اکرم پہلوان سے جیتنے اور جھارا پہلوان سے ہارنے والا انوکی

پاکستانی پہلوان زبیر عرف جھارا کے ساتھ کشتی لڑنے والے معروف جاپانی ریسلر انتونیو انوکی کی موت پر نہ صرف جاپان میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے بلکہ پاکستانی عوام بھی افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ انوکی نے پاکستان کے دو مشہور زمانہ پہلوانوں سے مقابلہ کیا تھا۔ انوکی دل کے عارضے کے باعث 79 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں، انتونیو انوکی معروف عالمی باکسر محمد علی کے ساتھ ایک تاریخی مقابلہ کرنے کی وجہ سے بھی شہرت رکھتے تھے۔ جولائی 2020 میں انوکی نے بتایا تھا کہ وہ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں لہذا ان کے لیے دعا کی جائے۔ اس سے پہلے انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنا اسلامی نام محمد حسین انوکی رکھ دیا تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ 2012 میں پاکستان کا دورہ کرنے بھی آئے تھے۔

انوکی کو مکسڈ مارشل آرٹس کا بانی بھی قرار دیا جاتا ہے۔ انوکی نے 1976 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا اور نیشنل سٹیڈیم کراچی میں اکرم پہلوان سے کشتی کی تھی۔ دونوں کا کشتی مقابلہ دسمبر 1976 میں کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں منعقد ہوا تھا۔ شائقین کی بڑے پیمانے پر دلچسپی اور جوش و خروش کے باعث نہ صرف اسے پی ٹی وی پر براہ راست نشر کیا گیا بلکہ ریڈیو سے اس کی رننگ کمنٹری بھی کی جاتی رہی تھی۔ انوکی اُس وقت اپنے کیرئیر کے عروج پر تھے۔ اسی زمانے میں اُنکی ملاقات عظیم باکسر محمد علی سے ہوئی۔ انہوں نے مارشل آرٹس اور پہلوانی کے اصولوں کو ملا کر کشتی کے فن میں مہارت حاصل کرلی۔ یہ اکرم پہلوان کا چیلنج تھا، جس کے باعث انوکی مقابلہ کرنے کراچی پہنچے تھے۔ اُن دنوں انوکی جوان اور بالکل فٹ تھے۔ انہوں نے اکرم پہلوان سے مقابلہ کرنے کے لیے کوئی خاص تیاری نہیں کی۔ اگرچہ اکرم پہلوان نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ تین راؤنڈز میں انوکی کو چِت کردے گا مگر تقدیر کا فیصلہ کچھ اور ہی تھا۔ وہ بھی انوکی تھا۔ کشتی شروع ہوئی تو دونوں نے اپنا فن دکھانا شروع کیا اور پھر موقع پاتے ہی داؤ لگا کر انوکی نے اکرم کی گردن کو آرمز لاک لگادیا۔ یہ گرفت اتنی سخت اور داؤ اتنا درست تھا کہ اکرم پہلوان خود کو چھڑا نہ سکا اور انوکی جیت گیا۔ یہی نہیں، انوکی کے داؤ سے اکرم پہلوان کا کندھا بھی اتر گیا تھا۔ اکھاڑے کی اس مختصر لڑانی نے فیصلہ تو کردیا مگر شکست سے اکرم کے حامی بپھر گئے اور اکھاڑے میں کود پڑے۔

چند سال بعد انوکی نے اکرم پہلوان کے بھتیجے جھارا سے بھی کشتی لڑی جو 1979 میں ہوئی۔ لیکن انوکی جھارا پہلوان سے پانچویں راؤنڈ ہی میں مقابلہ ہار گئے۔ زبیر جھارا کے انتقال کے 24 برس بعد انتونیو انوکی نے 2014 میں زبیر جھارا کے بھتیجے کو اپنی سرپرستی میں لینے کا اعلان کیا تھا جو اب ایک پروفیشنل ریسلر بن چکا ہے۔

1976 ہی میں جب انتونیو انوکی نے باکسنگ لیجنڈ محمد علی کے ساتھ ایک مکسڈ مارشل آرٹس کا مقابلہ کیا تو ان کو عالمی سطح پر شہرت ملی اور اس کو صدی کا سب سے بڑا مقابلہ قرار دیا گیا، وہ 1998 میں ریسلنگ سے ریٹائرڈ ہو گئے تھے اور 2013 میں ایوان بالا کے رکن منتخب ہوئے۔ انتونیو انوکی کے انتقال کی خبر کے بعد سوشل میڈیا پر ان کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ ناصر بھولو کی جانب سے جاری کردہ ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ ایک عہد تمام ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انوکی کے شمالی کوریا کے حکمرانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔ اسکی بڑی وجہ انکا استاد ریکی ڈوزن تھا جسکا تعلق شمالی کوریا سے تھا۔ بطور رکن اسمبلی انتونیو انوکی نے پیانگ یانگ کے متعدد دورے کیے اور وہاں اعلٰی حکام سے ملاقاتیں بھی کیں۔

Related Articles

Back to top button