اپنے خالق کو دھمکیاں دینے والے عمران کا انجام کیا ہوگا؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی عمران خان نامی تخلیق نے احسان فراموشی کی انتہا کرتے ہوئے پہلے اپنے خالقوں کو جانور اور گیدڑ جیسے القابات سے نوازا اور اب انہیں مسٹر ایکس اور مسٹر وائی کے نام سے پکارتے ہوئے کھلی دھمکیاں دینے پر اتر آیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ خالق کیا کرتا ہے اور مخلوق کا کیا انجام ہوتا ہے؟
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ عمران نیازی کو سیاست میں اگرچہ گولڈ اسمتھ نے لانچ کیا لیکن پاکستان میں یہ بات کم ہی لوگوں کو معلوم ہے۔ پاکستانیوں کی نظر میں وہ کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والے کپتان، شوکت خانم ہسپتال بنانے والے فلاحی ورکر اور ایک سیدھا سادے انسان تھے تاہم جب انہیں اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر بٹھا کر اقتدار میں لایا گیا تو انہوں نے بدترین حکمرانی کی مثال قائم کی اور فرح گوگی، خاور مانیکا، عثمان بزدار، محمود خان، پرویز الٰہی، خسرو بختیار، شہزاد مرزا ، زلفی بخاری اور شہباز گل جیسے لوگوں کے ذریعے حکومت چلائی، اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے عمران آج پاپولر ہونے کے علاوہ آئین شکن، فارن فنڈڈ، چندہ چور بھی قرار دیے جانے چکے ہیں اور ذاتی، سیاسی اور مالی تنازعات کا شکار بھی ہیں۔
سلیم صافی یاد دلاتے ہیں کہ آج فوجی اسٹیبلشمنٹ کو للکارنے والا عمران خان ماضی میں 2002 کے انتخابات سے قبل جنرل پرویز مشرف کے بوٹ خوب پالش کیا کرتا تھا۔عمران ہر روز جمائما کو ساتھ لے کر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ملاقات کے لئے پہنچ جاتے تھے، خوشامد کی خاطر نہ صرف ان کے مارشل لا کو خوش آمدید کہا بلکہ ریفرنڈم میں ان کے لئے ووٹ بھی مانگے۔ تب بھی وہ مشرف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے یہی التجائیں کرتے تھے کہ انہیں چند درجن الیکٹ یبلز عنایت کئے جائیں تو وہ وزیر اعظم بن سکتے ہیں لیکن اس وقت اقتدار کا ہما مسلم لیگ(ق) کے سربٹھانے کا فیصلہ ہوا اور یہی وجہ ہے کہ وہ گجرات کے چوہدریوں کے نمبرون دشمن بن گئے۔ انہوں نے چوہدریوں کی نفرت میں وزارت عظمیٰ کے لئے اپنا ایک ووٹ بھی ظفراللہ جمالی کی بجائے مولانا فضل الرحمان کو دیا اور پھر نواز شریف کی لندن میں بلائی گئی اے پی سی میں شرکت بھی کی۔ جب پرویز مشرف صدر بن کر سیاسی آرمی چیف بن گئے تو عمران خان نیازی انکے خلاف بھی بولنے لگے۔ تاہم گولڈ سمتھ کی نصیحت اور اپنی بصیرت کے مطابق انہوں نے امریکی نیوکانز اور پاکستان کی ڈیپ اسٹیٹ کے ساتھ معاملات ٹھیک رکھے۔افغانستان اور ڈرون وغیرہ سے متعلق عمران خان ڈیپ اسٹیٹ ہی کی پالیسی پر چلتے رہے۔
سلیم صافی بتاتے ہیں کہ عمران کی قسمت تب جاگ اٹھی جب مسلم لیگ(ن) سے جھگڑے کے بعد آصف زرداری کے ساتھ بھی اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی ہوگئی۔ یوں 2010 سے عمران خان کو ایک تھرڈ فورس اور ایک نئے سیاسی مہرے کے طور پر کھڑا کرنے کا فیصلہ ہوا چنانچہ مسٹر ایکس اور مسٹر وائی ان کو مسیحا ثابت کرنے میں لگ گئے۔ ان کے حق میں مسٹر ایکس اور مسٹر وائی نے میڈیا چینلز اور اپنے زیر اثر اینکرز کو ڈیوٹیاں دیں۔ ان کے فرینڈلی انٹرویوز ہونے لگے۔
مسٹر ایکس اور مسٹر وائی نے ہی ان کی پارٹی میں شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، اسد عمر، شفقت محمود، اعظم سواتی اور اسی نوع کے لوگوں کو شامل کروایا حالانکہ 2002 میں شاہ محمود قریشی نے مسٹر ایکس اور مسٹر وائی کو یہ کہہ کر معذرت کی تھی کہ میرا قد عمران خان سے کئی گنا بڑا ہے۔ مسٹر ایکس اور مسٹر ایکس اور مسٹر وائی نے بڑی بڑی کاروباری شخصیات کو عمران خان کا اے ٹی ایم بنوایا۔ مسٹر ایکس اور مسٹر وائی نے 2013 کے انتخابات میں ہی ان کو وزیراعظم بنوانے کی ٹھان لی تھی لیکن الیکشن سے کچھ عرصہ قبل مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے مسٹر ایکس اور مسٹر وائی کے ذریعے کچھ ایسی یقین دہانیاں کروائیں کہ آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی نے فوج اور ایجنسیوں کو الیکشن کے عمل سے الگ کیا۔
صاافی کہتے ہیں کہ نواز شریف وزیر اعظم تو بن گئے لیکن مسٹر ایکس اور وائی نے ہی لندن پلان کے تحت ان کے ساتھ کینیڈین شہری طاہر القادری اور گجرات کے چوہدریوں کو ملا دیا۔ مسٹر ایکس اور وائی نے ہی ان سے 2014 کے دھرنے کروائے۔ یہ مسٹر ایکس اور وائی ہی تھے جنہوں نے تحفظ دے کر سول نافرمانی اور پی ٹی وی پر حملے جیسے جرائم کے باوجود انہیں تحفظ فراہم کیا۔ مسٹر ایکس اور وائی نے ہی ان کاراستہ ہموار کرنے کے لئے نیب کو استعمال کرکے عمران کے مخالفین کو ڈرایا دھمکایا اور انہیں بی آر ٹی، مالم جبہ اور سیتا وائٹ جیسے کیسز میں سزا سے بچایا۔ مسٹر ایکس اور وائی نے ہی ان کا راستہ صاف کرنے کے لئے نواز شریف کو نااہل کرنے کے بعد انکی بیٹی سمیت جیل میں ڈلوایا۔ مسٹر ایکس اور مسٹر وائی نے ہی ڈان لیکس جیسے بے بنیاد اسکینڈل بنائے۔ مسٹر ایکس اور وائی ہی عمران کے سیاسی اور صحافتی مخالفین کو نامعلوم نمبروں سے فون کرکے ڈراتے رہے۔
مسٹر ایکس اور وائی نے اس پر بھی بس نہیں کیا بلکہ انتخابات سے قبل چیف الیکشن کمشنر سردار رضا اور سیکرٹری بابر یعقوب کے ذریعے آر ٹی ایس کو فیل کرنے کا پروگرام بنایا اور جب الیکشن سے چند روز قبل اسی مسٹر ایکس اور وائی نے آر ٹی ایس سسٹم کے ذریعے انہیں جتوانے کے منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی تو وہ خوشی سے اچھلے اور اس کا کوڈ بھی زبانی یاد کیا۔ اسی مسٹر ایکس اور مسٹر وائی نے ان کے سوشل میڈیا ٹرولز کو شہہ اور ٹریننگ دی اور اپنے یوٹیوبرز بطور تحفہ انہیں عطیہ کیے۔ پھر جب مسٹر ایکس اور وائی نے سروے کے نتیجے میں اندازہ لگایا کہ عمران خان اس کے باوجود وزیراعظم نہیں بن سکتے تو پولنگ ایجنٹوں کو نکالنے کا منصوبہ بنایا گیا۔
اسی مسٹر ایکس اور مسٹر وائی نے پولنگ ایجنٹوں کو نکال کر خود عمران خان نیازی کے امیدواروں کے حق میں ٹھپے لگوائے جس کی وجہ سے علی زیدی اور قاسم سوری جیسے وہ لوگ بھی ایم این ایز بن گئے جو یونین کونسل کے ممبر بھی نہیں بن سکتے تھے۔ اسی مسٹر ایکس اور وائی نے کراچی میں ایم کیوایم اور پی یس پی کی سیٹیں پی ٹی آئی کو دلوادیں۔ ان بے چاروں نے اس دھاندلی کی فریاد بھی کی لیکن پھراسی مسٹر ایکس اورمسٹر وائی نے ایم کیو ایم کو جبراََ عمران خان کی حمایت پر بھی مجبور کیا، دھاندلی اور دھونس سے بننے والی اسی حکومت کے بارے میں اسی مسٹر ایکس اور وائی نے میڈیا کو دباکر مجبور کیا کہ وہ الیکشن میں ہونے والی دھاندلی اور الیکشن کمیشن کی واردات کا ذکر نہیں کرے گا۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ اسی مسٹر ایکس اور وائی نے زرداری کو اسمبلی میں بیٹھنے پر مجبور کرکے عمران خان کے سسٹم کو چلایا اور انہیں اعتماد کا ووٹ دلوایا۔ خود عمران خان کے بقول اسمبلی سے قانون سازی کے وقت بھی مسٹر ایکس اور مسٹر وائی لوگوں کو کالیں کرکے ان کا کام آسان بناتے رہے۔ جب یوسف رضا گیلانی سینیٹر بنے اور عملاً تیس کے قریب پی ٹی آئی کے ممبران باغی ہوگئے تو اسی مسٹر ایکس اور مسٹر وائی نے کچھ ایم این ایز کو کمروں میں، کچھ کو کنٹینروں اور کچھ کو واش رومز میں بند کیا اور صبح ڈنڈے کے زور پر ان سے عمران خان کے حق میں ووٹ ڈلوایا۔ لیکن افسوس کہ آج وہ عمران خان احسان فراموشی کی انتہا کرتے ہوئے اسی مسٹر ایکس اور مسٹر وائی کو دھمکیاں دے رہیں۔ دیکھتے ہیں کہ خالق کیا کرتا ہے اور مخلوق کا کیا انجام ہوتا ہے؟

Related Articles

Back to top button