ایم کیو ایم پاکستان تنقید کی زد میں کیوں آ گئی؟


ہمیشہ سے حکومتی اتحادوں کا حصہ رہنے والی ایم کیو ایم پاکستان حال ہی میں اپنے تین گمشدہ کارکنوں کی لاشیں ملنے کے باوجود خاموشی اختیار کرنے پر تنقید کی زد میں آ گئی ہے، اور ناقدین کی جانب سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود ایم کیو ایم کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے؟ یاد رہے کہ ایم کیو ایم کے تینوں کارکنان عمران خان کے دور حکومت میں کراچی سے اغواء کیے گئے تھے اور تب ایم کیو ایم پاکستان کپتان کی اتحادی جماعت تھی۔ اب ان تینوں کارکنان کی مسخ شدہ لاشیں اندرون سندھ سے ملی ہیں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے اغوا شدہ کارکنان کا قتل حکومت گرانے کی سازش کا حصہ بھی ہو سکتا ہے تاکہ مہاجر پارٹی کو حکومتی اتحاد سے نکلنے کا جواز فراہم کیا جائے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی سندھ کے عمرانڈو صدر اور سابق وفاقی وزیر علی زیدی نے ایم کیو ایم پاکستان پر اپنے کارکنوں سے ہونے والی زیادتیوں کیخلاف آواز بلند نہ کرنے پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ زیدی نے اس بات پر بھی سوال اٹھائے کہ مارچ 2022 میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ طے کردہ ‘چارٹر آف رائٹس’ میں جن مطالبات پر اتفاق کیا گیا تھا ان میں سے کسی پر بھی گزشتہ 5 ماہ کے دوران عملدرآمد نہیں ہوا۔ علی زیدی نے الزام لگایا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے اپنے ’مفادات اور مراعات‘ کے لیے پارٹی کے نظریے اور طاقت کا سودا کیا ہے، پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ اپنے پارٹی آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے حکومت میں رہنے کے طریقہ کار پر حیرت کا اظہار کیا، اس حقیقت کے باوجود کہ پارٹی کارکنان اور ایم کیو ایم کے کئی سینئر رہنما اس فیصلے کے خلاف تھے۔

علی زیدی کا کہنا تھا کہ مارچ میں پی ٹی آئی کی حکومت اس بنیاد پر چھوڑی تھی کہ جن شرائط پر وہ ہمارے ساتھ شامل ہوئے تھے وہ پوری نہیں ہوئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اس نظریہ کو مان لیتے ہیں تو پھر یہ پارٹی اب تک اقتدار میں کیوں ہے؟ انکا دعویٰ تھا کہ عمران دور حکومت کے دوران ایم کیو ایم کا کوئی کارکن لاپتا نہیں ہوا اور نہ ہی لاپتا کارکنان میں سے کوئی مردہ پایا گیا جبکہ نئے اتحاد کے چند ماہ کے اندر ایم کیو ایم اپنے لاپتا کارکنوں کو دفنا رہے ہیں۔ لیکن زیدی کا یہ دعویٰ حقائق کے منافی اسلئے ہے کہ جن تین کارکنان کی لاشیں ملی ہیں وہ تینوں عمران کے دور حکومت میں اغوا کیے گئے تھے۔

چار برس تک ایم کیو ایم کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھانے والے علی زیدی نے الزام لگایا کہ اپنے کارکنان کے قتل پر پارٹی قیادت کی جانب سے اپنائی گئی خاموشی کی وجہ یہ ہے کہ مہاجر رہنما لطف کی زندگیاں بسر کر رہے ہیں اور انہیں کارکنوں کی کوئی پرواہ نہیں، علی زیدی کے مطابق ایم کیو ایم نے اس ‘امپورٹڈ’ حکومت سے کہا تھا کہ وہ انہیں ان کا نائن زیرو ہیڈکوارٹرز واپس کردے لیکن کچھ روز قبل اسے جلا دیا گیا اور اب خورشید بیگم میموریل ہال بھی منہدم ہونے والا ہے۔

علی زیدی نے عمران خان حکومت کا ساتھ چھوڑ کر اسے گرانے کی وجہ بننے والی ایم کیو ایم قیادت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ مہاجر رہنما کیسے اپنے کارکنوں کا سامنا کرتے ہیں، میں سوچتا ہوگاں کہ انہیں کوئی شرم محسوس ہوتی ہے یا نہیں؟ تاہم دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ علی زیدی اپنا منہ اور زبان سنبھال کر بولنے کا طریقہ سیکھیں ورنہ ایسا منہ توڑنے اور زبان کاٹنے میں دیر نہیں لگتی۔

Related Articles

Back to top button