ترین کی زیر قیادت عوامی تحریک انصاف کے قیام کا امکان


اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں خبر گرم ہے کہ پاکستانی سیاسی منظرنامے پر جلد عوامی تحریک انصاف کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت ظہور پذیر ہونے والی ہے جس میں شامل ہونے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق تحریک انصاف سے ہو گا۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ سیاسی جماعت 2023 کےعام انتخابات میں بھرپورحصہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ نئی سیاسی جماعت میں ممکنہ طور پرجو سیاستدان شامل ہوں گے ان میں زیادہ ترعمران خان کے سابقہ اورموجودہ قریبی ساتھی ہوں گے۔ ان سیاستدانوں میں جہانگیر خان ترین، چوہدری سرور، علیم خان، مخدوم خسرو بختیار، اسحاق خاکوانی اور عون چوہدری وغیرہ نمایاں ہوں گے۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کے باغی اراکین بشمول راجہ ریاض، نور عالم خان، فرخ الطاف اور دیگر ممبران قومی اسمبلی بھی عوامی تحریک انصاف کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز کو ووٹ دے کر پنجاب اسمبلی کی نشستوں سے محروم ہونے والے تحریک انصاف کے 25 اراکین پنجاب اسمبلی بھی اس جماعت کا حصہ ہوں گے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے کئی اہم سیاست دان بھی اس جماعت کا حصہ بن جائیں گے۔ ایسے میں عوامی تحریک انصاف ایک نئی کنگز پارٹی کا درجہ بھی حاصل کر سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق نئی سیاسی جماعت کے منشور کی تیاری آخری مراحل میں ہے جبکہ جہانگیر ترین اس سیاسی جماعت کہ ممکنہ قائد ہوں گے جنہوں نے ماضی میں عمران خان کی حکومت بنوانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ نئی جماعت کا نام کثرت رائے سے “عوامی تحریکِ انصاف ” تجویز کیا جا چُکا ہے۔ پارٹی کا پرچم تین رنگ کا ہو گا جس میں سُرخ، سفید اور سبز رنگ شامل ہیں۔ نئی جماعت کے لیے انتخابی نشان ابھی زیرِ غور ہے اور اس سلسلے میں مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی جماعت کے قیام کی ایک وجہ فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف پر ممکنہ پابندی بھی ہے۔ اس کے علاوہ اگر پارلیمنٹ تاحیات نااہلی ختم کروانے کے لیے قانون سازی کرتی ہے تو نواز شریف کے علاوہ جہانگیر خان ترین بھی ایک مرتبہ پھر پارلیمانی سیاست میں واپس آ سکتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوامی تحریک انصاف کے وجود میں آنے کے بعد تحریک انصاف سے وابستہ عمران کے کئی اہم ساتھی اس کا حصہ بن سکتے ہیں، خصوصاً وہ لوگ جو عمران کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے سے اتفاق نہیں کرتے۔ جہانگیر خان ترین کی طرح چوہدری محمد سرور اور علیم خان بھی عمران خان کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کے ناقد ہیں۔ ویسے بھی ان تینوں کو گلہ ہے کہ عمران نے انہیں ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے فارغ کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر خان ترین کے عمران کی موجودہ کچن کابینہ میں شامل کئی لوگوں سے بھی اچھے تعلقات ہیں اور پارٹی لانچ کرنے کے بعد اس بات کا قوی امکان ہے کہ چوہدری فواد جیسے عمران کے کئی وفادار بھی عوامی تحریک انصاف کا حصہ بن جائیں۔

Related Articles

Back to top button