کے پی میں JUI کے لیڈرز کی ٹارگٹ کلنگ کون کر رہا ہے؟


پاکستان اور تحریک طالبان میں مذاکرات اور جنگ بندی کے باوجود خیبر پختونخوا میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور سیکیورٹی فورسز کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مقامی رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صرف باجوڑ اور شمالی وزیرستان میں چند ماہ کے دوران جمعیت علمائے اسلام (ف) کے نو مقامی رہنماؤں کو ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ باجوڑ میں چند ماہ میں جے یو آئی کے پانچ رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے ذمہ داری کالعدم تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔ شمالی وزیرستان میں چار مقامی رہنماؤں کو ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک کر دیا ہے لیکن اس کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

شمالی وزیرستان میں ایک ہفتے کے دوران جمعیت علماء اسلام کے چار مقامی رہنماؤں کو قتل کیا گیا ہے ان میں قاری سمیع الدین، مولانا نعمان ، ملک مرتضی، اور عبدالرحمان شامل ہیں۔ جے یو آئی کے ایک مرکزی رہنما خالد جان داوڑ نے بتایا کہ شمالی وزیرستان اور باجوڑ میں جماعت کے جن رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ اپنے علاقے اور صوبائی سطح پر متحرک قائدین اور لوکل گورنمنٹ کے سطح پر اہم شخصیات تھے۔ ان میں قاری سمیع الدین میر علی تحصیل کے امیر تھے اور سابقہ انتخابات میں جماعت کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار تھے۔ انکا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے خیبر پختونخوا میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور ان میں ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جن کی ذمہ داری کالعدم تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔

باجوڑ میں جمعیت علمائےاسلام کے پانچ مقامی رہنماؤں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے ان میں مفتی سلطان محمد ، مولانا عبدالسلام ، قاری الیاس، مولانا شفیع اللہ ، اور مفتی بشیر شامل ہیں۔ مقامی سطح پر ان رہنماؤں کی ہلاکت پر احتجاج کیا گیا ہے لیکن مرکزی قیادت نے اس بارے میں صرف مذمتی بیان کی جاری کیے تھے یہ واقعات گزشتہ سال نومبر کے بعد سے شروع ہوئے تھے۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے جہاں افغانستان کے اندر داعش کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے وہیں پاکستان میں بھی ایسے حملے بڑھ گئے ہیں جن کی ذمہ داری کالعدم تنظیم نے قبول کی ہے ان میں سکھ حکیم پر حملے کے علاوہ پشاور میں شیعہ مسجد پر حملہ اور جمعیت کے رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ شامل ہے ۔ اس سال اپریل کے مہینے میں کالعدم تنظیم داعش نے سات صفحات کا بیان جاری کیا تھا جس میں جمعیت علمائے اسلام کے مذہبی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے بارے میں کہا گیا تھا۔ یہ فتوی باجوڑ میں مفتی شفیع اللہ کے قتل کے بعد جاری کیا گیا تھا۔ اس بیان میں مفتی شفیع اللہ اور قاری الیاس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ دونوں مذہبی رہنماؤں کا تعلق جمعیت علمائے اسلام سے تھا جو داعش کے مخالفین کی حمایت کرتی ہے اور یہ کہ یہ جماعت اسلامی ریاست کے قیام کے لیے نہیں بلکہ جمہوریت کے قیام کے لیے سر گرم ہے ۔ داعش کے مخالفین سے مراد بظاہر کالعدم تنظیم تحریک طالبان ہے۔

باجوڑ سے تعلق رکھنے والے جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا عبدالرشید نے اس بارے میں کہا ہے کہ انھیں نہیں معلوم کہ جمعیت کے لوگوں کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو سوشل میڈیا پر ذمہ داری قبول کی جاتی ہے اس کی تصدیق بھی نہیں ہے کہ یہ اصل ہے یا کسی تنظیم کی جانب سے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ کالعدم تنظیم کی جانب سے ہے تو ان سے پوچھا جائے کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت اسلام اور پاکستان کے استحکام کے لیے کوششیں کر رہی ہے اور انھیں تو اپنا گناہ معلوم نہیں ہے کہ اس کا سبب کیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے قبائلی علاقوں کے رہنما خالد جان داوڑ نے بتایا کہ یہ اب تک غیر واضح ہے کہ جمعیت کے رہنماؤں کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ در اضل مخالفین امن نہیں چاہتے اس لیے وہ تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں جماعت کے رہنماؤں کے قتل پر تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی تنظیم قاتلوں کو ڈھونڈ رہی ہےجنھیں عنقریب کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button