کیا نیا آرمی چیف عمران خان کا دباؤ لے گا؟

وفاقی حکومت کی جانب سے اس مرتبہ آرمی چیف کی تعیناتی کو غیر متنازعہ رکھنے کے لیے سنیارٹی کی بنیاد پر فیصلہ کیے جانے کی خبروں کے باوجود افواہیں گرم ہیں کہ نئے فوجی سربراہ کا فیصلہ لندن میں نہیں بلکہ راولپنڈی میں ہوگا۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم کی قیادت نے عمران خان کو اقتدار سے اس لئے نہیں نکالا تھا کہ وقت آنے پر آرمی چیف انکی یا راولپنڈی کی مرضی سے تعینات ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ ویسے بھی نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ شہباز شریف نے نہیں بلکہ نواز شریف نے آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان کی مشاورت سے کرنا ہے، ان سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس نازک وقت پر ایسے تگڑے فیصلے کرنا ضروری ہو گیا ہے جن سے نہ صرف ملک بلکہ فوج کے ادارے کو بھی بچایا جا سکے۔ ویسے بھی بقول عمران خان فوج کوئی جانور تو نہیں جو وقت آنے پر پوزیشن لینے کی بجائے نیوٹرل ہو جائے۔

اس حوالے سے بی بی سی کے لیے اپنی تازہ سیاسی تجزیے میں سینئر اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ گزشتہ ایک سال سے پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اور سیاست کا محور صرف اور صرف نئے آرمی چیف کی تعیناتی اور اس کے گرد گھومتی خواہش رہی ہے، آرمی چیف کی تعیناتی وہ خواہش تھی جو عمران خان کے سینے میں ہی رہی اور عین تعبیر کے وقت خواب چھین لیا گیا۔ 2019 میں بھی جب انہیں نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا موقع ملا تو یہ خواہش ان کے دل میں ہی رہ گئی اور انہیں جنرل باجوہ کو توسیع دینا پڑ گئی۔ عمران کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے سیاست ہر روز رنگ دکھا رہی ہے اور رنگ ڈالنے والے بھی کچھ انداز بدل رہے ہیں۔ طریقہ سیاسی ہو یا غیر سیاسی تاہم کھیل کے سارے اصول وہیں سے طے ہوں گے جہاں سے ہمیشہ ہوتے آئے ہیں۔ شطرنج کے اس کھیل میں بادشاہ ہی چال چلے گا اور پیادے حکم مانیں گے۔ اس دوران کیا کیا نہیں ہوا؟ شام و سحر بدل گئے، کئی موسم گُزر گئے، حکومت اپوزیشن میں بیٹھ گئی، اپوزیشن حکومت کا حصہ بن گئی، پتے تبدیل، مہرے تبدیل، کھیل کے کھلاڑی تبدیل حتیٰ کہ میدان تبدیل۔۔۔ نہیں بدلا تو اہم تعیناتی کے گرد گھومتا پہیہ نہیں بدلا۔ سیاسی پروگراموں کا موضوع، جوتشیوں، پنڈتوں کی تپسیاؤں کا محور، چاند اور سورج گرھنوں کا پھیر، ستاروں کی چالوں کا چلن، تبصرہ نگاروں کا موضوعِ سُخن اور سیاستدانوں کی اُمیدوں کا گلشن ایک ہی نکتے کے گرد گھوم رہا ہے اور وہ ہے نئے چیف کی تعیناتی۔

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ سیاست سے دور رہنے پر مجبور عسکری مقتدرہ بھی چپکے چپکے، چھپ چھپ کر روز خود کو ’غیر سیاسی‘ ہونے کا دلاسہ دیتی ہے۔ چند ایک اب بھی ’آ اب لوٹ چلیں‘ کی آس میں ’مذاکرات کے دروازے بند تو نہیں ہو سکتے‘ کے دلاسے دیتے کھڑکی کا ایک پٹ کھول لیتے ہیں۔ ویسے بھی غیر سیاسی ہو کر سیاسی ہونے میں جو مزہ ہے وہ کسی اور چیز میں کہاں؟ یعنی اب بھی دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی ’سیاست‘ کے رات دن۔۔۔ بہرحال اب فوج کا ادارہ گزرے دنوں کی ’غلطیوں‘ کو ہی درست کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہونی اور انہونی کے درمیان پُل صراط پر چلتے سیاسی نظام کو اب سہارا ہے تو ’غیر سیاسی اسٹیبلشمنٹ‘ کا۔۔۔ یہ کردار البتہ جاتے جاتے جائے گا مگر خواہش اور خبر کے بیچ پھنسی اسٹیبلشمنٹ کردار نبھانے کی کوشش میں دو کشتیوں کی مسافر ہے۔
ایک طرف گلے پڑی محبت اور دوسری جانب محبت سے زیادہ ضرورت۔ ایک طرف پُرانا پیار اور دوسری طرف نئی دکان کا ادھار جسے چکانا ضروری ہے تاکہ آئندہ کے لیے کھاتہ بند نہ ہو۔ ایک طرف برسوں کی محنت سے تیار کردہ اثاثہ اور دوسری جانب نیا تیار کردہ بیانیہ کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ غیر سیاسی، اصلی اور وکھری ٹائپ کی ہے۔ بہرحال یہ کوشش تاحال جاری ہے، دیکھیے نظام سرخرو ہو پاتا ہے یا نہیں؟

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ یوں تو آرمی چیف تعینات کرنے کا اصل اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے مگر یہ بات الگ ہے کہ کئی ایک آرمی چیفس کو وزیراعظم متعین کرنے کا اعزاز بھی حاصل رہا ہے۔ اس شرف سے محروم رہ جانے والے عمران خان جیسے وزرائے اعظم کو قطعی دُکھی اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ جس جس نے چیف لگایا، اُس اُس نے مزہ پایا۔ ذوالفقار علی بھٹو جیسے جہاں دیدہ دانشور، جنرل ضیا کی معصومیت اور وفادار طبیعت سے دھوکا کھا گئے اور نواز شریف جیسے دو تہائی اکثریت سے منتخب وزیر اعظم بھی جنرل مشرف کی ’غیر سیاسی شخصیت‘ کا نشانہ بن گئے۔
جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر باجوہ بھی نواز شریف کا نظرِ انتخاب ٹھہرے مگر وقت نے ثابت کیا کہ چیف تو پھر چیف ہوتا ہے۔ اب کی بار آرمی چیف کی تعیناتی کا قرعہ شہباز شریف کے ہاتھ آیا ہے جبکہ اقتدار سے باہر عمران خان اس قلق میں ہیں کہ یہ قرعہ فال عین وقت پر اُن کے ہاتھ سے چھین لیا گیا۔ شہباز شریف اس اہم ذمہ داری کو کیسے نبھائیں گے یہ اُن کے لیے امتحان ہے لیکن یاد رہے کہ چھڑی جس کے ہاتھ آئے وہ اپنی مرضی سے ہی گھمائے، یعنی جس کے ہاتھ چھڑی۔۔ اُس کی طاقت بڑی۔ دیکھتے رہیے نومبر کے اختتام تک، گھڑی کی ٹک ٹک کس پر آ ٹھہرتی ہے؟ کپ اور ہونٹوں کے درمیان ابھی کچھ گھونٹ باقی ہیں۔

Related Articles

Back to top button