بشریٰ بی بی کی آڈیو کس کے موبائل فون سے لیک ہوئی؟


حال ہی میں سابقہ خاتون اول بشریٰ بی بی کی جو ٹیلی فون آڈیو لیک ہوئی تھی وہ کسی خفیہ ایجنسی نے ریکارڈ نہیں کی تھی بلکہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ونگ کے سربراہ ارسلان خالد کے موبائل سے حاصل ہوئی تھی۔ یاد رہے کہ 9 اپریل کو عمران خان کی وزارت عظمی سے برطرفی کے فورا بعد خفیہ ایجنسیوں نے ارسلان خالد کو حراست میں لے کر پی ٹی آئی کی اسٹیبلشمنٹ مخالف مہم کے حوالے سے تفتیش کی تھی لیکن پھر چند گھنٹوں بعد اسے رہا کر دیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس دوران ارسلان خالد کے موبائل سے ڈیٹا کاپی کیا گیا تھا جس میں سابقہ خاتون اول بشری بی بی کی آڈیو ریکارڈنگز بھی شامل تھیں۔ اس آڈیو میں بشریٰ بی بی ارسلان خالد کو عمران خان کے تمام سیاسی مخالفین اور اداروں کے خلاف غداری کا ٹرینڈ چلانے کے احکامات صادر کر رہی ہیں۔ یاد رہے کہ عمران حکومت کے خاتمے کے بعد سے پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ونگ نے فوج اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے خلاف سوشل میڈیا پر غداری کا ٹرینڈ چلا رکھا ہے۔

بشری بی بی کی لیکڈ آڈیو ریکارڈنگ کے حوالے سے سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی ایک تازہ تحریر میں کہتے ہیں کہ کئی سال پہلے مجھ سے اُس وقت کے آئی ایس آئی کے اسلام آباد کے سیکٹر کمانڈر نے رابطہ کیا اور کہا کہ مجھ سے ڈی جی آئی ایس آئی ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا، بالکل ضرور ملیں لیکن یہ ملاقات یا تو میرے گھر میں ہوسکتی ہے یا کسی عوامی مقام یعنی ہوٹل وغیرہ میں۔ تھوڑی دیر کے بعد مجھے بتایا گیا کہ ڈی جی صاحب میرے گھر تشریف لائیں گے۔ ایسا ہی ہوا لیکن جیسے ہی ڈی جی آئی ایس آئی ہمارے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے، سب سے پہلے اُنہوں نے اپنا موبائل فون ایک صوفے کی گدی کے نیچے دبا کر رکھ دیا اور مجھ کچھ فاصلے پر دوسرے صوفے پر بیٹھ گئے۔ یعنی ڈی جی آئی ایس آئی کا اپنا فون بھی ٹریک ہورہا تھا اور صوفے کی گدی کے نیچے رکھنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم جو بات کریں وہ ایجنسیاں ریکارڈ نہ کرسکیں۔

بقول انصار عباسی، جب جنرل مشرف نے مارشل لاء لگایا تو اُنہوں نے اپنے پرانے دوست اور انکم ٹیکس کے اُس وقت کے اعلیٰ افسر طارق عزیز کو اپنا پرنسپل سیکریٹری تعینات کیا۔ ایک بار طارق عزیز نے مجھے بتایا کہ مارشل لگانے کے چند روز کے اندر ہی جنرل مشرف اُن کے گھر ملاقات کے لئے آئے لیکن اُن کے گھر کے ڈرائنگ روم میں بات کرنے کی بجائے طارق عزیر کو گھر کے لان میں لے گئے اور وہاں بات کی اور یہ وضاحت کی کہ ایسا اس لئے کر رہے ہیں تاکہ اُن کی بات چیت ایجنسیاں ریکارڈ نہ کر سکیں۔ ان واقعات کا تذکرہ کرنے کا مقصد یہ بتاناہے کہ ایجنسیاں حکومت اور ریاست کے ہر اہم ذمہ دار کے فون ریکارڈ کرتی ہیں، اُن پر نظر رکھتی ہیں اس سلسلے میں آرمی چیف ہوں یا ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی بی سب کے فون کی ریکارڈنگ کی جاتی ہے، کون کس سے ملتا ہے، کس سے بات کرتا ہے؟ یہ معلوم کرنا ایجنسیوں کے لئے ایک معمول ہے۔

انصار عباسی کہتے ہیں کہ عمران خان جب وزیراعظم تھے تو اُن سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کے ٹیلی فون کالز ایجنسیاں ریکارڈ کرتی ہیں جس پر اُنہوں نے کہا، جی بالکل، آئی ایس آئی اور آئی بی ایسا کرتی ہیں۔ پھر اُنہوں نے اس پر ایک لمبی وضاحت دی کہ ایجنسیوں کے لئے ایسا کرنا کیوں ضروری ہے۔ خان صاحب نے اس پر امریکہ کی بھی مثال دی اور بتایا کہ دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ حال ہی میں جب بشریٰ بی بی کی تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کے سربراہ ارسلان خالد سے گفتگو کی آڈیو سامنے آئی اور پھر میں نے عمران خان اور اُن کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کی ایک اور مبینہ آڈیو کا ذکر کیا تو اس پر پی ٹی آئی سٹپٹا گئی اور یہ سوال اُٹھا دیا کہ ایجنسیاں کس قانون کے تحت وزیراعظم کے فون ریکارڈ کرتی ہیں؟ ٹی وی چینلز کا بھلا ہو جنہوں نے تحریکِ انصاف کو عمران خان کا پرانا انٹرویو چلا کر یاد دلایا کہ ایسا اگر ایجنسیاں کر رہی تھیں تو خان صاحب کی مرضی کے مطابق ہی کر رہی تھیں بلکہ وہ ایجنسیوں کے اس کردار کو ضروری سمجھتے تھے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ ایجنسیوں کے اس کردار کا مقصد نیشنل سیکورٹی کا تحفظ کرنا ہے نہ کہ کسی کو بلیک میل کرنا۔

انصار عباسی بتاتے ہیں کہ جہاں تک بشریٰ بی بی کی مبینہ آڈیو کا ذکر ہے، تو اُس کے متعلق مجھے ذرائع نے آگاہ کیا ہے کہ وہ آڈیو ریکارڈنگ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ونگ کے سربراہ ارسلان خالد کے ہی ایک گیجٹ سے حاصل کی گئی تھی۔

Related Articles

Back to top button