بے نظیر نے شہادت سے پہلے کسے اپنا ممکنہ قاتل نامزد کیا تھا؟


محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے مقدمہ قتل میں اشتہاری قرار پانے والے جنرل پرویز مشرف کو بی بی نے اپنی زندگی میں ہی اپنا ممکنہ قاتل قرار دے دیا تھا لیکن پاکستان کے متفقہ آئین کو اپنے بوٹوں تلے روندنے والا فوجی آمر سزائے موت کا مجرم قرار دئیے جانے کے باوجود آزاد ہے۔ 31 اگست 2017کو 10 برس مقدمہ چلنے کے بعد راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے محترمہ کے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پانچوں شدت پسند سہولت کاروں کو بری کردیا اور دو پولیس افسران کومشرف انتظامیہ کے ایماء پر بینظیر بھٹو کا سیکیورٹی حصار توڑنے کے الزام میں 17،17 برس قید سنا دی لیکن افسوس کہ قتل کا مرکزی ملزم جنرل پرویز مشرف صاف بچ گیا اور صرف اشتہاری قرار پایا۔ مشرف کو مقدمے کا فیصلہ ہونے سے 18 ماہ پہلے فروری 2016 میں اسٹیبلشمنٹ نے ملک سے فرار کروا دیا تھا۔
یاد رہے کہ بینظیر بھٹو کے مقدمہ قتل میں صرف اشتہاری قرار پانے والے جنرل مشرف کو بینظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں ہی اپنا ممکنہ قاتل قرار دے دیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ بینظیر بھٹو کی روح آج بھی گڑھی خدا بخش میں شہیدوں کے قبرستان سے پکار پکار کر اپنے قاتل کا نام لے رہی ہے۔
اپنی شہادت سے صرف چوالیس روز پہلے بینظیر شہید نے لاہور میں ایک انٹرویو کے دوران سینئر صحافی عامر میر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا”You can name Musharraf as my assassin if I am killed…”
عامر میر نے محترمہ کے یہ الفاظ اپنی کتاب The Bhutto Murder Trail (دا بھٹو مرڈر ٹریل ) میں نقل کئے ہیں۔ یہ الفاظ بینظیر بھٹو نے 18 اکتوبر 2007 کو اپنی وطن واپسی اور پھر اسی رات ایک خون آشام خودکش حملے میں بال بال بچ جانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ادا کئے۔ انٹرویو کے دوران محترمہ بینظیر بھٹو نے عامر میر کو بتایا کہ ان کی اطلاع کے مطابق 18 اکتوبر کو کراچی میں ان پر ہونے والا حملہ مشرف کے ایما پر کیا گیا۔ محترمہ نے بتایا کہ ان کی وطن واپسی سے دو ہفتے قبل انہیں جنر ل مشرف کی طرف سے یہ پیغام ملا کہ ”ملک میں امن و امان کی صورتحال مخدوش ہے اور لال مسجد آپریشن کے حوالے سے جہادیوں اور انتہا پسندوں کے خلاف بیانات کی وجہ سے وہ ان کی جان کے درپے ہیں اس لئے وہ الیکشن سے پہلے ملک واپس نہ آئیں۔ محترمہ کا کہنا تھا کہ جب میں نے جواباً واضح کیا کہ میں ہر صورت میں وطن واپس آرہی ہوں تو مجھے پھر وارننگ دی گئی کہ کچھ جہادی گروہ مجھے مارنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ محترمہ نے کہا، ”میں نے جواباً مشرف کو پیغام بھیجا ہے کہ اگر انٹیلی جنس اداروں کو جہادیوں کے میرے خلاف منصوبہ بنانے کی اطلاع مل سکتی ہے تو ایجنسیاں ان کو گرفتار کیوں نہیں کرتیں؟“محترمہ کو اس سوال کا کوئی حکومتی جواب موصول نہیں ہوا۔ محترمہ کے مطابق انہیں لندن ہی میں اکتوبر2007 کے دوسرے ہفتے میں اپنے ذرائع سے یہ اطلاع مل گئی تھی کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے قتل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور ذمہ داری جہادیوں پر عائد کئے جانے کا امکان ہے جن کی ڈوریاں مشرف کے حواری ہلا رہے ہیں اور پھر ان کی کراچی آمد پر وہی ہوا جس کا بی بی کو خدشہ تھا۔
عامر میر کے مطابق جب محترمہ سے یہ پوچھا گیا کہ ان کی مشرف سے ایسی کیا دشمنی ہے کہ وہ ان کی جان کے درپے ہے تو بینظیر بھٹو نے کہا ”میرا یہ جر م کیا کم ہے کہ میں نے جنرل مشرف کو وردی اتارنے پر مجبور کردیا ہے جسے وہ اپنی Second skin قراردیتے تھے۔ “محترمہ نے کہا مشرف جانتا ہے کہ عوامی طاقت بینظیر کے پاس ہے اسی لئے وہ مجھ سے خائف ہے اور ہر صورت مجھے اپنے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے۔ “عامر میر کے مطابق انہوں نے بی بی سے اگلا سوال کیا، ”محترمہ اگر آپ اس بات پر Convincedہیں اور یہ بھی جانتی ہیں کہ 18 اکتوبر کے حملے میں بھی مشرف کا ہی ہاتھ تھا تو پھرآپ نے اپنے تحفظ کےلئے کیا قدم اٹھایا ہے؟ کیا آپ یہ بات ریکارڈ پر نہیں لائیں گی؟ “بی بی نے کہا” میں اپنے خدشات ریکارڈ پر لاچکی ہوں اور اپنے ممکنہ قاتل کا نام بھی “میں نے پوچھا ” وہ کون شخص ہے اور کس کو بتایا ہے آپ نے؟ “بی بی بولیں، ”یہ وقت آنے پر پتا چل جائے گا لیکن “As I told you earlier, you can name Musharraf as my assassin in case of my murder.”
افسوس اور دکھ کا مقام ہے کہ اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم راولپنڈی کی سڑکوں پر دن دیہاڑے شہید کردی گئیں۔ ان کے قتل کا مقدمہ دس سال چلا لیکن کیس کے مرکزی ملزم کو طاقتور ہونے کی وجہ سے نہ تو عدالت میں لایا جاسکا اور نہ ہی سزا سنائی جاسکی۔ محترمہ کے مقدمہ قتل کا فیصلہ تو سنادیا لیکن ان کی قبر سے آتی ہوئی وہ صدا کوئی نہ سن سکا جس میں وہ اپنے قاتل کا نام پکار پکار کر لے رہی ہیں۔

Related Articles

Back to top button