اعتراف گناہ کے بغیر اسٹیبلشمنٹ کو معافی نہیں ملنی چاہیے


ملکی سیاست کی کایا اچانک پلٹ گئی ہے، وہ جو کل تک فرعون تھے اور جن کے لہجے میں تحکم اور تحقیر جھلکتی تھی، وہ اب معافی کے طلبگار ہیں، وہ جو کل تک ظالم تھے، اب مظلوم بنے دکھائی دیتے ہیں، وہ جو کل تک نفرت کا منبع تھے، اب محبتوں کے پھول برسانے کو تیار ہیں۔ تاہم سچ یہ ہے کہ معافی کے خواستگار صرف اس بحران سے نکلنا چاہتے ہیں، ایک بار یہ نکل گئے تو پھر وہی ہو گا جو ہماری تاریخ کا تاریک حصہ ہے۔ لہذا اس بار عام معافی کے اعلان سے پہلے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے گناہوں کا اعتراف ضروری ہے، الیکشن انجینئرنگ سے اجتناب کا اقرار لازم ہے، آئین توڑنے والوں کو نشان عبرت بنانا ضروری ہے کیونکہ اگر اس مرتبہ بھی ایسا نہ ہوا تو چند سال کے بعد پھر سے وہی سب ہو گا جو ماضی میں ہوتا رہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود کہتے ہیں کہ یوں لگتا ہے سیاست کی تاش کی بازی اچانک نواز شریف کے ہاتھ میں آ گئی ہے، چاروں ”یکے“ ان کے ہاتھ میں ہیں، اب ان کی مرضی جو چاہے چال لیں، جو چاہے برج الٹ دیں، جسے چاہے مات دے دیں، ہر بات نواز شریف کی مانی جا رہی ہے، ہر بات پر قبول ہے، قبول ہے کے نعرے بلند ہو رہے ہیں۔ بہت سے لوگ جو اس نئے پاکستان کے بانی تھے، وہ اب پرانے پاکستان کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں، اب میاں صاحب کی مرضی ہے چاہے وہ بلوچستان میں نئی حکومت کی تبدیلی کا پھر سے عندیہ دے دیں، سینٹ چیئر مین کی کرسی الٹ دیں، وفاق میں تحریک عدم اعتماد لے آئیں، پنجاب میں حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ بنا دیں۔ اگر حکم کریں تو پی ٹی آئی کے اندر سے بھی تبدیلی لائی جا سکتی ہے، پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی یا جہانگیر ترین گروپ کو ملک کی جزوقتی سربراہی سونپی جا سکتی ہے، نئے الیکشن پر بھی بات ہو سکتی ہے، فوج کی مداخلت بھی روکی جا سکتی ہے، بندے توڑنے والی سیاست سے بھی توبہ کی جا سکتی ہے، الیکشن والے دن دھاندلی سے بھی اجتناب کیا جا سکتا ہے، ”باپ“ اور ”جی ڈی اے“ جیسے اتحاد بنانے کا سلسلہ بھی بند کیا جا سکتا ہے، سیاست پر پابندی بھی ختم ہو سکتی ہے۔ عدالتیں بھی جلدی جلدی معاملات نمٹا سکتی ہیں، کل کے گناہ گار، غدار اور کافر پل بھر میں نیک نام، محب وطن اور دین دار ہو سکتے ہیں۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ آپ سوچتے ہوں گے کہ اس فوجی اسٹیبشلمنٹ کے دل میں اچانک میاں صاحب کا درد کہاں سے آ گیا؟ اس نے اچانک جمہوریت کا علم کیسے اٹھا لیا؟ اس نے اچانک ووٹ کو عزت دینے کی کیوں ٹھان لی، اس کو اچانک پارلیمان کی سپرمیسی کیسے یاد آ گئی، اس اسٹیبلشمنٹ کو اچانک عوام کی کیوں فکر پڑ گئی؟ تین سال پہلے یہی لوگ تھے، یہی ملک تھا لیکن یہاں وقت کا پہیہ الٹا چل رہا تھا، عزتیں اچھالی جا رہی تھیں، نفرت پھیلائی جا رہی تھی، آئین کی دھجیاں اڑائی جا رہی تھیں، قانون کو کھلونے کی طرح استعمال کیا جا رہا تھا، میڈیا کو وٹس ایپ کے احکامات کی باندی بنا دیا گیا تھا ؛ ایسے میں اچانک یہ کایا کیسے پلٹ گئی؟ بقول عمار مسعود، یہ سب کچھ اب بھی نہ ہوتا اگر معیشت کے حالات ایسے برے نہ ہوتے، اگر ڈالر کی پرواز ایک سو اسی تک نہ پہنچ چکی ہوتی، اگر پٹرول کی قیمت ایک سو پچاس لیٹر تک پہنچنے کا امکان نہ ہوتا، اگر چینی دو سو روپے تک جانے کا چانس نہ ہوتا، اگر بیروزگاری کی شرح عروج پر نہ جا پہنچتی، اگر غربت لوگوں کو خود کشی پر مجبور نہ کرتی، اگر معیشت اچھی ہوتی تو کسی کو جمہوریت، نواز شریف یا ووٹ کی عزت یاد نہ آتی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تو صرف معاشی تباہی کی ابتدا ہے، آنے والے دن اس سے بھی خوفناک ہیں۔ اگر پاکستان کو آئی ایم ایف کا پیکج نہیں ملتا تو اس ملک میں گاؤں کے گاؤں غربت سے اجتماعی خودکشی کریں گے، پٹرول ”ساشے“ میں ملا کرے گا اور چینی دانہ بہ دانہ فی درجن دستیاب ہو گی۔ جن کے پاس نوکریاں ہیں وہ بھی بے روزگار ہو جائیں گے، حکومت پاکستان کے پاس تنخواہیں دینے کے پیسے نہ ہوں گے، دفاعی اخراجات کے لیے ملنے والے قرضے بھی ختم ہو جائیں گے، یہ سب کچھ اگلے تین ماہ میں ہو سکتا ہے۔
لہذا ان حالات میں تبدیلی سرکار برسر اقتدار لانے والے بھائی لوگ جمہوریت کے حق میں نہیں ہو گئے بلکہ اپنی جان بچانے کی فکر میں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کسی طرح بھی کوئی اور حکومت آ جائے اور ان کی گردن کا پھندا کسی اور کے گلے میں فٹ آ جائے، لوگ انھیں برا بھلا کہنے کے بجائے کسی اور کو گالیاں دیں گویا اس طویلے کی بلا جس بندر کے سر ہے وہ قربانی کے لیے کسی اور بکرے کی تلاش میں ہے۔ بس اتنی سی بات ہے، اس کے علاوہ کوئی مسئلہ نہیں ہے انھیں اس نظام سے، نئے پاکستان سے۔ معیشت کے حالات اب ایسے ہو گئے ہیں کہ اب اس کو درست سمت پر لانے کے لیے کئی برس درکار ہیں، بدترین گورنس کی وجہ سے اب بھوک مہنگائی اور غربت کو ختم کرنے کے لیے چند سال تو لگیں گے، لوگ فوری ریلیف کی توقع کر رہے ہیں جو اب کسی کے اختیار میں نہیں رہا، اب حالات بہت خراب ہو گئے ہیں، اب دیکھنا ہے نواز شریف اس موقع پر اسٹیبلش منٹ کو ریسکیو کرتے ہیں کہ نہیں، ان کے گناہوں کو بوجھ اپنے سر لیتے ہیں کہ نہیں، اس معاملے پر دو مثالیں دینا کافی ہے :
1971 ء کے سانحے کے بعد لوگوں میں جنگ میں شکست کی وجہ سے بہت غم و غصہ تھا، لوگ ہتھیار ڈالنے والوں کو قومی مجرم سمجھتے تھے، لوگ پاکستان کو دولخت کرنے کا ذمہ دار اس وقت کے جرنیلوں کو قرار دیتے تھے، ایسے میں بھٹو نے بفرت کا شکار فوجی اسٹیبلشمنٹ کی عزت بحال کرنے کا فیصلہ کیا، اور ہتھیار ڈال دینے والے قیدیوں کا واپسہ پر پھولوں سے استقبال کیا، ان کا امیج بہتر کیا، ترانے بنوائے لیکن کیا ہوا؟
اسی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے صرف چھے سال بعد اپنے اسی محسن کو ایک جھوٹے کیس میں پھانسی پر چڑھا دیا۔ بقول عمار مسعود، کارگل کے ایشو پر بھی یہی ہوا، میاں صاحب نے قومی مفاد میں فوج کی عزت بچائی، ان کا اقبال بلند کیا، ان کے امیج کا خیال رکھا، ان کا مورال ڈاؤن نہیں ہونے دیا لیکن کیا ہوا؟ اسی نواز شریف کو چند ماہ بعد اقتدار سے الگ کر دیا گیا، قید میں ڈال دیا گیا، جلاوطن کر دیا گیا، اکیس سال تک سیاست میں شمولیت پر پابندی لگ گئی۔
اب بھی صورت حال وہی ہے معافی کے خواستگار بس اس بحران سے نکلنا چاہتے ہیں، ایک بار یہ نکل گئے تو پھر وہی ہو گا جو ہماری تاریخ کا تاریک حصہ ہے۔ اس بار عام معافی کے اعلان سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے گناہوں کا اعتراف اور آئین توڑنے والوں کو نشان عبرت بنانا ضروری ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو چند سال کے بعد وہی ہو گا جو ہوتا رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button