کیا عمران کے ہاتھوں عمران کی سیاسی موت ہونے والی ہے؟

اگرعمران خان کی تصادم اورٹکراؤ کی سیاست اگلے چھ ماہ تک مؤثررہتی ہے اور اسی شدومد سے وہ اپنا مؤقف مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر جاری رکھتے ہیں تو فوجی اسٹیبلشمنٹ کا وجود متزلزل ہو جائے گا۔ لیکن اگر اسٹیبلشمنٹ اپنے ادارے کو عمران کے حملوں سے بچا لیتی ہے تو پھر نیا بیانیہ ہو یا پرانا بیانیہ، عمران کی ساری تدبیریں الٹی پڑ جائیں گی اور عمران کا اپنا سیاسی وجود انکے اپنے ہی ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار جائے گا۔ اب تک تو کچھ ایسا ہی ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے عمران کے سابقہ بہنوئی اور معروف تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ عمران سے بھلا یہ کریڈٹ کون چھین سکتا ہے کہ انہوں نے 1996ء سے چار بار عام انتخابات میں حصہ لیا اور ہر بار پرکشش بیانیہ دیا۔ انہوں نے اپنے چاہنے والوں کو اپنے بیانیے کا گرویدہ بنا لیا اور اپنی سیاست میں غیر معمولی جان ڈالی۔ لیکن عمران کی ایک بنیادی کمزوری یہ بھی رہی ہے کہ وہ ہمیشہ سے اپنے بیانیے کے سحر میں مبتلا ہو کر حقائق سے دور رہے ہیں اور خود فریبی کے جال میں جکڑے رہے ہیں۔ انہوں نے مبالغہ آرائی اور سفید جھوٹ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ لیکن ابراہم لنکن کے اس قول کو یاد رکھنا چاہیئے کہ جھوٹ اور فریب سے بہت سارے لوگوں کو تھوڑے وقت کے لیے بیوقوف بنانا آسان ہے لیکن زیادہ عرصے تک ایسا نہیں ہو سکتا۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ اب چونکہ عمران حکومت کی کارکردگی صفر تھی لہٰذا جب انہیں اپنی چھٹی ہوتی نظر آئی تو انہوں نے جنوری میں یہ نیا بیانیہ دیا کہ اگر مجھے اقتدار سے نکالا گیا تو میں خطرناک ہو جاؤں گا۔ ایسا کرتے ہوئے دراصل وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو وارننگ دے رہے تھے۔ لیکن اس نئے بیانیے کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ عسکری قیادت سے ٹکراؤ اور تصادم، انتخابی بیانیہ ہرگز نہ تھا۔ نیازی کہتے ہیں کہ عمران پاکستانی سیاست کا ایک مافوق الفطرت کردار ہے جسے بے پناہ مقبولیت کرکٹ کی بدولت نصیب ہوئی، انہوں نے شوکت خانم ہسپتال بھی اسی مقبولیت کی بنیاد پر بنایا۔ عمران جب سیاست میں وارد ہوئے تو واحد سیاستدان تھے جو ہر گھر جانے پہچانے جاتے، چنانچہ انہوں نے سیاست کو اپنا مستقبل بنایا۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ عمران نے اپنی چرب زبانی اور حقائق مسخ کرتے ہوئے تقاریر، انٹرویوز اور پریس کانفرنسوں سے سننے والوں کو قابو کیے رکھا۔ لیکن عمران کی بدقسمتی کہ ان کی شخصیت میں ذہنی استعداد کی کمی ہے۔ موصوف نے پارٹی بنائی مگر تنظیم سازی کی اہلیت نہ تھی۔ اقتدار ملا تو پاکستانی تاریخ کے ناکام ترین منتظم بن کر سامنے آئے۔ اوپر سے کرپشن میں نام پیدا کرنا، بدقسمتی رہی۔ دور اقتدار میں انکی قابلیت اور اہلیت ننگ ہو کر سامنے آ گئی۔ کرپشن کے لامتناہی اسکینڈلز، انتظامی امور میں ناکامی، سفارتی تنہائی، کشمیر سے ہاتھ دھونا، اسٹیبلشمنٹ پر حملہ آور ہونا، غرضیکہ خان نے سب تہس نہس کر ڈالا۔ موصوف نے اقتدار سے نکلنے کے بعد پاکستان کو کمزور اور رسوا کرنے کے لیے تن من دھن لگا ڈالا۔ خود کو مضبوط بنانے کیلئے عمران نے دورِ قدیم کے ہتھکنڈے استعمال کیے اور سیاسی مخالفین پر عرصہ حیات تنگ کر دیا۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان کو معلوم ہے 2018 کے انتخابی وعدے خش و خاشاک رہے۔ لہٰذا فوجی آسٹیبلشمنٹ پر حملہ، انکی مقبولیت بحال کرے گا۔ اس سے پہلے اس بیانیے سے قیوم خان، بھٹو ، نواز شریف سب مستفید ہوئے۔ لہذا جب کہ عمران اسٹیبلشمنٹ پر حملہ آور ہوا تو فوج کا عمران کو ٹھکانے لگانا انکی ضرورت بن گیا۔ اسٹیبلشمنٹ نے اپنی بیساکھیاں واپس لے لیں اور عمران کا اقتدار دھڑام سے نیچے گر گیا۔

دوسری جانب عمران بھی اپنے زبان و بیان سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں لانے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ عمران کا ہاتھ اسٹیبلشمنٹ کے گریبان تک پہنچ چکا ہے اور وہ اسے جھٹکنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ عمران کا طریقہ واردات وہی پرانا ہے یعنی بذریعہ سوشل میڈیا اپنے خطابات اور انٹرویوز عسکری قیادت کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا جائے۔ اسی لیے جرنیلوں، بالخصوص جنرل باجوہ پر غداری کا الزام ٹاپ ٹرینڈ بنا۔ حفیظ اللہ نیازی کے بقول اسٹیبلشمنٹ کا خیال تھا کہ عمران خان اور اپوزیشن کی لڑائی میں اسکا نیوٹرل ہونا اسے تمام تنازعات سے بچا لے گا۔ لیکن ایسا نہ ہو پایا۔ عمران کو اس بات پر سو بٹہ سو نمبر ملتے ہیں کہ انہوں نے کمال مہارت سے نہ صرف امریکی سازش کا ایک نیا بیانیہ گھڑ دیا بلکہ اس کیساتھ عسکری قیادت کو بھی نتھی کر دیا، خان کا یہ نیا بیانیہ اتنا مقبول ہوا کہ اس نے سب کوہکا بکا کر دیا۔ لیکن یاد رہے کہ عمران کی سیاست سوچ بچار اور فہم سے عاری ہوتی ہے جس وجہ سے ماضی میں عمران کے ہاتھوں عمران کی سیاسی موت کی ایک تاریخ موجود ہے۔ اسی لیے پچھلے پانچ ماہ سے جس بیانیے کو عمران نے اپنی محنت شاقہ سے عام کیا، 25مئی کے لانگ مارچ کی ناکامی نے اسے ادھ موا کر دیا۔ 25 مئی کی لانگ مارچ ناکامی نے تحریک انصاف کی صفوں میں مایوسی پھیلا رکھی ہے۔

حفیظ اللہ نیازی کے بقول عمران خان کو اپنے کارکنوں میں دوبارہ سے جوش اور ولولہ پیدا کرنے کیلئے ایک نئے بیانیے کی تلاش ہے۔ ان کی جانب سے پچھلی اتوار کو ملک کے طول وعرض میں مہنگائی کیخلاف ایک ناکام احتجاج اسی بیانیے کی ایک کوشش تھی جو کامیاب نہیں رہی۔ ایسے میں اگر عمران کی تصادم اور ٹکراؤ کی سیاست اگلے چھ ماہ تک مؤثر رہتی ہے اور اسی شدومد سے وہ اپنا مؤقف مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر جاری رکھتے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کا وجود متزلزل ہوگا۔ بصورت دیگر اگر اسٹیبلشمنٹ اپنے ادارے کو عمران کے حملوں سے بچا لیتی ہے تو پھر نیا بیانیہ ہو یا پرانا بیانیہ، عمران خان کی ساری تدبیریں الٹی پڑنے کو ہیں اور انکا سیاسی وجود تحلیل ہونے کو ہے۔

Related Articles

Back to top button