خود پسند عمران نے پاکستان پر بم گرانے کی بات کیوں کی؟

سابق وزیراعظم عمران خان اس وقت سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کی حالیہ تقریر میں کہا گیا یہ قابل اعتراض فقرہ ہے کہ شہباز شریف کو اقتدار دینے سے بہتر تھا کہ پاکستان پر ایٹم بم گرا کر اسے تباہ کر دیا جاتا۔ یعنی ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں حکمران نہیں تو پاکستان کو تباہ ہو جانا چاہیے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران خان کا یہ بھونڈا موقف ان کی آمرانہ سوچ اور خود پسندی کو ظاہر کرتا ہے۔سیاسی جماعتیں، اپنی ساری خامیوں سمیت، آخری تجزیے میں سماج کے لیے خیر کی قوت ہوتی ہیں۔ یہ اقتدار میں ہوں یا اقتدار سے الگ ہوں، معاشرے کے لیے ان کا وجود فائدہ مند ہوتا ہے۔ اپنے تمام تضادات کے باوجود سیاسی جماعتیں معاشرے کو فکری طور پر متحرک رکھتی ہیں اور اسے شعوری جوہڑ بننے سے روکتی ہیں۔ تحریک انصاف مگر ایک بظاہر اکیلے اجنبی راستے پر چل نکلی ہے۔ لہذا خیر خواہی یہ ہے کہ اسے واپس قومی دھارے میں لایا جائے، لیکن ایسا کرنا تب تک ممکن نہیں جب تک پارٹی سربراہ عمران خان خود اس کام پر آمادہ نہ ہوں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کا رویہ کسی سیاستدان کا نہیں ہے کیونکہ وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، کسی سے بات کرنے کے روادار نہیں ہوتے۔ وہ کسی اور سیاسی قائد یا جماعت کا وجود برداشت کرنے کو تیار ہی نہیں، اسی لئے اب انکا کہنا یے کہ انکی جگہ اقتدار شہباز شریف کو دینے سے بہتر تھا کہ پاکستان پر ایٹم بم گرا دیا جاتا۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اس طرح کا بیان دیتے ہوئے یہ سوچنا چاہیے کہ وہ ایک قومی لیڈر ہیں اور کروڑوں پاکستانیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کی دو بڑی جماعتیں چار برس تک ان کو اقتدار میں برداشت کر سکتی ہیں تو انہیں بھی اپوزیشن میں رہ کر سیاست کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ عمران نے یہ بیان دے کر دراصل پاکستان کے پارلیمانی جمہوری نظام پر اعتماد کیا ہے کیونکہ انکے اقتدار کا خاتمہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہوا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں تحریک انصاف کی قیادت بقائے باہمی کے جملہ تصورات سے بے نیاز ہو چکی ہے۔ وہ سیاسی قوتوں کے ساتھ مل بیٹھ کر بات کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔ تمام حریف سیاسی جماعتوں کی حب الوطنی اسکے نزدیک مشکوک ہے۔ عمران خان کسی بھی ریاستی ادارے سے مطمئن نہیں۔ ہر چیز بازیچہ اطفال بنا دی گئی ہے۔ اعلی ترین عدلیہ کے فیصلوں کی یہ ہجو کہہ رہی ہے۔ الیکشن کمیشن پر بھی اسے اعتبار نہیں رہا۔ میڈیا سے بھی یہ ناراض ہے، اس کا مبلغ عصری شعور یہ ہے کہ میڈیا میں جو ہمارے ساتھ نہیں، وہ لفافہ ہے۔ ہم یاد رہے کہ جب عمران خان حکومت میں تھے تو عدلیہ فوج اور اور دیگر اداروں سے سے مطمئن نظر آتے تھے۔ اب جب وہ اقتدار سے باہر ہیں تو انہیں نہ تو کسی ریاستی ادارے سے کوئی غرض ہے اور نہ ہی پاکستان سے، اور اسی لیے وہ اس پر ایٹم بم گرانے کی بات کرتے ہیں۔

انڈیپینڈنٹ اردو عمران خان کے اس غیر سیاسی رویے کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ قومی دھارے سے کہیں دور، عمران خان کی زیر قیادت، تحریک انصاف اپنے خوابوں کا ایک جزیرہ آباد کر چکی ہے جہاں کسی اور کا داخلہ ممکن نہیں، نہ ہی کسی اور کا وجود گوارا ہے۔ حتیٰ کہ کسی دلیل، قانون، آئین یا اخلاقی ضابطے کا بھی نہیں۔ اس جزیرے میں معیار حق صرف گروہی مفاد ہے۔حقیقت مگر یہ ہے کہ سماج میں جزیرے آباد نہیں ہو سکتے۔ کچھ وقت کے لیے آباد ہو بھی جائیں تو وہ کسی خیر کا باعث نہیں بن سکتے بلکہ زیادہ خطرہ اس بات کا ہوتا ہے کہ ایسے جزیرے معاشرے کے اجتماعی وجود کے لیے پھوڑا نہ بن جائیں۔

تجزیاتی رپورٹ کے مطابق آئین راستے میں آئے تو ڈپٹی سپیکر سے لے کر گورنر پنجاب تک اس سے ایسی بے نیازی اختیار کرتے ہیں کہ خوف آنے لگتا ہے۔ آئین کی اس صریح پامالی پر ملک کی اعلی عدلیہ متحرک ہو تو اس کے خلاف محاذ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ ہائی کورٹ گورنر اور صدر کو ان کی آئینی ذمہ داریاں یاد کراتی ہے تو وہ مان کر نہیں دیتے۔ ہائی کورٹ وزیر اعلی کے حلف کا متبادل راستہ نکالتی ہے تو گورنر صاحب عدالت کے خلاف ریفرنس بھیجنے کو تل جاتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاست بند گلی سے راستے نکالنے کا نام ہے، جبکہ تحریک انصاف کھلے راستوں میں دیواریں چن رہی ہے۔ سیاست بقائے باہمی کا نام ہے، تحریک انصاف اسے ایک غیرضروری تکلف سمجھتی ہے۔ سیاست مکالمے کا نام ہے، تحریک انصاف محض خود کلامی پر مائل ہے۔ سیاست عملیت پسندی کا نام ہے، تحریک انصاف مثالیت پسندی پر بضد ہے۔ سیاست شعور اجتماعی سے راستے نکالنے کا نام ہے، تحریک انصاف کسی’کرپٹ‘ سے بات کرنے کی روادار نہیں۔ آج تو یہ ادا ٹھہری ہے لیکن آنے والے دنوں میں یہ رویہ اسے خدشہ ہے کہ ہر جگہ تنہا کر دے گا۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جزیرے کی آب و ہوا اپنے باسیوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ بات کر کے دیکھ لیجیے، موسموں کی ساری خبر مل جائے گی۔ یہاں کوئی دلیل کار گر نہیں ہوتی، یہاں کوئی ضابطہ کام نہیں آتا۔ جزیرے کے اپنے ہی موسم ہیں، اپنے ہی قانون اور اپنی ہی دلیلیں۔ سب سے بڑا قانون یہ ہے کہ جو ہم نے کہہ دیا وہی حرف آخر ہے اور سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ صرف ہمارا کہا ہی مستند ہے۔ اب کوئی فرد، کوئی قانون، کوئی ضابطہ، کوئی ادارہ جو جزیرے کے قوانین کے مطابق یا اس کے تابع نہ ہو،ا س کے لیے کوئی امان نہیں۔ جزیرے کی فصیلوں پر اقوال زریں لکھے ہیں: اہل سیاست کرپٹ ہیں، صرف ہم نیک پاک ہیں۔ صحافی لفافہ ہیں، صرف ہمارے یوٹیوبر اور سوشل میڈیا ایکٹویسٹ نقیب صبح صداقت ہیں۔ سات براعظموں میں حق صرف ہمارے ساتھ ہے اس لیے دنیا ہمارے خلاف سازش کر رہی ہے، ہمارے علاوہ نہ کوئی شخص راہ حق پر ہے نہ کوئی ادارہ، بس ہم ہی ہیں جو تاریک راہوں میں چراغ جلا رہے ہیں۔اب چراغ جب صرف ہمارے ہاتھ میں ہیں تو پارلیمان کے اندر یا باہر ہم تاریکی کی قوتوں سے بات کیوں کریں؟ چنانچہ برہان تازہ یہ ہے کہ نیوٹرل صرف جانور ہوتا ہے اور جو ہمارے ساتھ نہیں ہوتا وہ غدار ہوتا ہے، کرپٹ ہوتا ہے یا لفافہ ہوتا ہے۔ بیچ کا کوئی مقام تو چھوڑا ہی نہیں گیا۔یعنی اب جو ہمارے ساتھ نہیں ہے وہ یا تو جانور ہے یا بےایمان،سازشی اور غدار۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تمام تر مبالغہ آرائی کے باوجود، تحریک انصاف سماج کا جزو ہے، کُل نہیں۔ تحریک انصاف کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جزیرہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو سمندر کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ سمندر پر سکون رہیں تو جزیرہ قائم رہتا ہے۔سونامی کی لہریں بھی سمندر میں اٹھتی ہیں جزیرے میں نہیں۔ پاکستان ایک ملک ہے، سمندر جیسا۔ بائیس کروڑ عوام، عدلیہ، فوج، سیاسی جماعتیں، میڈیا۔۔۔ بقا کا راستہ ان سب کی نفی سے نہیں، اثبات سے ہو کر گزرتا ہے۔ جزیرے پر اصرار کا یہ رویہ ایک نیشن سٹیٹ کتنا اور کب تک برداشت کر پائے گی؟ کیا یہ پورے معاشرے کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ تحریک انصاف کو واپس قومی دھارے میں لانے کی کوشش کرے، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے؟
قومی دھارے میں لانے کے لیے باہر سے مدد بظاہر ممکن نہیں یہ کوہ کنی معاشرے اور تحریک انصاف کو خود کرنا ہو گی۔

Related Articles

Back to top button