بالآخر پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ ہوگیا


باخبر حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جرمنی میں ایف اے ٹی ایف کے جاری اجلاس کے اختتام پر بالآخر پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ ہو گیا ہے جس کا باقاعدہ اعلان بھی جلد کردیا جائے گا۔ اسلام آباد میں سفارتی ذرائع کا بھی کہنا ہے کہ عمران خان کے اقتدار سے رخصت ہو جانے کے بعد اٹلی، جرمنی اور امریکہ کی پاکستان بارے پالیسی میں مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں جس کے باعث اب پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے سے وائٹ لسٹ میں چلا جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف دنیا میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت پر نظر رکھنے والا بین الاقوامی ادارہ ہے جسکے 206 مندوبین اور مبصرین جرمنی کے شہر برلن میں جاری چار روزہ (14 تا 17 جون) اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، اقوام متحدہ، عالمی بینک، اور ایگمونٹ گروپ آف فنانشل انٹیلی جنس یونٹس کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کا نام جون 2018 میں فیٹف کی وائٹ لسٹ سے نکال کر گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔

دفتر خارجہ کے ایک بیان میں بتایا گیا کہ وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے ایف اے ٹی ایف اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی جس میں پاکستان کی جانب سے فیٹف کے 2018 اور 2021 کے ایکشن پلانز پر پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حنا ربانی کھر پاکستان کی قومی ایف اے ٹی ایف رابطہ کمیٹی کی چیئرپرسن بھی ہیں، انہوں نے ایف اے ٹی ایف کے عہدے داروں سے ملاقاتوں میں انہیں اینٹی منی لانڈرنگ اینڈ کاؤنٹر فنائسنگ آف ٹیررازم سے جڑے ہوئے معاملات پر پاکستان کی شاندار پیش رفت اور حکومتی عزم سے آگاہ کیا جسکے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ ہوا۔

پاکستان میں منی لانڈرنگ اور متعلقہ معاملات پر نظر رکھنے والے ادارے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے ایک عہدے دار کا کہنا تھا کہ اسلام آباد نے فیٹف کی جانب سے دیے گئے چالیس اہداف تقریبا ًپورے کر لیے ہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے کہا کہ اب کوئی وجہ نہیں تھی کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل رکھا جاتا۔انہوں نے کہا کہ فیٹف کے اجلاس کے دوران پاکستانی وفد وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر کی سربراہی میں اسلام آباد کی جانب سے ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی۔

بتایا گیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کے دوران جرمنی کے علاوہ اٹلی نے بھی پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی حمایت کی۔ یاد رہے کہ اٹلی اس وقت ایف اے ٹی ایف کا چیئرپرسن، جبکہ جرمنی جاری فیٹف اجلاس کی صدارت اور میزبانی کر رہا ہے اور اس لحاظ سے دونوں ملکوں کی اہمیت کافی زیادہ تھی۔ اٹلی پاکستان کو پہلے ہی ایف اے ٹی ایف کے سلسلے میں اکٹھے کام کرنے کی پیشکش کر چکا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ عرصہ قبل ہی اٹلی کے اہم سرکاری عہدے داروں نے پاکستانی دفتر خارجہ میں اہم ملاقاتیں کی تھیں، جس سے روم کی پاکستان سے متعلق سوچ میں تبدیلی ثابت ہوتی ہے۔

دوسری طرف جرمنی کے بھی اسلام آباد سے متعلق موقف میں تبدیلی دیکھنے میں آئی۔

یاد رہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے گذشتہ مہینے فوڈ سکیورٹی سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس کے موقع پر امریکی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے اعلامیے میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، تعلیم اور دوسرے شعبوں کا ذکر کیاتھا۔ پاکستان امریکہ تعلقات میں یہ ایک اہم پیش رفت ہے جو واشنگٹن میں اسلام آباد سے متعلق کئی سالوں سے موجود سرد مہری میں کمی کا عندیہ دیتی ہے۔یاد رہے کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی ڈیووس کے دورے کے دوران امریکی آن لائن ادائیگیوں کی کمپنی پے پال کے عہدےداروں سے ملاقاتیں ہوئیں اور انہوں نے پاکستان میں اپنی سروس شروع کرنے کی حامی بھر لی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بین الاقوامی ادارے پے پال نے بھی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی حوصلہ شکنی کے سلسلے میں پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے مطابق پاکستان نے دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسی سال اپریل میں لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے ذریعے لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کو دہشت گردی کے الزام میں قید کی سزا دلوائی تھی جس نے پاکستان کے لیے آسانیاں پید کیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حسب سابق بھارت نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کی مخالفت کی لیکن کامیاب نہیں ہو پایا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے عہدے دار کے مطابق پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ ہو جانے کے باوجود عملی طور پر یہ کام سال رواں کی آخری سہ ماہی میں مکمل ہوگا۔ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی سربراہ لبنیٰ فاروق کا بھی یہی کہنا ہے کہ عملی طور پر پاکستان کا نام فیٹف کی گرے لسٹ سے اکتوبر میں نکالا جائے گا۔ اس سے پہلے جولائی میں ایف اے ٹی ایف کا ایک وفد پاکستان کا دورہ کرے گا اور منی لانڈرنگ کے خلاف حکومتی و ریاستی اقدامات کا عملی مظاہرہ دیکھے گا۔ اس وفد کی رپورٹ کے بعد عملی طور پر پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف ایک عالمی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کا نگران ادارہ ہے، اور ایسی سرگرمیوں کو روکنے کی خاطر بین الاقوامی معیارات مرتب کرتا ہے، جبکہ بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے معیارات کو اپ ڈیٹ بھی کرتا رہتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف دنیا کے ملکوں کی نگرانی کرتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کو مکمل اور مؤثر طریقے سے لاگو کریں اور تعمیل نہ کرنے والے ملکوں کے خلاف ایکشن لیا جاتا ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو جون 2018 سے گرے لسٹ میں رکھا ہوا تھا، جس سے مراد ہے کہ بین الاقوامی ادارےنے پاکستان کو اضافی نگرانی کے تحت رکھا تھا۔پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی خاطر کئی اہداف دیے گئے جن کی تکمیل کی ناکامی کے باعث 21 اکتوبر 2021 کو اس کا نام گرے لسٹ میں برقرار رکھا گیا تھا۔

Related Articles

Back to top button