ہتھیار ڈالنے والا جنرل نیازی بمقابلہ ہتھیار اٹھانے والا عمران نیازی


پاکستانی سیاسی تاریخ میں جنرل اے کے نیازی کا ذکر اس شخص کے طور پر کیا جاتا ہے جس نے ایک لاکھ فوج کی قیادت کرتے ہوئے ڈھاکہ میں بھارتی افواج کے سامنے ہتھیار ڈالے اور مشرقی پاکستان گنوا دیا جبکہ عمران خان نیازی کو اس شخص کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے اپنی ہی فوج کے تباہ ہونے اور پاکستان کے تین ٹکڑوں میں بٹ جانے کی بات کی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسی باتیں وہ شخص کررہا ہے جو 2018 میں فوج کی مدد سے برسراقتدار آیا تھا اور پھر پونے چار برس تک ہائبرڈ نظام حکومت کے تحت ملک کا حکمران رہا اور اسے معاشی اور سیاسی تباہی سے دوچار کر دیا۔

عمران نیازی نے بول ٹی وی کوانٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اگر درست فیصلے نہیں کریگی تو سب سے پہلے وہ خود تباہ ہو گی اور پھر پاکستان کے تین ٹکڑے ہوجائینگے اورساتھ ہی پاکستان کا نیوکلئیر پروگرام ختم کروادیا جائیگا۔ یہ بات کرتے ہوئے عمران اسٹیبلشمنٹ سے جس درست فیصلے کا مطالبہ کر رہا ہے وہ اسے ایک مرتبہ پھر سے برسر اقتدار لانے کا ہے حالانکہ اسے ایک جمہوری عمل کے نتیجے میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے رخصت کیا گیا اور وہ بھی بطور حکمران اسکی مکمل ناکامی ثابت ہو جانے کے بعد۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد عمران ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے اور سمجھتا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں نہیں رہا تو پاکستان کو بھی نہیں رہنا چاہیئے، اسی لیے موصوف کبھی پاکستان پر ایٹم بم گرانے کی بات کرتے ہیں تو کبھی پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی بات کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ نہ تو پاکستان کو دو ٹکڑے کرنے والے جنرل نیازی کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی اور نہ ہی پاکستان کو دوبارہ توڑنے کی باتیں کرنے والے عمران نیازی کے خلاف کوئی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ایسے میں ناقدین کہتے ہیں
ایک جنرل نیازی تھا جس نے دشمن کی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے اور ایک ہماری فوج ہے جس نے بظاہر عمران نیازی کے آگے ہتھیار ڈال دیے ہیں، انکا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کی زہریلی باتیں کوئی اور سیاست دان کرتا تو اس پر بغاوت کا پرچہ درج کروا کر اسے زندان میں ڈال دیا جاتا۔

عمران نیازی کے ناقدین یاددلاتے ہیں کہ موصوف کو اقتدار کی کرسی تک پہنچانے کیلئے پہلے نواز حکومت کیخلاف چار حلقوں میں دھاندلی کا الزام لگا کر 2014 میں دھرنا کروایا گیا، اسکے بعد پانامہ کا ڈرامہ رچایا گیا اور جب اس ڈرامے سے کچھ نہ نکلا تو نواز شریف کو اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے الزام پر نہ صرف اقتدارسے نکلوایا گیا بلکہ تاحیات نااہل کروا دیا گیا تاکہ عمران نیازی کے اقتدار کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عمران نیازی کو اقتدار میں لانے اور اس کے بعد اس کی حکومت چلانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے جتنا تعاون کیا اسکی ہماری سیاسی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ لیکن موصوف نے بطور حکمران نااہلی اور نالائقی کی نئی تاریخ رقم کی جس کے نتیجے میں ملکی معیشت تباہ ہو گئی اور پاکستان سنگین ترین معاشی بحران میں پھنس گیا۔ چنانچہ عمران نیازی کے سرپرستوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے نیوٹرل ہونے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں وہ اقتدار سے بے دخل ہو گیا۔ اپنی کرسی چھن جانے کے بعد عمران نیازی نے نیوٹرل ہو جانے والی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایک ملک گیر مہم چلائی جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید زہریلی ہوتی چلی جا رہی ہے اور اب موصوف نے فوج کے تباہ ہونے اور پاکستان کے تین ٹکڑوں میں بٹنے کی باتیں کرنا شروع کر دی ہیں، لیکن افسوس کہ اس کی زبان بندی کرنے والا کوئی نہیں ہے اور اسٹیبلشمنٹ اس سے خوفزدہ ہو کر دبکی بیٹھی ہے جس کی بنیادی وجہ شاید اسکا پنجابی ڈومیسائل ہے، جس کا سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ڈومیسائل سے کوئی مقابلہ نہیں۔

سیاسی تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ عمران وہ واحد کی سیاست دان ہے جسکے خلاف نہ صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ بلکہ پاکستان کی عدلیہ بھی کھلی آئین شکنی اور قانون شکنی کے باوجود بھی کوئی کارروائی کرنے سے گریزاں رہتی ہے۔ عمران نیازی ایک آئینی طریقہ کار کے تحت دائر کردہ تحریک عدم اعتماد کو رکوانے کے لئے آئین شکنی کرے تو بھی اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی اور ایک منتخب حکومت کے خلاف اسلام آباد پر چڑھائی کرکے تباہی اور بربادی مچا دے تو بھی سپریم کورٹ اسے شک کا فائدہ دینے کو تیار رہتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اندر ایک طاقتور دھڑا عمران کے ساتھ کھڑا ہے جس کی قیادت کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ کا یہ طاقتور دھڑا عمران کی محبت میں پاکستان کو برباد کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے؟ اور اگر ایسا ہی ہے تو کیا آرمی چیف اور فوج کی دیگر قیادت اس خطرے سے آگاہ نہیں؟

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب جبکہ عمران نیازی نے کھل کر پاکستان کے تین ٹکڑے ہونے اور فوج کی تباہی کی باتیں شروع کردی ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کو اپنے باہمی اختلافات ختم کر کے نیازی کے ملک دشمن ایجنڈے کا قلع قمع کرنا ہو گا کیونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے کسی سابق وزیر اعظم نے ملک توڑنے کے علاوہ نیوکلیئر پروگرام ختم کرنے کی بات بھی کی ہو۔

Related Articles

Back to top button