جنرل باجوہ کو برقراررکھنے کے لئے کوئی ترمیم نہیں ہو رہی


باخبر حکومتی اور عسکری ذرائع نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو انکے عہدے پر برقرار رکھنے کیلئے پاکستان آرمی ایکٹ 1953 میں کوئی ترمیم کی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی چیف 29 نومبر کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہونے کا اعلان کر چکے ہیں اور نئے آرمی چیف کی تقرری کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ نئے آرمی چیف کا اعلان اگلے چند روز میں کر دیا جائے گا۔

آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کی افواہوں کا آغاز تب ہوا جب ڈان اخبار کے فرنٹ پیج پر ایک تفصیلی خبر شائع ہوئی جس میں بتایا گیا کہ حکومت نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ کسی فوجی افسر کو توسیع دینے کی بجائے برقرار رکھنے کا راستہ اختیار کیا جا سکے۔ خبر میں کہا گیا تھا کہ اس مجوزہ ترمیم کو وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ خبر کے مطابق پاکستان آرمی ایکٹ کے سیکشن 176 کے متن میں ’ری اپوائنٹمنٹ‘Reappointment کے بعد لفظ Retention ’ری ٹینشن‘ ڈالا جائے گا، اسی طرح لفظ Resign ’ریزائن‘ بھی شامل کیا جائے گا۔

پاکستان کے موقر انگریزی روزنامے نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ اس ترمیم سے جنرل باجوہ کو ان کے عہدے میں توسیع دینے کی بجائے اس عہدے پر برقرار رکھنے کا جواز فراہم کیا جائے گا۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس ترمیم کے ذریعے وزیر اعظم کو یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ آرمی چیف یا کسی بھی سینئر افسر کو جو کہ جلد ریٹائر ہونے والا ہے، آئندہ احکامات تک اپنے فرائض جاری رکھنے کا حکم دے سکتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ موجودہ قانون کے مطابق حکومت آرمی چیف کے دوبارہ تقرر یا مدت ملازمت میں توسیع کے لیے ایک طے شدہ طریقہ کار پر عمل کرتی ہے جس کے تحت وزارت دفاع کے ذریعے سمری جاری کی جاتی ہے جس کی وزیر اعظم سے منظوری کے بعد صدر مملکت کی جانب سے حتمی منظوری دی جاتی ہے۔ لیکن پاکستان آرمی ایکٹ میں مجوزہ تبدیلی کے بعد وزیر اعظم محض ایک سادہ نوٹیفکیشن کے ذریعے آرمی چیف کو ’برقرار‘ رکھ سکیں گے۔

لیکن عسکری اور حکومتی ذرائع نے اس خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی ایکٹ میں ایسی کوئی ترمیم زیر غور نہیں ہے اور نہ ہی جنرل قمر جاوید باجوہ کا 29 نومبر کے بعد بطور آرمی چیف برقرار رہنے کا کوئی امکان موجود ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ڈان اخبار نے وزارت دفاع کا کوئی پرانا کاغذ نکال کر نئی تاریخوں میں فٹ کر دیا ہے جسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں۔

Related Articles

Back to top button