ارشد شریف کے جسم پرنشانات قتل سے پہلے کےنکلے


کینیا میں پراسرار حالات میں قتل ہونے والے سینئر صحافی ارشد شریف کی پمز ہسپتال اسلام آباد سے جاری کردہ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے تصدیق کی ہے کہ انکے جسم پر زخموں کے نشانات اُنہیں قتل کیے جانے سے پہلے کے ہیں۔ تحقیقاتی ذرائع نے پمز ہسپتال کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ رپورٹ میں موت سے پہلے تشدد کے انکشاف کے بعد لگتا ہے کہ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت ہوا اور انہیں گھیر کر ایک ویران علاقے میں لے جا کر مارا گیا۔

تحقیقاتی ذرائع کا کہنا تھا کہ کینیا سے ارشد شریف کی لاش ملنے کے ایک دن بعد 26 اکتوبر کو اس کا پوسٹ مارٹم کرنے والے پمز ہسپتال اسلام آباد کے آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ نے بتایا کہ ان کے جسم پر 12 زخموں کے نشانات اُن کی موت سے پہلے کے ہیں۔

ذرائع نے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کی موت دو گولیاں لگنے کی وجہ سے ہوئی، جسم میں گولی لگنے کی وجہ سے ان کے دماغ اور دائیں پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا، رپورٹ سے معلوم ہوا کہ ارشد شریف کی ہنسلی کی ہڈی یا کالر بون کے دائیں جانب اور دائیں جانب کی تیسری پسلی بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ مقتول صحافی کے دماغ کے بائیں جانب اوپری حصے کی ہڈی غائب تھی جو شاید گولی لگنے سے ٹوٹ چکی تھی، پوسٹ مارٹم کے دوران ڈاکٹروں کو پورے جسم میں درجن بھر زخموں کے نشانات ملے، رپورٹ سے معلوم ہوا کہ مقتول صحافی کی گردن کے بائیں جانب نچلے حصے اور کندھے کے بائیں جانب زخموں کے نشانات بھی موجود تھے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کے بائیں ہاتھ کے چار ناخن غائب تھے، ہاتھوں کی درمیانی انگلیوں کے ناخن میں زخم موجود تھے جبکہ ان کی بائیں آنکھ سیاہ پائی گئی تھی جو شاید تشدد کی وجہ سے تھی۔

8 رکنی میڈیکل بورڈ کی رائے ہے کہ یہ زخم موت کا سبب بننے کے لیے کافی تھے۔ خیال رہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے دوران ڈاکٹروں کو ارشد شریف کے سینے سے ایک ’دھات کا ٹکڑا‘ ملا جسے بعد میں گولی قرار دیا گیا اور فرانزک جانچ کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ کینیا میں ارشد شریف کے پوسٹ مارٹم کے دوران یہ گولی ڈاکٹروں کو نظر نہیں آئی جو کہ عجیب بات ہے۔

Related Articles

Back to top button