کیا فوج کا سیاست سے اعلان لاتعلقی بھی سیاسی چال ہے؟

ضمنی الیکشن کی مہم کے دوران عمران خان کی جانب سے مسٹر ایکس اور مسٹر وائی پر مسلسل الزامات کے باوجود نون لیگ کی شکست اور تحریک انصاف کی جیت کے بعد اب یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ مکمل طور پر نیوٹرل ہو چکی ہے اور وہ کسی سیاسی فریق کا ساتھ نہیں دے رہی، لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو سیاست کی اتنی لت پڑ چکی ہے کہ وہ کسی صورت غیر سیاسی نہیں ہو سکتی، لہذا اس کا سیاست سے اعلان لا تعلقی بھی ایک سیاسی چال ہے۔

ضمنی الیکشن کے نتائج کے بعد حیران کن طور پر پی ٹی آئی کی جیت پر یوتھیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر اسٹیبلشمنٹ کو مبارکباد دی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ماضی کے برعکس فوج نے الیکشن میں مداخلت نہیں کی۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر عمران خان کے ایسے حمایتی بھی موجود ہیں جو ان کے فوج یا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کو تحریک انصاف کی کامیابی کا کریڈٹ دے ریے ہیں، انکا کہنا ہے کہ اگر ان کا کپتان مسٹر ایکس اور مسٹر وائی کو جلسوں میں نہ للکارتا تو شاید الیکشن کے نتائج مختلف ہوتے۔

تجزیہ کاروں کی جانب سے 17 جولائی کے ضمنی الیکشن میں جن تین فیکٹرز کو پی ٹی آئی کی کامیابی کا سبب قرار دیا جا رہا ہے ان میں پی ٹی آئی کے منحرفین کو ٹکٹ دینا، ہوشربا مہنگائی اور پھر عمران کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ شامل ہیں۔ پی ٹی آئی کے اتحادی شیخ رشید نے ضمنی الیکشن میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ’نیوٹرل‘ رہنے کی تعریف کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ عمران نے اپنے تمام ساتھیوں کو فوج کے خلاف زبان بندی کا حکم دے دیا ہے۔ لیکن ان کے اس دعوے کے فوری بعد عمران کے چیف آف اسٹاف شہباز گل نے یہ بیان داغ دیا کہ فوجی کو اگر سیاست کرنے کا بہت شوق ہے تو وہ آئین میں ترمیم کروا لے تا کہ کھل کر سیاست کر سکے۔ عمران خان کے قریب سمجھی جانے والی سابق وزیر عندلیب عباس کا کہنا ہے کہ ’شیخ رشید نے اگر فوج کی تعریف کی ہے تو یہ انکا اپنا موقف یے، انکی اپنی ایک جماعت ہے، وہ عمران خان کے ترجمان نہیں، ہماری پارٹی کا مؤقف ہے کہ اسٹیبشلمنٹ نے مسلم لیگ نواز کی پشت پناہی کرنے کی بہت کوشش کی لیکن عمران کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے نے اسے دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا اور یوں تحریک انصاف جیت گئی۔

تاہم ملکی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے صحافی عاصم نصیر کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو یہ کریڈٹ دینا ہو گا کہ اس بار الیکشن میں ان کا کردار نظر نہیں آیا۔ 20 حلقوں میں آپ کو فوج کہیں بھی پولنگ سٹیشن کے اندر نظر نہیں آئی۔ آپ کو سادہ لباس میں افسر نظر نہیں آئے۔ سپیشل برانچ یا پولیس کی طرف سے بھی کوئی مداخلت کہیں نظر نہیں آئی۔ 17 جولائی کو آنے والا فیصلہ عوام کا فیصلہ تھا اور اسی لیے مسلم لیگ نون نے بھی اسے فوری تسلیم کیا۔ مریم نواز نے بھی کہا کہ وہ کھلے دل سے اس فیصلے کو تسلیم کرتی ہیں، جو بڑی بات ہے۔ لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا آئندہ انتخابات میں بھی غیر جانبداری کی یہی روایت قائم کی جائے گی؟ اگر آسان الفاظ میں کہا جائے تو کیا آئندہ بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ الیکشن سیاست میں مداخلت سے پیچھے ہٹی ریے گی؟ تجزیہ کار اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ کے نتیجے میں اسٹیبلشمنٹ اب رفتہ رفتہ پیچھے ہٹتی جا رہی ہے اور پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ نیوٹرل ہے۔

تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ سیاست سے زیادہ دیر لاتعلق رہ نہیں سکتی اور اس کا سیاست سے اعلان لاتعلقی بھی ایک سیاسی چال ہے۔ تجزیہ کار ضیغم خان کہتے ہیں کہ ہم نے ماضی میں بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اس قسم کی سٹریٹیجک ریٹریٹ کرتے، یعنی مصلحتاً پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس بار بھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا پیچھے ہٹنا وقتی فیصلہ ہے اور جونہی نئی حکومت آئے گی، فوجی اسٹیبشلمنٹ ایک بار پھر حرکت میں آ جائے گی اور پھر سے سیاسی ہو جائے گی۔ ضیغم کے بقول ہمیں بنیادی مسئلے کا حل نکالنا ہو گا۔ قانون کی بالادستی اور ریاست کے اندر ریاست کے بیانیے کو واضح طور پر چیلنج کیے بغیر اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت کرتی رہے گی اور یوں ہی بربادی پھرتی رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ یہاں مسئلہ نیوٹرل ہونے کا نہیں، درحقیقت فوج کا ملکی سیاست پر مکمل کنٹرول ہے اور اس سیاسی اثر و رسوخ کو وہ چاہتے ہوئے بھی نہیں چھوڑ سکتی، چاہے وہ نیوٹرل اور غیر سیاسی ہونے کے جتنے بھی دعوے کرتی رہے۔

Related Articles

Back to top button