کیا پرویز الٰہی آسانی سے وزیراعلی بن جائیں گے یا۔۔؟


عمومی تاثر تو یہی ہے کہ ضمنی الیکشن میں پنجاب اسمبلی کی 20 میں سے 15 سیٹیں جیتنے کے بعد حمزہ شہباز کا وزیراعلٰی برقرار رہنا تقریبا ناممکن ہو چکا ہے، لیکن رانا ثنا اللہ خان کے اس اعلان نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ پرویز الہی کو آسانی سے وزیراعلیٰ نہیں بننے دیا جائے گا اور ان کے پانچ ووٹ بھی آگے پیچھے ہو گئے تو ان کا کھیل ختم ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ پنجاب کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کی کامیابی کے بعد عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب میں اب بھی وزیر اعلٰی کے امیدوار پرویز الہی ہی ہیں۔ بظاہر اس اعلان کے بعد پرویز کے وزیر اعلٰی بننے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں ہے لیکن یہ افواہ بھی گرم ہے کہ شاہ محمود قریشی اپنے بیٹے زین قریشی کو ملتان کے ضمنی الیکشن میں جتوانے کے بعد وزیراعلی پنجاب بنوانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ تحریک انصاف کے اندر دیگر کئی لوگ بھی پرویز الٰہی کو وزیراعلٰی نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اپنے اس حالیہ اعتراف کے بعد کہ وہ پونے چار برس تک قاف لیگ کے ہاتھوں بلیک میل ہو تے رہے، پرویزکی بجائے اپنی جماعت کا بندہ وزیراعلیٰ بنانا چاہئیے۔

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے انکی پارٹی کے اکثر لوگ یہ یقین کرنے کو تیار نہیں کہ پرویز الہی وزیر اعلی بننے کے بعد عمران خان کی خواہش کے مطابق پنجاب اسمبلی توڑ کرنئے الیکشن کا راستہ ہموار کریں گے۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ پرویز الہی دراصل پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے کے امیدوار تھے لیکن انہوں نے آخری لمحات میں عمران خان کا امیدوار بننے کا فیصلہ صرف اس لئے کیا کہ وہ کم از کم سوا سال تک وزارت اعلی پر برقرار رہ پائیں کیونکہ انہیں شک تھا کہ پی ڈی ایم فوری طور پر نئے الیکشن میں چلی جائے گی۔ لہذا اب جب کہ وہ جانتے ہیں کہ انہیں وزیر اعلی پنجاب منتخب ہونے کے فورا بعد اسمبلی توڑنا ہو گی تو کیا وہ ایسا کرنے کو تیار ہوں گے۔ پی ٹی آئی میں یہ خدشات بھی پائے جا رہے ہیں کہ کہیں وزیر اعلی منتخب ہونے کے بعد پرویز الٰہی لمبے اقتدار کے لالچ میں دوبارہ پی ڈی ایم کے ساتھ نہ مل جائیں۔

دوسری جانب پرویز الٰہی نے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کی جیت کے بعد کہا ہے کہ عمران خان نے ہلکا سا اشارہ بھی کیا تو وہ اسمبلی توڑ دیں گے، لیکن پارٹی کے اندرونی ذرائع اسے سیاسی بیان قرار دیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی سوال پرویز الہی کو وزیر اعلی منتخب ہونے کے بعد پوچھا جائے گا تو وہ کوئی اور جواب دیں گے۔ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی سمجھتے ہیں کہ پنجاب کی باگ دوڑ قاف 10 سیٹوں والی قاف لیگ کو دینا کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہو گا۔ تاہم عمران خان ابھی تک اس بات پر قائم ہیں وہ پرویز الٰہی کو ہی وزیراعلٰی پنجاب بنانا چاہتے ہیں کیونکہ اگر پرویز الہی کی 10 سیٹیں ساتھ نہ ہوں تو عمران خان بھی اپنا بندہ وزیراعلی بنوانے کی پوزیشن میں نہیں۔ ویسے بھی قاف لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی میں اٹھنے والی آوازیں اپنی جگہ لیکن قانونی اور تکنیکی طور پر تحریک انصاف اب وزارت اعلٰی کے لیے اپنا امیدوار تبدیل کر ہی نہیں سکتی۔

خیال رہے کہ پنجاب کی وزارت اعلٰی کا انتخاب لاہور ہائیکورٹ کے ایک فیصلے کے تحت ہو رہا ہے جس میں وزیراعلیٰ کے لیے ہونے والے پہلے الیکشن کو قانونی کور دیتے ہوئے دوبارہ رن آف انتخاب کا حکم جاری کیا جس کے مطابق تمام امیدوار بھی وہی رہیں گے اور ان میں 186 کا میجک نمبر لینا بھی ضروری نہیں۔ جو امیدوار بھی زیادہ ووٹ حاصل کرے گا وہی وزیراعلٰی پنجاب ہوگا۔

پنجاب کے ضمنی الیکشن کے نتائج سامنے آنے کے بعد جب پرویز الٰہی مبارکبادیں وصول کر رہے تھے تو رانا ثناءاللہ خان نے ایک پریس کانفرنس میں یہ دھمکی دے ڈالی کے نواز لیگ انہیں اتنی آسانی سے وزیراعلی پنجاب نہیں بننے دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز اور پرویز الہی میں عددی اکثریت کا فرق صرف پانچ ممبران کا ہے اور اگر 22 جولائی کو پرویز الہی کے پانچ بندے آگے پیچھے ہو گئے آئے تو ان کا کھیل ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم بھی عمران خان کے کانوں سے دھواں نکلوانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہم نے کوئی چوڑیاں نہیں پہن رکھیں۔ ایسے میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نواز لیگ بھی حمزہ شہباز کی وزارت اعلی بچانے کے لیے وہ ہتھکنڈے استعمال کر سکتی ہے جو ماضی قریب میں پرویز الہی اور ان کے ساتھیوں نے استعمال کیے تھے۔ یاد رہے کہ نئی نمبر گیم کے مطابق اس وقت پنجاب اسمبلی مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کے ممبران کی تعداد 179 ہے جبکہ پی ٹی آئی اور اتحادی جماعت ق لیگ کے نمبرز 188 ہیں۔ تاہم رانا ثناءاللہ کا دعوی ہے کہ پرویز الہی کو پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز پر صرف 5 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے جسے ختم کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر قاف لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین یا پارٹی سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ اپنی جماعت کے ممبران پنجاب اسمبلی کو وزسرت اعلی کے لیے حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کا حکم جاری کر دیں تو فلور کراسنگ بارے حال ہی میں جاری کردہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پرویز الہی سخت مشکل میں پڑ سکتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button