ججوں اور جرنیلوں کے حوالے سے تیرا اور میرا کی بحث تیز کیوں ہو گئی؟


سینئیر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا یے کہ تحریک انصاف والوں کی جانب سے شروع کی جانے والی "تیرا جج اور میرا جج” اور "تیرا جرنیل اور میرا جرنیل” کی بحث نے پاکستان کو تضادستان میں تبدیل کر دیا ہے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مسئلہ سیاسی ہو یا عدالتی، صحافتی ہو یا انتظامی، ہمارے معاشرے میں تقسیم اس قدر زیادہ ہے کہ فوراً یہ بحث شروع کر دی جاتی ہے کہ یہ جج تیرے ہیں یا میرے۔ انکا کہنا یے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے ریاستی مداخلت پر احتجاج کیا تو ایک بار پھر تضادستان کی تقسیم واضح ہو گئی کیونکہ یہ جائزہ لیا جانے لگا کہ یہ تیرے جج ہیں یا میرے؟ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ میری رائے میں تیرے اور میرے ججوں کی تکرار چھوڑ کر ہمارے جج کہنا، سوچنا اور لکھنا ہی سب سے مناسب ہو گا۔

روزنامہ جنگ اور جیو ٹی وی سے وابستہ سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ یہی تقسیم صحافیوں کے بارے میں بھی اپنا لی گئی ہے۔ انصافیوں نے کچھ کو میرے صحافی اور کچھ کو تیرے صحافی بنا رکھا ہے۔ میرے صحافی جھوٹ، پراپیگنڈا اور فیک نیوز بھی دیں تو واہ واہ اور تیرے صحافی سچ بھی لکھیں تو لفافے۔ یہی حال سیاست دانوں نے بیوروکریسی کا کر رکھا ہے، میرے افسر اور تیرے افسر کی تقسیم ایسی ہے کہ جو نئی حکومت آتی ہے وہ ماضی میں تعینات افسروں کو اپنا دشمن سمجھتی ہے اور اپنے پسندیدہ افسروں کو تعینات کر دیتی ہے۔ بدقسمتی سے جرنیلوں کے بارے میں بھی یہی رویہ ہے کہ ایک زمانے میں انصافی جنرل باجوہ کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے آج کل ان پر الزام لگاتے نہیں تھکتے۔ نونی لیگ والے نونی بھی ججوں، جرنیلوں، افسروں اور صحافیوں کے بارے میں اسی افراط و تفریط کا شکار ہیں، جب تک تضادستان میں یہ تقسیم رہے گی یہاں بہتری نہیں آئے گی ہم سب کو دل بڑا کرنا چاہئے کہ کوئی جج، افسر، جرنیل یا صحافی ہمارے خلاف فیصلہ کر دے یا کچھ لکھ دے تو اسے بھی قبول کرنا چاہئے۔

سہیل وڑائچ کے بقول معاشرے اختلاف کو قبول کرکے زندہ رہتے ہیں، مگر اختلاف کو جرم بنانا، ایک قومی بیماری کے فروغ کے مترادف ہے، یاد رکھیے کل کے دشمن آج کے دوست ہوتے ہیں اور کل کے دوست آج کے دشمن بھی ہوسکتے ہیں، اس لئے کسی بھی شخص، چاہے وہ جج ہو یا جرنیل ،صحافی ہو یا افسر، کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے اسے غلطی کا مارجن دیں ہر ایک کو بے ایمان، بے انصاف اور بکاؤ مال قرارنہ دے دیں، ہو سکتا ہے کہ اس کی ایماندارانہ رائے ہی آپ کے خلاف ہو ۔چھ ججوں کی شکایت کو دیکھیں یہ نہ دیکھیں کہ وہ تیرے جج ہیں یا میرے؟ ان کی شکایت کا ازالہ اور تفتیش ہونی چاہئے نہ کہ ہم ان کے ماضی کو کھنگالنا شروع کردیں۔ سینئیر صحافی ہے مطابق تضادستان تاریخ کے اس موڑ پر ہے کہ جہاں ہمیں اپنے تضادات ختم کرنا ہونگے یہ ’’تیرا، میرا‘‘ مہذب معاشروں میں نہیں چلتا معاشرے کا سب کچھ ہمارا ہوتا ہے۔جس قدر جلدی ہم اس حقیقت کو اپنالیں گے بحیثیت قوم ہمارے لئے اتنا ہی بہتر ہو گا۔ ہماری سب سے بڑی سماجی، انتظامی اور سیاسی خرابی یہی ہے کہ ہر کوئی دوسرے کے کام میں مداخلت کرتا ہے، سماج میں بھی ہمارا ایک دوسرے سے یہی رویہ ہے، اداروں کا بھی آپس میں یہی رویہ ہے ۔فوج، سیاست ،عدلیہ اور صحافت میں مداخلت کرتی آ رہی ہے سیاست دان فوج اور عدلیہ میں مداخلت کرتے آ رہے ہیں اور عدلیہ سیاست پر غلط طورسے اثرانداز ہوتی آئی ہے۔ ایک چیف جسٹس نے تو پوری انتظامی اور فوجی مشینری کو اس قدر بے بس کر دیا تھا کہ وہ خود بے تاج بادشاہ بن گیا تھا چاروں صوبوں کے افسر روزانہ اس کے دربار میں حاضری کے پابند تھے اور وہ اپنی من مرضی کے فیصلے دیکر ملک کو ’’درست‘‘ سمت دینے کی کوشش کرتا تھا،پرائیویٹائزیشن کے عمل کو اس نے سبوتاژ کرکے رکھ دیا ،سیاست کی چولیں ہلا ڈالیں۔

سہیل وڑائچ کے مطابق اسی طرح کئی آمر جرنیلوں نے ملک کی ثقافت، سیاست اور معاشرت کو تباہ کرکے رکھ دیا ۔افسر شاہی بھی حکمرانوں کے چشمِ ابرو پر کام کرتے ہوئے بدعنوانی اور ناانصافی کی مرتکب ہوتی رہی ۔ہم صحافیوں میں سے بھی کئی آمروں کے کاسہ لیس بن کر انکی تعریفوں کے پل باندھتے رہے یہ سب کچھ غلط تھا مگر اس کو درست کرنے کےلئے گلوٹین لگانا، پھانسیوں پر چڑھانا یا ان سے نفرت کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ اس کا حل یہی ہے کہ ماضی کی غلطیوں کی معافی دی جائے اور آئندہ غلطیاں نہ کرنے کا وعدہ کیا جائے۔ جب معاشرہ ہماری طرح کی تقسیم کا شکار ہو تو پھر ہر طبقہ دوسروں کو غلطیوں کا ذمہ دار قرار دیتا ہے مگر خود کو غلطیوں سے مبرا قرار دیتے ہوئے اپنے اعمال کا جواز پیش کر دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم صحافیوں کو لے لیں، ہم میں سے کئی ایک نے مارشل لائوں کے جواز پیش کئے، کسی نے آمر کو اسلام کا سپاہی اور کسی کو روشن خیالی کا امام قرار دیا،اداریوں اور کالموں میں ملک غلام محمد، اسکندر مرزا، ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاالحق اور پرویز مشرف کے اقدامات کی تعریف کی جاتی رہی۔ جرنیلوں نے کسی سیاست دان کو ایماندار نہیں سمجھا ہر ایک پر انگلی اٹھائی حتیٰ کہ مشرقی پاکستان میں اپنی حکمت عملی کی ناکامی کا ذمہ دار بھی مجیب اور بھٹو کو قرار دیا۔ دوسری جانب سیاست دانوں نے کارکردگی نہ دکھانے کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے یہ جواز پیش کیا کہ ہمیں کام کرنے نہیں دیا گیا۔


اسی طرح بیوروکریسی اپنی غلطیوں کی ذمہ داری فوجی اور سیاسی حکمرانوں پر ڈال دیتی ہے حالانکہ اگر معاشرے میں اصلی شعور آجائے تو ہر طبقہ اپنی اپنی غلطیوں کو مانےاوران غلطیوں کو دور کرنے کی کوشش کرے۔ ایک دوسرے کو غلط ٹھہرانے سے مسائل حل نہیں ہونگے مسائل اس دن حل ہونگے جب ہم سب یہ مانیں گے کہ ہم سب سے غلطیاں ہوئی ہیں اب سب نے ہی مل کر انہیں ٹھیک کرنا ہے۔ غلطیوں کو ماننا ہی اصل بہادری اور اصل سچائی ہے کیونکہ دنیا کی جس قوم نے بھی ترقی کی ہے، اس نے پہلے اپنی غلطیوں کو مانا ہے اور پھر ان کو ٹھیک کرنے کی طرف قدم بڑھایا ہے۔

Related Articles

Back to top button