کیا مصطفیٰ نواز کھوکھر تحریک انصاف میں جا رہے ہیں؟


پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کے سابق ترجمان مصطفی نواز کھوکھر نے سینیئر قیادت کی طرف سے اپنے پرو تحریک انصاف بیانات پر اظہار ناپسندیدگی کے بعد بطور سینیٹر مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد یہ افواہیں گرم ہیں کہ وہ شاید تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے جا رہے ہیں۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے حال ہی میں پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی کی اپنی اہلیہ کے ساتھ مبینہ نازیبا ویڈیو لیک ہونے کی سختی سے مذمت کی تھی اور خفیہ ایجنسیوں کے خلاف سخت الفاظ استعمال کئے تھے۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کی ٹویٹ کے بعد ایک خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ افسر نے انہیں فون کرکے وضاحت دی کہ ایسی کوئی ویڈیو موجود نہیں اور نہ ہی اس میں کسی ایجنسی کا کوئی ہاتھ ہے لیکن مصطفیٰ نواز کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایجنسی افسر کا یہ دعویٰ مسترد کر دیا تھا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اعظم سواتی کا دعویٰ ابھی تک سچا ثابت نہیں ہو پایا چونکہ انہوں نے اپنی مبینہ وڈیو فلمانے کے حوالے سے جن تین جگہوں کا باری باری نام لیا ہے وہاں سے تردید آگئی ہے کہ سواتی کبھی وہاں ٹھہرے ہی نہیں۔ ویسے بھی سوشل میڈیا پر جو ویڈیو وائرل ہے وہ دیکھنے میں ہی جعلی نظر آتی ہے اور ایف آئی اے نے بھی اسے فیک ویڈیو قرار دے دیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ اعظم سواتی نے اپنی مبینہ نازیبا ویڈیو کا ڈھنڈورا اسلئے پیٹا تا کہ ایجنسیوں کو بدنام کیا جاسکے جو کہ عمران خان کا ایجنڈا ہے۔

8 نومبر کو اپنے ٹویٹ میں اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ ان کی پارٹی کے ایک سینیئر رہنما سے ملاقات کے بعد پارٹی قیادت کے مطالبے پر بخوشی سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دینے پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بدھ کو چیئرمین سینیٹ کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ چند ماہ سے مصطفیٰ نواز کھوکھر پارٹی پالیسی سے ہٹ کر اور پی ٹی آئی کے حق میں بیان دیتے رہے ہیں۔ کچھ ہفتے قبل انہوں نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل بھی تبدیل کرتے ہوئے اس میں سے پارٹی کا نام نکال دیا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے ٹوئیٹر صارف کا مصدقہ سٹیٹس بھی کھو دیا تھا۔ تب بھی مبصرین کا خیال تھا کہ وہ شاید پی ٹی آئی جوائن کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے اس کی تصدیق نہیں کی تھی۔

اس سے پہلے بھی عمران کے چیف آف سٹاف شہباز گل کی گرفتاری کے بعد مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے یوتھیوں کے اس الزام کی تصدیق کی تھی کہ گل پر حراست میں تشدد کیا گیا اور اسے برہنہ کرکے مارا گیا۔مصطفیٰ نواز کھوکھر نے سماجی رابطے کی سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ پی ٹی آئی رہنما شہباز گل پر ہونے والے جسمانی تشدد کی انتہائی پریشان کن تصاویر دیکھیں ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ کسی بھی شخص کی عزت نفس کو اختلاف کے باوجود بھی اس طرح پامال نہیں کرنا چاہیے، شہباز اور پی ڈی ایم حکومت بربریت کو روکنے میں ناکام ہے۔مصطفیٰ نواز کھوکھر نے مزید لکھا کہ شہباز گل پر دورانِ حراست ہونے والا تشدد پی ڈی ایم حکومت اور ہمارے لیے شرم کی بات ہے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ شہباز گل سے مرضی کا بیان لینے کے لیے اُسے دوران حراست برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ تاہم مصطفیٰ نواز کھوکھر کو اس ٹویٹ کے بعد بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا چونکہ شہباز گل پر تشدد کی جو تصاویر انہوں نے مختلف لوگوں کو بھجوائیں وہ ایک ایسے شخص کی تھیں جس نے ایک بچے کا ریپ کیا تھا اور عوام کے تشدد کا نشانہ بنا تھا۔ ان تصاویر میں تشدد کا شکار ہونے والے شخص کا چہرہ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ بعد میں بھی کسی میڈیکل رپورٹ میں شہباز گل پر دوران حراست تشدد کا الزام ثابت نہیں ہو پایا تھا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ اب اعظم سواتی کو بھی درپیش ہے جو بار بار ان مقامات کا نام بدل دیتے ہیں جہاں پر ان کے خیال میں ان کی اور ان کی اہلیہ کی مبینہ نازیبا فلم بنائی گئی۔

یاد رہے کہ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اعظم سواتی کی نازیبا ویڈیو کے دعوے پر اپنے ردعمل میں انٹیلی جنس ایجینسیوں کے خلاف انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے تھے اور ایک اعلیٰ افسر کی کال کا حوالہ بھی دیا تھا جس میں انہیں وضاحت دی گئی تھی کہ ویڈیو میں کسی ایجنسی کا ہاتھ نہیں۔ تاہم انہوں نے وضاحت مسترد کر دی تھی۔ 8 نومبر کو اپنے ٹویٹ میں کھوکھر کا کہنا تھا کہ ایک سیاسی کارکن کے طور پر میں عوامی مفاد کے معاملات پر اپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق رکھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں سندھ سے سینیٹ کی نشست دینے پر پارٹی قیادت کا مشکور ہوں اور اختلافات کو علیحدہ رکھتے ہوئے کہنا چاہتا ہوں کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ میرا سفر شاندار رہا ہے اور ان کے لیے نیک تمنائیں ہیں۔

دوسری جانب بتایا جاتا ہے کہ مصطفیٰ نواز کھوکھر پیپلز پارٹی کی قیادت سے تب ہی ناراض ہوگئے تھے جب انہیں موجودہ حکومت میں وفاقی وزیر کا عہدہ نہیں ملا تھا۔ جب موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تھی تو کھوکھر کو وزیر مملکت کا عہدہ دیا گیا تھا مگر انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیر مملکت کا عہدہ نہیں سنبھال سکتے۔ تاہم بلاول بھٹو نے انہیں وفاقی وزیر بنانے سے انکار کر دیا تھا اور پوچھنا بھی چھوڑ دیا تھا کیونکہ اس سے پہلے کھوکھر نے دسمبر 2020 میں بلاول بھٹو کے ترجمان کے طور پر بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی اگلی منزل تحریک انصاف ہے اور وہ بہت جلد اس حوالے سے حتمی فیصلہ کر لیں گے۔

Related Articles

Back to top button