گوادرمیں پرانے مطالبات کے حق میں مولانا کا نیادھرنا


بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں مولانا ہدایت اللہ کی زیر قیادت اپنے مطالبات تسلیم نہ کئے جانے کے خلاف دیا گیا دھرنا اب تیسرے ہفتے میں داخل ہوگیا ہے لیکن ابھی تک وزیراعلیٰ قدوس بزنجو کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ گوادر میں ‘حق دو تحریک’ نے اپنے اس چارٹر آف ڈیمانڈز کی منظوری کے لیے دھرنا دے رکھا ہے جنہیں تسلیم کرنے کا اعلان قدوس بزنجو نے کئی ماہ پہلے کیا تھا لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا۔

اب مولانا ہدایت اللہ کی ‘حق دو تحریک’ نے حکومت کو تین دن کا الٹی میٹم دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ان کے 42 مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو گوادر پورٹ، ایکسپریس وے کو بند کر دیا جائے گا۔ مولانا ہدایت الرحمٰن نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو ری ٹویٹ کی جس میں دھرنے کے لیے لگائے گئے سٹیج پر چند فنکاروں کو دیکھا جا سکتا ہے جو قوالی گا رہے ہیں۔ ویڈیو کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ حق دو تحریک کے احتجاجی دھرنے میں گوادر کے محنت کش اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے سمندر میں ٹرالنگ، روزگار پر قدغن، بھتہ خوری، سمندری حیات کی نسل کشی پر قوالی پیش کر رہے ہیں۔‘ یاد رہے کہ حق دو تحریک نے گذشتہ سال بھی ایک ماہ سے زائد دھرنا دیا تھا جس پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے وہاں جاکر ان سے معاہدہ کیا تھا۔

حق دو تحریک کے ترجمان حفیظ اللہ سمجھتے ہیں کہ معاہدے کو سال گزرنے اور بار بار یاد دلانے پر بھی حکومت نے کوئی عمل نہیں کیا جس وجہ سے ہمیں دوبارہ دھرنا دینے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ حفیظ اللہ نے بتایا کہ اس دھرنے کے بھی مطالبات وہی ہیں جن کی منظوری کا اعلان کرکے پچھلی مرتبہ دھرنا ختم کروایا گیا تھا۔ ہمارے ابتدائی 19 مطالبات پہلے بھی تھے۔ بعد ازاں کچھ ایسے مسائل سامنے آئے، جن کو بھی نئے چارٹر میں شامل کر لیا گیااور یوں مطالبات کی تعداد 42 ہو چکی ہے۔تحریک کی طرف سے جاری کردہ چارٹر آف ڈیمانڈ میں سرفہرست لاپتہ افراد کی بازیابی ،ٹرالر مافیا کا خاتمہ، ایرانی سرحد سے تجارت کی اجازت اور منشیات کے خاتمے سمیت غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ شامل ہے۔

حفیظ اللہ بتاتے ہیں کہ ’حالیہ دھرنے کو تیسرا ہفتہ شروع ہے لیکن حکومت کی طرف سے نظرانداز کرنے کی پالیسی جاری ہے، جس پر قائدین نے سخت لائحہ عمل اپناتے ہوئے تین روز کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہمارے الٹی میٹم کے مطابق دھرنے کی طرف سے مطالبات کے حوالے سے عدم پیش رفت اور غیر سنجیدگی پر گوادر پورٹ شاہراہ کی بندش، ایکسپریس وے اور انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے کام کو روکنے کا اقدام کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ایک طرف انٹرنیشنل ایئرپورٹ تعمیر ہو رہا ہے لیکن شہر میں پینے کا پانی موجود نہیں ہے۔ گوادر پورٹ سی پیک ہے لیکن شہر اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس صورت حال میں سخت اقدام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

حفیظ اللہ نے بتایا کہ اب تک ضلعی اور صوبائی حکومت کی طرف سے یہی کہا جا رہا ہے کہ ’ہمیں مزید وقت دیا جائے، ہم مسائل حل کر دیں گے۔ تاہم دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ دھرنا جاری ہے اور بحر بلوچ میں ٹرالر مافیا کی یلغار بھی ہے۔ منشیات کی بھرمار ہے۔ سرحد پر لوگوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ سب چلتا رہے گا، کیسے ممکن ہے کہ کسی سے مذاکرات کیے جائیں۔ انکے مطابق دوسرا اہم مسئلہ چیک پوسٹوں کے خاتمے کا تھا۔ لیکن اب تک صرف دو چیک پوسٹس ختم کی گئی ہیں جبکہ 12 مزید بنا دی گئی ہیں۔ ان کے بقول ’ہم جن چیک پوسٹوں کے خاتمے کی بات کر رہے تھے، وہ ہماری آبادی کے اندر ہیں اور آج بھی قائم ہیں جن کو ختم کرنے کی جرات کسی میں نہیں ہے۔ انکے آبادی میں ہونے سے ہماری خواتین کو مشکلات کا سامنا ہے، جن کا ہم فوری خاتمہ چاہتے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مولانا ہدایت الرحمٰن نے حق دو تحریک کی سربراہی چھوڑ دی ہے تو حفیظ اللہ نے کہا کہ تحریک کی سربراہی مولانا ہدایت اللہ ہی کر رہے ہیں۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ چونکہ یہ تحریک باقاعدہ ایک جماعت کے طور پر رجسٹرڈ ہونے جا رہی ہے اور اس کا ایک ڈھانچہ بنا ہوا ہے جس کے تحت اس کے اندرونی انتخابات ہوئے ہیں لہذا مولانا ہدایت نے حسین واڈیلا کو نامزد کیا ہے جو بلامقابلہ منتخب بھی ہوئے۔لیکن مولانا ہدایت الرحمٰن بہ حیثیت سپریم کونسل کے تحریک کے ساتھ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کی مرکزی کابینہ اور پورے بلوچستان میں مولانا کے ہمراہ قیادت کرنے کے لیے حسین واڈیلا کو سربراہی دی گئی ہے۔

Related Articles

Back to top button