حکومتی ویڈیوز لیک کرنے والے ہیکر کو شٹ اپ کال مل گئی

معروف تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعوی کیا ہے کہ حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف کی آڈیوز لیک کرنے والے خفیہ ہیکر کو شٹ اپ کال دے دی گئی ہے اور اب حکومت بارے مذید کوئی آڈیو کال باہر نہیں آئے گی۔ انکا کہنا تھا کہ سائفر سازش کے حوالے سے عمران خان کی آڈیو کال لیک کرنے کے پیچھے انٹیلی جنس ایجنسیاں ہیں جن کے ذریعے کپتان کو مطلوبہ پیغام دے دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران کی آڈیو لیکس وہ آخری تنکا ہیں جو اس پورے اونٹ کو بٹھا دیں گی۔

نیا دور ٹی وی کے ٹاک شو “خبر سے آگے” میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ نواز شریف وطن واپسی کے لئے تیار بیٹھے ہیں، جس طرح مریم نواز کے خلاف نیب کا کیس اور ان کی سزا ختم ہوئی ہے اسی طرح نواز شریف کے خلاف دائر کیسز بھی ان کے ملک واپس آتے ہی ختم ہو جائیں گے۔ انکے مطابق صرف اقامے والا کیس لمبا چل سکتا ہے اور اسے ختم ہونے میں بھی زیادہ سے زیادہ ایک سال لگے گا کیونکہ اب عدلیہ کے اندر بھی بہت سارے باہمی اور دلیر ججز آ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو دی جانے والی سزا کی حقیقت سے عام لوگ بھی واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کس کے کہنے پر ان کو سزا دی۔ انہوں نے کہا کہ جس شخص کو اقتدار میں لانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کو نکالا تھا وہ اب اپنے ہی خالقوں کے گلے پڑ چکا ہے لہذا اب میاں صاحب کی واپسی کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔

صوبہ پنجاب کی سیاسی صورت حال سے متعلق نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ جلد یا بدیر پنجاب میں مسلم لیگ (ن) حکومت قائم کر لے گی کیونکہ جب تک پنجاب میں ان کی حکومت نہیں بنتی وہ مضبوط نہیں ہوتے اور سیاسی استحکام بھی نہیں آئے گا۔ انکا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی تبدیلی سے متعلق کئی ممکنات ہیں۔ ہو سکتا ہے پرویز الہیٰ وزریر اعظم شہباز شریف اور آصف زرداری کے ساتھ ڈیل کرکے سائیڈ سوئچ کر لیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ (ق) لیگ کے ایم پی ایز چودھری شجاعت حسین کے ساتھ جا کر کھڑے ہو جائیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پنجاب میں گورنر راج لگا دیا جائے۔

نئے آرمی چیف کی تقرری سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کی تعیناتی کے طریقہ کار کے عین مطابق سب سے سینئر جرنیل کو آرمی چیف لگا کر تنازعے سے بچا جا سکتا ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ اپنی پسند کا آرمی چیف کبھی بھی لگانے والوں کے حق میں اچھا ثابت نہیں ہوا۔ اس لئے ذاتی پسند اور نا پسند کو چھوڑ کر سنیارٹی کی بنیاد پر نئے آرمی چیف کی تعیناتی ہونی چاہئیے۔ یاد رہے کہ اس وقت لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں پہلے نمبر پر ہیں جبکہ جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر 2022 کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہورہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button