کیا فوجی اسٹیبلشمنٹ واقعی عمران کے سامنے بے بس ہے؟


تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف دشنام طرازیوں کا سلسلہ دراز ہونے کے بعد اب ریاست پاکستان کے خلاف سازشوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، لیکن بظاہر ریاست کے چاروں ستون خان کی خود غرضی، بے حسی، آمرانہ اور متکبرانہ ذہنیت کے سامنے بے اختیار اور لاچار خاموش کھڑے نظر آتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ریاست پاکستان عمران خان کے سامنے ہاتھ باندھے اپنی سلامتی کی بھیک مانگ رہی ہو۔ عام تاثر بھی یہی ہے کہ عدلیہ اور فوجی اسٹیبلشمنٹ یا تو عمران خان کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہیں یا پھر اسکی عوامی طاقت سے خوفزدہ ہیں۔

روزنامہ جنگ کے لئے تازہ تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی شکیل انجم کہتے ہیں کہ ایک منظم سازش کے ذریعے ریاست کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لئے عمران خان نے ملکی معیشت کو ایک ایسا کاری کرنے کی کوشش کی جس کی بنیاد پر ملک دیوالیہ ہو سکتا تھا۔ خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا اور پنجاب کے وزیر خزانہ محسن لغاری کی سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کے ساتھ ٹیلیفونک آڈیو لیک نے عمران خان کے ریاست مخالف عزائم کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ عمران کے ایما پر کی جانے والی بھونڈی حرکت نے پی ٹی آئی والوں کے لیے بھی یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا انہیں اب بھی ایک ایسے شخص کی اندھی پیروی کرنی چاہیے جو اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ملک کو بھی داؤ پر لگا سکتا ہے؟۔ کیا عمران کو اس حقیقت کا علم نہیں تھا کہ اگر ان کی خواہش کے مطابق آئی ایم ایف سے معاہدہ ختم ہو جاتا تو پاکستان نے معاشی طور پر دیوالیہ ہو جانا تھا۔

شکیل انجم کے بقول سوال یہ ہے کہ حکومت دشمنی میں پاکستان کو سری لنکا بنانے کا مشن لے کر چلنے والے عمران خان کی جانب سے کیا جانے والا ایک کے بعد دوسرا حملہ ریاست اور ملک کی سلامتی پر ہی کیوں کیا جا رہا ہے۔ اس سوال کا جواب ایک جذباتی یوتھیے نے اپنے عمرانڈو قائد کے مشن کی ترجمانی کرتے ہوئے یہ کہہ کر دیا کہ ’’گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو۔‘‘ یعنی عمران خان کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا ہے۔ ملک رہے نہ رہے، انہیں اس کی پرواہ نہیں۔

عمران کے ریاستی اداروں پر حملوں کو اب سیاسی اور سماجی حلقے شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور یہ تاثر عام ہو رہا ہے عمران کا طرز سیاست صرف ریاست کو کمزور اور پاکستان کو معاشی بدحالی کے ذریعے غیر مستحکم اور دیوالیہ کرنا ہے۔ موصوف کا اصل مقصد پی ڈی ایم حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ پر فوری الیکشن کرانے کے لئے دباؤ ڈالنا ہے۔تحریک انصاف کی قیادت کو قوی یقین ہے کہ انکی جماعت اگلے الیکشن میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی جس کے بعد آئینی ترامیم سے “حقیقی آزادی” حاصل کرنے کا خواب پورا ہو جائے گا۔

شکیل انجم کہتے ہیں کہ دوسری جانب ریاست کے چاروں ستون عمران کی خود غرضی، بے حسی، آمرانہ اور متکبرانہ ذہنیت کے سامنے بے اختیار، لاچار ہاتھ باندھے خاموش کھڑے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے ریاست اپنی سلامتی کی بھیک مانگ رہی ہو۔ یہ تاثر عام ہے کہ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ یا تو عمران کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہیں یا پھر اسکی عوامی طاقت سے خوفزدہ ہیں۔ حیران کن بات تو یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو سرعام توہین مذہب کرتا ہو اس کے خلاف بھی قانون کو حرکت میں لانے کی کسی میں ہمت نہیں لیکن پنجاب پولیس نے توہین مذہب کے جرم کا ارتکاب کرنے والے عمران کی نشاندہی کرنے والے نامور صحافی وقار ستی کے خلاف تعزیرات پاکستان کے دفعات 500 اور A-295 کے تحت توہین رسالت کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایسے میں لمحہ فکریہ ہے کہ ریاست کی عمارت ان حالات میں کب تک کمزور ستونوں پر کھڑی رہے گی؟ اس وقت چاروں صوبوں میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ گلیاں، بازار، سڑکیں، میدان اور صحرا بپھرے ہوئے دریاؤں اور ندی نالوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ پانی کا تیز بہاؤ کچے مکانوں اور اونچی عمارتوں کو عمران خان کی ’’سونامی‘‘ کی طرح بہا لے جا رہا ہے۔ اور عمران کی “سونامی” اسی طوفانی شدت سے ریاستی اداروں کو غرق کر رہی ہے جنکی تباہی سے عدلیہ، مقننہ، افواج اور شعبہ صحافت بھی محفوظ نہیں۔ لیکن نیوٹرلز پھر بھی نیوٹرل ہو کر خاموشی سے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button