ارشد شریف کو گاڑی کے اندر کمر میں گولی کس نے ماری؟

ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کرنے والی دو رکنی پاکستانی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ ٹارگٹ کلنگ کا معاملہ ہے جس میں کہ تین ملکوں سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی کردار شامل ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کی رائے کے مطابق ارشد کا قتل شناخت میں غلطی سے نہیں ہوا بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبہ کا نتیجہ تھا جس میں کینیا، دبئی اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے ٹرانز نیشنل کرداروں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ایسے شواہد نہیں ملے کہ ارشد پر قتل سے قبل تشدد کیا گیا تھا۔

 

فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی 600 صفحات پر مبنی رپورٹ  کے مطابق قتل کے وقت بھی ارشد شریف کے پاس دبئی کا اکیس روز کا قابل استعمال ویزا موجود تھا۔ اس کے علاوہ مقتول صحافی کے پاس کویت کا ویزا بھی موجود تھا۔ ارشد نے دبئی سے کینیا آنے کے لئے ریٹرن ٹکٹ حاصل کی تھی اور انہوں نے 19 ستمبر 2022 کو واپس دبئی لوٹ جانا تھا۔ قتل کے حوالے سے کینیا کی پولیس کے موقف میں تضادات ہیں۔ کینیا میں ہونے والے پوسٹ مارٹم میں ارشد پر تشدد کا ذکر نہیں تاہم پاکستان میں ہونے والے پوسٹ مارٹم میں کہا گیا ہے کہ ارشد کے جسم پر تشدد کے شواہد ملے تھے۔

ایف آئی اے کے سینئر افسر اطہر وحید اور انٹیلی جنس بیورو کے سینئر افسر عمر شاہد پر مشتمل دو رکنی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ارشد نے گرفتاری کے خوف سے 10 اگست کو پاکستان چھوڑا اور پھر 19 اگست کو اے آر وائی ٹیم کی مشاورت سے دبئی سے کینیا روانہ ہو گئے۔ فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے مطابق شاید انہیں دبئی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا جس کے بعد انہیں 23 اگست کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے قریب ایک ہائی وے پر فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔

 

فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے مطابق کینیا کی پولیس نے پہلے اس قتل کو شناخت کی غلطی کا معاملہ قرار دیا اوربعد میں بیان بدلتے ہوئے کہا کہ گاڑی کے اندر سے فائرنگ ہوئی تھی جس کے جواب میں پولیس کی طرف سے بھی فائرنگ کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ارشد شریف کو ایک گولی پیچھے سے گردن کے نچلے حصے میں کمر پر لگی اور سینے کے دائیں طرف سے سامنے سے نکل گئی مگر حیرت انگیز طور پر گاڑی کی سیٹ پر گولی نہیں لگی۔ اگر گولی گاڑی کے باہر سے فائرنگ کے نتیجے میں اندر آئی تھی تو اس نے ارشد شریف کی سیٹ کو پیچھے سے پھاڑ کر ان کی کمر میں گھسنا تھا لیکن ایسا نظر نہیں آتا۔ لہذا ظاہر ہوتا ہے کہ اس بیانیے میں جھول ہے۔ یہ بھی خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ارشد شریف کو گاڑی کے اندر نہایت قریب سے گولی ماری گئی کیونکہ فرانزک تجزیہ یہی بتاتا ہے۔ پاکستانی تفتیش کاروں کے مطابق ارشد شریف کے کینیا میں میزبان وقار احمد کے کینیا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس کے علاوہ عالمی ایجنسیوں اور پولیس سے بھی تعلقات ہیں جن کی وجہ سے ہی اس نے ارشد کا فون اور آئی پیڈ کینیا کی پولیس کے بجائے این آئی ایس کو دیے۔ اس تعلق سے ثابت ہوتا ہے کہ صحافی کے قتل میں بین الاقوامی کردار ملوث ہیں۔

 

فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے مطابق پاکستان میں کیے گئے پوسٹ مارٹم میں ارشد شریف کی چار انگلیوں کے ناخن نہیں پائے گئے جس سے لگتا ہے کہ قتل سے قبل ان پر تشدد کیا گیا، تاہم کینیا میں کیے گئے پوسٹ مارٹم میں تشدد کا ذکر نہیں۔ کینیا میں ہونے والے پوسٹ مارٹم میں یہ کہا گیا ہے کہ ارشد کے ناخن ڈی این اے کے لیے نکالے گئے جبکہ ناخنوں کی تعداد بھی نہیں لکھی گئی۔ رپورٹ کے مطابق کینیا کے حکام نے فیکٹ فائنڈنگ ٹیم سے زیادہ تعاون نہیں کیا۔فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے کہا ہے کہ ارشد شریف کے قتل کے معاملے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کی جا سکتی ہیں۔ مقدمہ پہلے ہی درج ہو چکا ہے اور تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

 

رپورٹ میں کہا گیا کہ کینیا کی جی ایس یو پولیس کے بیانوں میں تضاد ہیں اور ان پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔ اسکے علاوہ ارشد شریف کے کینیا میں میزبان خرم اور وقار کا کردار اہم اور مزید تحقیق طلب قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ دونوں افراد مطلوبہ معلومات دینے سے ہچکچا رہے ہیں اور ان سے تفتیش ضروری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک درجن کے قریب اہم کردار ارشد شریف سے مستقل رابطے میں تھے۔ یہ کردار پاکستان، دبئی اور  کینیا میں مقتول کے ساتھ رابطے میں تھے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر حکومت کی طرف سے اس قتل کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم مسترد کر دی اور نئی سپیشل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ ارشد شریف کے قتل سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ اس واقعے کی تفتیش سینئر اور آزاد افسران سے کرائی جائے جو معاملہ فہم اور دوسرے ملک سے شواہد لانے کے ماہر ہوں۔

Related Articles

Back to top button