوہ مؤقف پر یوٹرن لے کر ان کے عہدے میں توسیع کی تجویز دے رہے ہیں اور دوسری جانب اپنے ساتھیوں کو یہ وارننگ دے رہے ہیں کہ ان سے چھپ کر اسٹیبلشمنٹ سے ملنے والوں کو پارٹی سے نکال باہر کیا جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دوسری جانب فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی عمران خان کی طرح کی شدید الجھن کا شکار ہے۔ راولپنڈی میں با خبر ذرائر کا دعویٰ ہے کہ فوجی قیادت اپنے عزم کے مطابق غیر سیاسی ہونے کی پوری کوشش کر رہی تھی لیکن عمران کی مسلسل فوج کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوششیں اب کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے بیانات کے ذریعے نہ صرف نئے آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازع بنا دیا ہے بلکہ جنرل باجوہ کے عہدے میں توسیع کی تجویز دے کر حکومت کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے دوبارہ سیاسی ہوجانے کے بعد اب ایسی اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ صدر عارف علوی کے توسط سے جنرل باجوہ اور عمران خان کے مابین ایک خفیہ ملاقات بھی ہو چکی ہے اور توسیع کی تجویز بھی اسی ملاقات کے بعد آئی۔ تاہم حکومتی حلقوں کا اصرار ہے کہ نہ تو جنرل باجوہ عہدے میں توسیع چاہتے ہیں اور نہ ہی حکومتی سطح پر ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔
لیکن ایک بات طے ہے کہ پاکستانی سیاست میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس ملک میں حکومت کی تبدیلی اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد اور مدد کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ اس کی تازہ مثال عمران کی ہے جنہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ اپنے کاندھوں پر بٹھا کر اقتدار میں لائی اور پھر کئی برس تک انہیں گرانے کی تمام تر کوششوں کو ناکام بنائی رہی۔ لیکن جب نئے آئی ایس آئی چیف کی تقرری پر موصوف نے آرمی چیف سے پنگا لیا تو چند ہی مہینوں میں ان کا دھڑن تختہ ہو گیا۔مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب بھی اسٹیبلشمنٹ نے براہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر حکومتی معاملاتِ چلانے کی کوشش کی تو اسکا نتیجہ تباہی کی صورت میں سامنے آیا۔ عمران خان کا پچھلا ہائبرڈ دور حکومت اور اس دوران ہونے والی تاریخی تباہی بھی اسی بیک سیٹ ڈرائیونگ کا نتیجہ تھی جس کے لیے جنرل قمر باجوہ بھی عمران خان کے ساتھ برابر کے ذمہ دار ہیں۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک کو اقتصادی طور پر تباہ کرنے اور تباہ کروانے والے ایک مرتبہ پھر ہاتھ ملانے کے لیے خفیہ مزاکرات کر رہے ہیں تاکہ ایک دوسرے کو کچھ دے اور لے کر ملک کی مزید تباہی کا اگلا منصوبہ تیار کیا جا سکے۔ تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں عمران نااہلی کے خطرے سے دوچار ہونے کے بعد اپنا بیانیہ بار بار تبدیل کرتے ہوئےنظر آتے ہیں۔ اسی لیے ایک روز وہ آرمی چیف کو مزید توسیع دینے کی تجویز دیتے ہیں اور اگلے روز پارٹی لیڈرز کو فوجی اسٹیبلشمنٹ سے دور رہنے کی وارننگ دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ عمران خان نے اقتدار کے دوران پرو اسٹیبلشمنٹ بیانیہ رکھا اور ایک پیج پر فخر کیا۔ وزارت عظمیٰ سے چھٹی کے بعد سے وہ مسلسل اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ لے کر چل رہے تھے مگر اب انہوں نے جنرل قمر باجوہ سے مبینہ ملاقات کے بعد آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کی تجویز بھی دے دی۔ اب اچانک انہوں نے پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں یہ الزام لگا دیا یے کہ انکے کچھ اپنے ساتھی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے ملے ہوئے ہیں جنہوں نے مزید خفیہ ملاقاتیں کیں تو ان کو پارٹی سے آؤٹ کر دیا جائے گا۔
ایسے میں سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان اس وقت شدید مخمصے کا شکار ھیں کہ وہ آخر کریں تو کیا کریں؟ اگر وہ اپنا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں تو نا اہل ہو کر سیاسی میدان سے ہی آؤٹ ہوجانے کا خدشہ ہے، لیکن اگر وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو پھر وہ اس عوامی حمایت سے محروم ہو سکتے ہیں جو انہیں اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اپنانے پر ملی ہے۔ لہٰذا ان کے پاس حتمی فیصلہ کرنے کے لیے وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ہے۔

Related Articles

Back to top button