کیا عمران کو فوج کے خلاف کھڑا کرنے والے انکے دوست ہیں؟


معروف صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ اسلام آباد اس وقت گھیرے میں ہے اور شہریوں کا جینا حرام ہو چکا ہے۔ عمران خان کے جنونی جتھوں نے وفاقی دارالحکومت کو یرغمال بنایا ہوا ہے حالانکہ دیکھا جائے تو سب سے زیادہ احتیاط کی ضرورت خود عمران کو ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ موصوف اقتدار کے لیے بے صبرے ہوتے ہوئے بے احتیاطی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وہ اس وقت پاپولر لیڈر ہیں اور کافی امکان ہے کہ وہ دوبارہ وزیر اعظم بن جائیں، لیکن جس طرح وہ جھتے لے کر اسلام آباد پر چڑھائی کر رہے ہیں، اس روش سے ان کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ عمران خان کو جو لوگ اس پیج پر لے آئے ہیں وہ ان کے دوست نہیں۔ عمران نے اچانک سیاست کو ٹی ٹوئنٹی میچ سمجھ کر کھیلنا شروع کر دیا ہے حالانکہ سیاست لمبی دوڑ کے گھوڑے کا نام ہے۔ اور گھوڑے پر اتنا ہی بوجھ ڈالنا چاہئے جتنا اسکی سکت ہو۔رؤف کلاسرہ کہتے ہیں کہ خود پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد عمران خان نے چند روز کے لیے لانگ مارچ ملتوی کیا لیکن اب وہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔ جن علاقوں سے پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد پر چڑھائی کرنی ہے وہاں اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت ہے، لہذا 25 مئی کی طرح کی کوئی صورتحال نہیں ہے جب پنجاب میں نواز لیگ کا وزیر اعلیٰ موجود تھا۔ عمران خان کو علم تھا کہ محض خیبر پختونخوا سے جھتے لا کر وہ اسلام آباد فتح نہیں کرسکیں گے جب تک کہ وہ پنجاب سے جلوس نہ لائیں ۔اس لیے ان کی حکمت عملی کامیاب رہی۔ نئے لانگ مارچ سے پہلے انہوں نے پنجاب میں اپنی حکومت بنائی اور اب پنجاب سے ہی اپنا لانگ مارچ شروع کر دیا۔

کلاسرا کے مطابق اس وقت شہباز شریف کی صرف 24 کلومیٹر علاقے پر حکومت ہے جبکہ اسلام آباد کی سرحدیں پنجاب، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر سے ملتی ہیں جہاں تحریک انصاف کی حکومتیں ہیں۔ گلگت بلتستان میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت ہے لہذا دیکھا جائےتو اس وقت پی ٹی آئی ملک پر راج کر رہی ہے اور شہباز شریف حکومت گھیرے میں ہے اور اسے سمجھ نہیں آرہی کہ وہ عمران خان سے کیسے نمٹے۔

رؤف کلاسرہ کہتے ہیں کہ دوسری جانب عمران نے پاکستان کی طاقتور ترین فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ پائوں باندھ کر رکھ دیے ہیں۔ عمران کے پاس یہ ہنر ہے کہ وہ جھوٹا سچا بیانیہ بنا لیتے ہیں لہٰذا اس میں کوئی شک نہیں کہ انکی اصل طاقت نوجوان ووٹرز ہیں جو کئی برسوں تک ان کے کام آئیں گے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عمران صرف اپنا ذاتی فائدہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ نوجوان ان کے ووٹر ہیں اور جب تک وہ عملی سیاست میں ہیں انہیں وزیراعظم بنواتے رہیں گے، یا پھر عمران کے ذہن میں ان نوجوانوں کے لیے کوئی لانگ ٹرم پلان بھی ہے ؟ نوجوان نسل ان کو فالو کرتی ہے لیکن لگتا ہے کہ ان کے اندر گالی گلوچ اور جارحانہ پن بھر دیا گیا ہے۔ ان کو اس بات کا یقین دلا دیا گیا ہے کہ اگر عمران وزیراعظم نہیں ہیں تو پھر اس ملک پر کوئی اور حکومت نہیں کر سکتا اور عمران خان وہ سارا عرصہ سڑکوں پر گزار میں گے۔ یہی کام عمران خان نے 2013 ء کے الیکشن کے بعد کیا تھا جب وہ پانچ سال سڑکوں پر ر ہے کہ وہ وزیر اعظم نہ تھے۔ اب بھی وہ 6 ماہ سے سڑکوں پر ہیں کہ میں وزیراعظم کیوں نہیں ہوں۔ عمران نے اپنے اقتدار کے لیے نوجوانوں کو ایسے نعرے دے دیے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کا گلا کاٹنے پر تل گئے ہیں۔ نواز شریف ہوں یا عمران خان ان سب کے بچے پاکستان سے باہر ہیں لیکن یہاں کے بچے ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button