گیلانی کیلئے سلیکٹڈ کا لفظ استعمال کرنا زیادتی ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی بنیاد انہوں نے رکھی اور وہ چاہیں گے کہ یہ اتحاد برقرار رہے اور مل کر کام کریں، ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف بنانا ہماری جماعت کا حق تھا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’اتحاد قائم رکھنے کا حامی ہوں لیکن ڈکٹیشن سے کام نہیں چلے گا۔‘ بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن کی جانب سے قائد حزب اختلاف کےلیے نامزد امیدوار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ ایک متنازع امیدوار تھے اور اس حوالے سے کسی نے مجھ سے یا میرے والد سے کوئی بات تک نہیں کی تھی۔ ہم کیسے اپنے سینیٹرز کو کہتے کہ یوسف رضا گیلانی کو چھوڑ کر ایک ایسے امیدوار کی حمایت کریں جو بے نظیر بھٹو قتل کیس میں ملوث افسران کا وکیل ہے؟۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کا قائد حزب اختلاف مقرر ہونے پر مسلم لیگ ن کے عہدیداروں کی جانب سے اس قسم کے ردعمل کی امید نہیں تھی۔ میں ن لیگ کے دوستوں کو مشورہ دوں گا پانی پی لیں، لمبے لمبے سانس لیں۔ انہوں نے مزید کہا سینیٹ کی تاریخ ہے کہ قائد حزب اختلاف کا تعلق اپوزیشن میں سب سے زیادہ سینیٹرز والی پارٹی سے ہی ہوتا ہے اور یہ اسی کا حق ہے۔ ہمارے سینیٹرز زیادہ ہیں تو یہ ہمارا حق تھا کہ چیئرمین سینیٹ اور اپوزیشن لیڈر کی نشست ہمیں ملے۔ آخر الیکشن میں ہم آمنے سامنے ہوں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پی ڈی ایم کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے مریم نواز کی بہت عزت کرتا ہوں اس لیے تنقید نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک سیلکٹد کی بات ہے وہ لفظ میں نے دیا ہے اس لیے میں بہتر جانتا ہوں کہ وہ کس پر استعمال ہو سکتا ہے اور کس پر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کو سینیٹر منتخب کروا کر حکومت کے خلاف اپوزیشن کی سب سے بڑی کامیابی تھی اور ہم سمجھتے ہیں کہ اکٹھے رہ کر ایوان کے اندر حکومت کو مزید ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور نوازشریف نے کبھی حزب اختلاف کے امیدوار کے حوالے سے بات نہیں کی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف جدوجہد کرنا چاہتے ہیں اور ایوان کے اندر رہ کر حکومت کو زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لانے کی طرف اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ بزدار حکومت کو اپوزیشن نے ٹف ٹائم نہیں دیا یہ سیاسی غفلت ہے۔ ہم جب پنجاب اسمبلی کے قائد حزب اختلاف اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سے تحریک عدم اعتماد کی بات کرتے ہیں تو ان کی جانب سے مثبت جواب ملتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چیئرمین سینیٹ کے انتخابات سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخابات سے متعلق اب پیپلزپارٹی کا وہی موقف ہے اور ہم عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پارلیمان کے فیصلہ کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہوسکتے لیکن چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کا معاملہ پارلیمان کی کارروائی نہیں ہوتی بلکہ ایوان کو پولنگ سٹیشن قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا پریزائیڈنگ افسرنے ایک غلط فیصلہ دیا ہے اور ہم اس کے خلاف اپیل کریں گے۔
خیال رہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی جو کہ عدالت نے ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا کہ چار اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کا بڑا اجتماع کرنے کے بجائے ضلعی سطح پر دعائیہ تقاریب ہوں گی۔ ’ہم نے راولپنڈی میں ذوالفقار علی بھٹو کی برسی منانے کا اعلان کیا تھا لیکن صوبہ پنجاب اور خصوصا راولپنڈی اور اسلام آباد میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث بڑے اجتماع کے بجائے ضلعی سطح پر منائیں گے۔
بلاول بھٹو زرداری نے پیٹرولیم کے معاملے وزیراعظم سمیت پوری کابینہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جب کہ اسٹیٹ بینک سے متعلق آرڈیننس کو ہر فورم پر چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اسٹیٹ بینک کے حوالے سے آرڈیننس فوراً واپس لے، یہ ادارہ صرف پاکستانیوں کو جواب دہ ہے نہ کہ آئی ایم ایف کو، یہ پیپلزپارٹی کے نظریات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو فوراً اس آرڈیننس کو واپس لے کر ختم کرنا چاہیے، ہم ہر فورم پر اس غیر قانونی آرڈیننس کو چینلج کریں گے کیوں کہ یہ پاکستان کی معاشی خود مختاری پرایک سنگین حملہ ہے، جس کا ہر پاکستانی پر اثر پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جس طریقے سے اس حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ اپنی معاشی پالیسی اور معاشی معاہدے کیے ہیں ہیں وہ عوام کے فائدے میں نہیں ہیں اور غلط طریقے سے معاہدے کیے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اس حکومت میں وہ اہلیت نہیں تھی کہ وہ اس ملک کی معاشی حوالے سے آئی ایم ایف کے پاس نمائندگی کرتی اور مذاکرات کرتی، ان کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ناکام اورنالائق فیصلوں کی وجہ سے آج ہر پاکستانی بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر پاکستانی کے جیب پر ڈاکا ہوا ہے، مہنگائی اور غربت کا جس طریقے سے عام آدمی آج مقابلہ کر رہا ہے وہ پاکستان تاریخ میں ایسے بدترین معاشی حالات کبھی نہیں رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ افسوس ناک اور تاریخی ناکامی ہے کہ پاکستان کی معاشی نمو منفی ہو، پاکستان کی شرح نمو بنگلہ دیش اور جنگ زدہ افغانستان سے بھی پیچھے ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا افراط زر بنگلہ دیش اور جنگ زدہ افغانستان سے زیادہ ہوتو یہ بوجھ پاکستان کا عام آدمی کیوں اٹھائے۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کو چھیننے کی تازہ سازش کا ہم مقابلہ کریں گے، اس حکومت نے مسلسل غلط پالیسیوں کی وجہ سے عوام کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں جب پیٹرول سستے داموں مل رہا تھا تو پاکستان میں پیٹرول کا بحران تھا، جس کا فائدہ کچھ کارٹیلز اور حکومت نے لیا، جن لوگوں نے یہ فیصلہ لیا تھا وہ صرف ایک معاون خصوصی یا انفرادی نہیں تھا بلکہ یہ کابینہ کا اجتماعی فیصلہ تھا۔ معاون خصوصی برائے پیٹرولیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ وزیراعظم عمران خان کا تھا اورکل انہوں نے یہ کوشش کی کہ ایک معاون خصوصی کو قربانی کا بکرا بنا کر اپنے آپ کو اس گناہ اور تاریخی ظلم بچانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں بچا سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جیسے ندیم بابر کو نکالاگیا ہے ایسے ہی ہر ایک وزیر اور وزیراعظم سمیت جو اس کابینہ میں بیٹھتا ہے، جنہوں نے کابینہ میں بیٹھ کریہ فیصلہ کیا تھا ان سب کو ہٹانا چاہیے اور سب کو مستعفی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی اسکینڈل تھا اور ہم نہیں مانیں گے کہ یہ ایک معاون خصوصی کی بس کی بات تھی، جب ہم پاکستان کے عوام کو پیٹرول کی قیمت کم کرکے فائدہ پہنچا سکتے تھے اس وقت بحران پیدا کرکے چند شخصیات کو فائدہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمان کے اندر اورپارلیمان کے باہر ٹف ٹائم دیتی رہے گی جیسے ہم حکومت کے شروع دن سے لے کر آج تک کرتے آئے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button