کیا کسی صحافی کا حکومتی عہدہ لینا جائز ہے؟

معروف صحافی اور کئی ٹی وی چینلز کے مالک سید محسن نقوی کے نگران وزیراعلی پنجاب تعینات ہونے کے بعد اب سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ کیا صحافیوں کا حکومتی عہدے حاصل کرنا جائز یے یا نہیں۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے محسن نقوی کی تعیناتی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں سینئر صحافی ارشاد احمد حقانی اور عارف نظامی نگران وزیر اطلاعات کے عہدے پر کام کرچکے ہیں جبکہ نجم سیٹھی اور حسن عسکری رضوی پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں، ایسے میں محسن نقوی کی تعیناتی پر اعتراض کرنا بنتا نہیں۔ آصف زرداری نے الیکشن کمیشن کی طرف سے محسن نقوی کو پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ مقرر کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے چار ناموں میں سے محسن نقوی بہترین انتخاب ہیں کیونکہ وہ ایک سیلف میڈ انسان ہیں۔ ان کے مطابق محسن نقوی کے تعلقات تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہیں اور انہوں نے نہ تو کبھی الیکشن لڑا ہے اور نہ ہی کسی سیاسی سرگرمی کا حصہ بنے ہیں۔ آصف علی زرداری نے توقع ظاہر کی کہ محسن نقوی بہت جلد اپنی محنت اور قابلیت سے ناقدین کے منہ بند کر دیں گے۔

آصف علی زرداری کا کہنا درست ہے کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ کسی صحافی یا صحافت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے فرد کو کسی سرکاری عہدے پر تعینات کیا گیا ہو۔ ارشاد حقانی، عارف نظامی، نجم سیٹھی اور حسن عسکری کے علاوہ ابصار عالم چیئرمین پیمرا تعینات رہ چکے ہیں جبکہ فہد حسین اسوقت وزیراعظم کے معاون خصوصی ہیں لیکن سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر صحافیوں کی تعیناتیاں ان کو کتنا غیر جانبدار رہنے دیتی ہیں۔ اس معاملے پر ابصار عالم کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں صحافی سرکاری عہدوں پر کام بھی کرتے ہیں اور واپس آ کر دوبارہ صحافت سے وابستہ بھی ہو جاتے ہیں جس پر نہ کسی کو اعتراض ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی شکایت ہوتی ہے۔ امریکہ اور یورپ میں ہزاروں صحافی سیاست میں جاتے ہیں اور پھر بعد میں صحافت شروع کر دیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ محسن نقوی بنیادی طور پر ایک ٹی وی چینلز کے مالک ہیں۔ اگر اے آر وائی کے سلمان اقبال اور جیو کے میر شکیل الرحمن سرکاری میٹنگ میں بیٹھیں تو کوئی اعتراض نہیں کرتا۔ انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں میڈیا اشتہارات کی صورت میں پیسے لے کر ایک سیاسی جماعت کے خلاف پروپیگنڈا تو چلاتا ہے لیکناسے  ڈکلیئر نہیں کرتے، یہ منافقت اور دوہرا معیار ہے۔‘ ان کے مطابق ’مجھ پر بطور چیئرمین پیمرا شدید تنقید کی گئی حالانکہ اس عہدے کی پہلی شرط یہی تھی کہ بندے کو میڈیا کا تجربہ ہو جو کہ ایک صحافی کو ہی ہوتا ہے، تاہم مجھ پر تنقید کی گئی کیونکہ میں اسٹیبلشمنٹ پر سوال اٹھاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے پہلے اور میرے بعد میں سرکاری عہدوں پر آنے والوں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا گیا کیونکہ میں ورکنگ جرنسلٹ تھا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ صحافی کی غیر جانبداری جاننے کا آسان طریقہ ہے کہ ان کے پروگرامز یا کالم دیکھ لیے جائیں کہ اس کے تجزیے کا جھکاؤ پہلے کیا تھی اور بعد میں کیا رہا۔انھوں نے کہا کہ ’میں اتنے عرصے میڈیا میں واپس نہیں آیا تاکہ جانبداری قائم رہے۔

محسن نقوی کی بطور نگران وزیراعلیٰ پنجاب تعیناتی پر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کی ٹویٹ کو بھی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے،  مظہرعباس نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا تھا کہ ان کی خواہش تھی کہ محسن نقوی کو اپنی نامزدگی پر انکار کر دیتے۔ تاہم مظہر عباس کی اس ٹویٹ پر کئی سوشل میڈیا صارفین نے انہیں ان کی 2018 میں حسن عسکری رضوی کی بطور نگران وزیرِ اعلی پنجاب کی تعیناتی پر مبارکباد کی ٹویٹ پر یاد دلاتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اس وقت آپ نے انتہائی خوشی کا اظہار کیا تھا جب حسن عسکری تعینات ہوئے۔

یاد رہے کہ حسن عسکری کو تحریک انصاف کی سفارش پر پنجاب کا نگران وزیراعلی تعینات کیا گیا تھا۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف، پروفیسر اور صحافی ہیں اور نگران وزارت اعلیٰ کے دوران ان کا تحریک انصاف کی جانب جھکاؤ بہت واضح تھا۔ صارفین کے سوال پر جب مظہر عباس سے رابطہ کیا تو ان کا موقف تھا کہ حسن عسکری پروفیشنل جرنلسٹ نہیں رہے اور ان کا صحافت میں کوئی بڑا کردار نہیں رہا۔ تاہم ان کے مقابلے میں نجم سیٹھی کا صحافت میں متحرک کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ محسن نقوی کا صحافت میں سفر سی این این سےشروع ہوا اور اب وہ میڈیا چینلز کے مالک ہیں۔ مظہر عباس کہتے ہیں کہ ’ایک صحافی کبھی بھی جانبدار نہیں ہو سکتا کیونکہ صحافیوں کا کام حکومتِ وقت پر تنقید کرنا ہے اور ان کو بے نقاب کرنا ہے، یہی صحافی کا بنیادی کام ہے، تاہم اپنے آپ کو اس نظام کا حصہ نہ بنائیں اور سیاست کے تمام ایجنڈوں سے دور رہیں تاکہ اپنا کام دیانت داری سے کر سکیں۔‘ مظہر عباس کے مطابق ’بہت سے ہمارے صحافی، مدیران اور مالکان حکومتوں کا حصہ رہے ہیں اسی وجہ سے ان پر تنقید ہوتی ہے کیونکہ اس میں ان کا اپنے پیشے اور حکومت کے ساتھ مفادات کا ٹکراؤ ہوتا ہے۔

Related Articles

Back to top button