گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی عمرانڈو قرار


سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں تحریک انصاف سے نظریاتی اختلاف رکھنے والے اساتذہ کو ملازمت سے نکال دینے والے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے عمرانڈو وائس چانسلر ڈاکٹر اصغر زیدی نے تحریک انصاف کے چیئرمین کو یونیورسٹی میں سیاسی خطاب کی اجازت دے کر خود کو مزید متنازعہ بنا دیا ہے جس پر گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے موصوف سے وضاحت بھی طلب کر لی ہے۔

یاد رہے کہ عمران خان نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں اپنے خطاب کے دوران ایک مرتبہ پھر امریکی سازش کا رونا رویا اور طالبعلموں سے نیوٹرلز کے خلاف نعرے بھی لگوائے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ وائس چانسلر اصغر زیدی نے عمران دور حکومت میں کئی اساتذہ کو برطرف کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ وہ استاد ہونے کے باوجود سیاسی نظریات کا پرچار کرتے ہیں۔ لیکن اب عمران کو سیاسی خطاب کی اجازت دے کر اصغر زیدی نے اپنی ذات کا کھلا تضاد بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ لیکن یہ پہلا موقع نہیں کہ گورنمنٹ کالج کے وائس چانسلر نے عمرانڈو ہونے کا ثبوت دیا ہو۔ اس سے پہلے موصوف نے عمران کے روحانی استاد مولانا طارق جمیل کو بھی خطاب کے لیے مدعو کیا تھا جس کے بعد گورنمنٹ کالج کی اولڈ راوینز یونین نے وائس چانسلر زیدی پر الزام لگایا تھا کہ وہ اس تاریخی درسگاہ کو ایک اسلامی مدرسے میں تبدیل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ یونین کی جانب سے وی سی کو لکھے ایک احتجاجی خط میں کہا گیا تھا کہ وہ طارق جمیل اور ڈاکٹر رفیق اختر جیسے بنیاد پرستوں کو لیکچرز کے لیے مدعو کر کے طلبہ کو روشن خیالی کی بجائے بنیاد پرستی کو فروغ دے رہے ہیں۔

اولڈ راوینز یونین کی جانب سے وی سی کو بتایا گیا کہ ہم نے گورنمنٹ کالج کے بام و در میں فیض احمد فیض، ڈاکٹر نذیر احمد، پطرس بخاری، دیو آنند اور ڈاکٹر عبدالسلام سمیت سینکڑوں نابغہُ روزگار شخصیات کو سیکولر ماحول انجوائے کرتے دیکھا تھا۔ بعد ازاں یہ شخصیات عظمت کی کہانیوں میں تبدیل ہو گئیں۔ خط میں کہا گیا کہ ہم نے بخاری آڈیٹوریم کے سٹیج پر شیکسپئر کے ڈراموں پر مخلوط رقص ہوتے بھی دیکھا ہے اور موسیقی کی محفلیں برپا ہوتے بھی دیکھیں۔ ہم نے کالج کے “لو گارڈن” Love Garden میں طالبعلم جوڑوں کو محبت کی شادی کر کے بڑھاپے میں جوڑوں کے درد تک ساتھ چلتے بھی دیکھا ہے۔ لہذا وائس چانسلر اصغر زیدی کو مشورہ دیا گیا تھا کہ اس ادارے میں مذہبیت کے فروغ سے گریز کیجئے۔ لیکن اصغر زیدی کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور انہوں نے اس تاریخی ادارے کو ایک بنیاد پرست دینی مدرسہ بنانے کے ایجنڈے پر کام جاری رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسا کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کے ریاست مدینہ کے خواب کی تعبیر کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔

اب عمران خان کی جانب سے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں سیاسی جلسے کے انعقاد پر گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے بطور چانسلر نوٹس لیا ہے اور وضاحت طلب کی ہے۔ گورنر پنجاب نے کہا ہے کہ ایک نامور تعلیمی ادارے کو سیاسی اکھاڑا بنانا افسوس ناک ہے۔ مریم نواز نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف ایک تعلیمی ادارے کی بے حرمتی پر سخت ایکشن لیا جانا چاہیے۔ عمران خان نے اپنی تقریر کے آغاز میں وائس چانسلر جی سی یونیورسٹی ڈاکٹر اصغر زیدی کا بھی یہ ’موقع‘ دینے پر شکریہ ادا کیا تھا۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں غیر ملکی سازش پر بات کی اور اپوزیشن پر تنقید کی۔

اس موقع پر سوال کے انداز میں حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے خان صاحب نے کہا کہ امریکی اہلکار نے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر سے جب مجھے ہٹانے کی بات کی تو یہ پیغام درحقیقت کس کے لیے تھا۔ اس پر کالج کے طلبا نے نیوٹرلز نیوٹلز کے نعرے لگانا شروع کر دئیے۔ حاضرین کے جواب دینے پر اُنھوں نے کہا کہ وہ سیاسی شعور کے اس امتحان میں پاس ہو گئے ہیں۔

اس معاملے پر سوشل میڈیا صارفین نےرد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹیوں کو سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیے اور کسی وائس چانسلر کو کسی بھی سیاسی جماعت کے قائد کا ایجنڈا آگے بڑھانے کے لئے اپنا پلیٹ فارم مہیا نہیں کرنا چاہیے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران کی طرح سیاسی رہنما طلبہ سے فوج اور اس کی قیادت کے خلاف بدکلامی کرنے کا نہیں کہتے۔ یہ کام سکولوں اور کالجوں سے باہر ہونا چاہیے۔ ویسے بھی کوئی وائس چانسلر کسی سیاسی لیڈر کو اپنا ’قائد‘ نہیں کہتا جیسا کہ ڈاکٹر اصغر زیدی نے اپنے خطاب میں کیا۔ ایک صحافی مدثر سعید نے ٹوئٹر پر لکھا کہ پرانے راویئن ہونے کے ناطے وہ جی سی یو کی جانب سے عمران خان کو جلسے کے لیے جگہ دینے پر حیران ہیں۔اُنھوں نے پوچھا کہ اب کیا جماعتِ اسلامی، جمعیت علما اسلام (ف)، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے قائدین کو بھی گورنمنٹ کالج میں جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے گی؟

Related Articles

Back to top button