اسٹیبلشمنٹ مخالف مہم سے عمران اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں؟


اپنے حکومت مخالف لانگ مارچ کی ناکامی کے باوجود سابق وزیراعظم عمران خان نے فوجی اسٹیبلشمنٹ پر حملے تیز کر دیے ہیں جن کا بنیادی مقصد ملک میں فوری الیکشن کا انعقاد کروانا ہے۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کپتان اپنے ناکام لانگ مارچ کے نتیجے میں الیکشن کا چانس گنوا چکے ہیں لہذا انہیں سمجھنا چاہیے کہ انکی اسٹیبلشمنٹ مخالف مہم سے سیاسی فائدے کی بجائے مزید نقصان ہو گا۔

عمران خان نے خبردار کیا ہے کہ ’اگر انہیں دیوار سے لگایا گیا تو وہ چپ نہیں رہیں گے اور سب کچھ قوم کے سامنے رکھ دیں گے۔ عمران کا کہنا تھا کہ انہیں سب پتا ہے کہ کس نے کیا کیا ہے۔ مگر وہ اس لیے خاموش ہیں کہ ملک کو نقصان نہ پہنچے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے بیانات سے عمران فوجی اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں۔ عمران خان نے ایک بار پھر بیرونی سازش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکہ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی سے خوش نہیں تھا، اس لیے اس نے پاکستانی میر جعفروں اور میر صادقوں کو ساتھ ملا کر میری حکومت تبدیل کروائی۔ لہذا میں عوام کو کہتا ہوں کہ فیصلہ کن وقت آن پہنچا ہے، وہ ملک بچانے کے لیے آگے آئیں’۔

اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ہوئے سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ عمران خان پر آہستہ آہستہ واضح ہو رہا ہے کہ ان کے فوری انتخابات کے مطالبے کو پذیرائی نہیں مل رہی ہے، اور ان کی جھنجلاہٹ بڑھنے کی بھی یہی وجہ ہے۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ ’اس کے علاوہ چونکہ پنجاب کے ضمنی الیکشن قریب ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو انکے بیانیے سے فائدہ ملے۔دوسری طرف وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ سابقہ خاتون اول بشریٰ بی بی اور ان کے دیگر قریبی افراد کی آڈیوز لیک ہونے کا سلسلہ بھی رکے۔انکے خیال میں عمران کو اندازہ ہے کہ 17 جولائی کے ضمنی انتخابات میں ان کی جماعت کا جیتنا کتنا ضروری ہے شاید یہی وجہ ہے کہ وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں تاکہ ان کے امیدواروں کو سیاسی فائدہ مل سکے۔ دوسری جانب وہ عام انتخابات کے فوری انعقاد کے لیے بھی دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں، اسی لیے وہ بار بار اسٹیبلشمنٹ پر حملہ آور ہو رہے ہیں’۔

تاہم پروفیسر رسول بخش رئیس کا خیال ہے کہ عمران کو اسٹیلشمنٹ کے ساتھ تناؤ مزید نہیں بڑھانا چاہیئے، اس سے انہیں فائدہ بہت کم اور نقصان بہت زیادہ ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران کو اپنی حکومت مخالف مہم چلاتے رہنا چاہیے اور بڑے طریقے سے اسٹیبلشمنٹ کو یہ پیغام بھی دینا چاہیے کہ وہ مفاہمت چاہتے ہیں مگر انہیں سیاسی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرعمران خان نئی حکومت کے غیر مقبول ہونے کا اپنا بیانیہ سچا ثابت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں پنجاب کی 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں اکثریت حاصل کرنا ہو گی۔ یاد رہے کہ 17 جولائی کو پنجاب اسمبلی کے ان 20 حلقوں میں ضمنی الیکشن ہو رہا ہے جہاں سے پی ٹی آئی کے منحرف ارکان حمزہ شہباز کو وزارت اعلیٰ کے لیے ووٹ دینے کی پاداش میں الیکشن کمیشن کے ہاتھوں ڈی سیٹ ہوئے تھے۔

اب سپریم کورٹ کے حکم پر ضمنی الیکشن کے بعد پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے دوبارہ الیکشن ہونا ہے اس لیے ان انتخابات میں کامیابی کے لیے پی ٹی آئی اور نون لیگ سرتوڑ کوششیں کر رہی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے لیے حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ مستقل کرنے کے لیے ان انتخابات میں 10 سیٹیں جیتنا ضروری ہے جبکہ پی ٹی آئی کو کم از کم 15 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا ہو گی۔ لیکن اگر تحریک انصاف اکثریتی نشستیں حاصل نہیں کر پاتی تو وہ نہ صرف پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی دوڑ سے باہر ہو جائے گی بلکہ ضمنی الیکشن کے نتائج کا اثر اگلے عام انتخابات پر بھی پڑے گا۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ عمران خان اپنی حکومت مخالف مہم میں اسٹیبلشمنٹ کا بھی رگڑا نکال رہے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے سے انہیں فائدے کی بجائے نقصان زیادہ ہوگا۔

Related Articles

Back to top button