تانیہ اور ظفر مرزا نے استعفی دیا نہیں بلکہ استعفی لیا گیا


ایک گھنٹے میں وزیر اعظم عمران خان کے دو معاونین خصوصی تانیہ ایدروس اور ڈاکٹر ظفر مرزا کے استعفوں نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ تانیہ ایدروس اور ڈاکٹر ظفر مرزا نے ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں مستعفی ہونے کا اعلان کیا تاہم اندر کی اطلاع یہ کہ ان دونوں معاونین نے رضاکارانہ استعفیٰ نہیں دیا بلکہ کرپشن الزامات کی تحقیق کے لیے بنائی گئی حکومتی کمیٹی کو مطمئن کرنے میں ناکامی کے بعد ان سے استعفیٰ لیا گیا ہے۔
حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تانیہ ایدروس نے عہدے سے استعفیٰ دیا نہیں بلکہ ان سے استعفیٰ لیا گیا ہے۔ تانیہ کے خلاف سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں ان کی اپنی کمپنی کی رجسٹریشن ہونے سے مفادات کے ٹکراؤ کے اعتراضات سامنے آئے تھے اور یہ الزام عائد ہوا تھا کہ اس حوالے سے انہوں حکام کو آگاہ نہیں کیا تھا۔ تاہم یہ بات سامنے آنے پر وہ اس حوالے سے وزیر اعظم اور انکوائتی کمیٹی کو مطمئن کرنے میں ناکام رہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تانیہ پر ڈیجیٹل پا کستان فاونڈیشن کے فنڈز کے استعمال میں ہیرا پھیری کی بھی شکایات تھیں جس پروزیراعظم نے انکوائری کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی۔ تشبیہ کے ہاتھوں ڈیجیٹل پاکستان فاونڈیشن میں یو ایس ایف فنڈز کے استعمال پر بھی مبینہ طور پر بےضابطگیاں سامنے آئیں تھی۔ تانیہ ان اعتراضات اور شکایات پر سوال جواب کے دوران کمیٹی کو مطمئن نہ کرسکی تھیں جس پر ان سے فوری مستعفی ہونے کا کہا گیا اور انھوں نے استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ تانیہ ایدروس کو جہانگیر ترین کی سفارش پر وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ کا حصہ بنایا تھا اور ان کو وسیع تر اختیارات دیے گئے تھے جن سے تنگ آ کر ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر آئی ٹی خالد مقبول صدیقی نے استعفی دے دیا تھا۔
دوسری طرف معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدورس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے اپنے ٹوئٹ میں مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میری دہری شہریت پرسوال اٹھائے جا رہے تھے اس لئے میں نے عوامی مفاد میں استعفیٰ دیا ہے کیونکہ مجھ پر ہونے والی تنقید سے پاکستان کا ڈیجیٹل ویژن متاثر ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی بہترین صلاحیت کے ساتھ اپنے ملک اور وزیر اعظم کے وژن کی خدمت جاری رکھوں گی۔
یاد رہے کہ تانیہ ایدروس 20 سال پہلے پاکستان سے بیرون ملک چلی گئی تھیں اور انہوں نے پہلے امریکا کی برانڈیز یونیورسٹی سے بائیولوجی اور اکنامکس میں بی ایس کی ڈگری لی اور پھر میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی سے ایم بی اے کیا۔بعد ازاں انہوں نے ایک اسٹارٹ اپ کلک ڈائیگنوسٹک کی بنیاد رکھی اور اس کی ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا تھا۔بعد ازاں گوگل کی جنوبی ایشیا کی کنٹری منیجر کے طور پر 2008 سے 2016 تک کام کیا اور پھر انہیں گوگل کے پراڈکٹ، پیمنٹ فار نیکسٹ بلین یوزر پروگرام کی ڈائریکٹر بنادیا گیا اور دسمبر 2019 میں انہیں ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ کابینہ ڈویژن کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کے 4 معاونین خصوصی کی دہری شہریت سامنے آنے کے بعد اپوزیشن کی طرف سے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دہری شہریت کے حامل افراد کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا اور اب دہری شہریت کی حامل پہلی معاون خصوصی تانیہ ایدروس نے استعفیٰ دے دیا ہے۔
تانیہ ایدورس کے مستعفی ہونے کے کچھ دیر بعد معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا سے بھی استعفیٰ لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹرظفر مرزا پرالزام ہے کہ وہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ بارے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کو مطمئن نہیں کر سکے تھے۔ انکوائری کمیٹی کی طرف سے پوچھے جانے والے سوالات پر مطمئن کرنے میں ناکامی پر وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ ان پر 124 ملین روپے کی کرپشن کے الزامات بھی ہیں۔ جس کی انکوائری چل رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ظفر مرزا نے بھارت سے خلاف ضابطہ ادویات درآمد کرنے میں کردار ادا کیا، وزیراعظم کے حکم پر انکوائری کے دوران ظفر مرزا اور ایک مشیر کا نام آیا، اس کے علاوہ ظفر مرزا اسلام آباد کےاسپتالوں اور میڈیکل اداروں کےسربراہ تعینات کرنے میں بھی ناکام رہے۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم ادویہ سازکمپنیوں کا ازخود قیمت بڑھانےکا اختیارختم کرنا چاہتے تھے لیکن ظفر مرزا نے ادویہ ساز کمپنیوں کا اختیار واپس لینےکی سمری واپس لے لی تھی، جس کے بعد وزیراعظم کےحکم پر کمپنیوں کا اختیار واپس لینےکی سمری دوبارہ منگوائی گئی۔
ذرائع کے مطابق ظفر مرزانےکابینہ اجلاس میں بھی ادویہ سازکمپنیوں کااختیارواپس لینےکی سمری کی مخالفت کی،وزیراعظم ادویات اسکینڈل کےبعد ظفرمرزا کوپہلے ہی ہٹاناچاہتے تھے لیکن کرونا وائرس کےباعث ایسا نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے 9 اگست 2019ء کو بھارت سے درآمدات پر پابندی لگائی تھی اور وفاقی کابینہ کے بجائے وزیراعظم آفس سے 25 اگست کوفیصلے میں ترمیم کرائی گئی جبکہ سپریم کورٹ فیصلے کی روشنی میں وزیراعظم آفس منظوری دینے کامجاز نہیں۔ دستاویز کے مطابق مشیر تجارت رزاق داؤد اورمعاون خصوصی ڈاکٹر ظفرمرزا نے میٹنگ کی اور وزارت تجارت نے 24 اگست کو کابینہ ڈویژن کو فیصلے میں ترمیم کے لیے خط لکھا۔
دوسری طرف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں ڈاکٹر ظفر مرزا نے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں وزیراعظم کی خصوصی دعوت پر عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او چھوڑ کر پاکستان آیا تھا، میں نے محنت اور ایمانداری سے کام کیا۔ ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خدمت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، میں مطمئن ہوں کہ ایسے وقت میں عہدہ چھوڑ رہا ہوں جب قومی کوششوں سے پاکستان میں کرونا وائرس میں کمی آچکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاونین خصوصی کے کردار سے متعلق منفی بات چیت اور حکومت پر تنقید کے باعث استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ بعدازاں کابینہ ڈویژن نے وزیراعظم کی جانب سے دونوں معاونین خصوصی کے استعفے منظور کرنے کے علیحدہ علیحدہ نوٹیفکیشن کردیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button